دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

(اگر طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی تو جائز نہیں۔ اور جواہر کے الفاظ یہ ہیں : طلب کرنے سے پہلے نماز شروع کردی تو یہ جائز نہیں۔ ت)بحث علّامہ ابراہیم حلبی سے گزرا لاتصح الصلاۃ بدونہ [1] (اس کے بغیر  نماز درست نہیں۔ ت) ۱۸حلیہ میں زیر  مسئلہ جنب وجد الماء فی المسجد [2] (جنابت والا جسے مسجد میں پانی ملا۔ ت)اسی  مسئلہ سوال از رفیق پر تفریعات میں فرمایا وحیث یجب لایصح تیممہ الابعد المنع [3] جہاں مانگنا واجب ہے اس کا تیمم درست نہیں مگر بعد انکار جن سے لازم کو بے مانگے تیمم ہوگا ہی نہیں تو نماز مطلقًا باطل ہوگی اگرچہ بعد کو ظن عطا کی خطا ظاہر ہوجائے کہ مانگے سے نہ دے۔ ادھر مسئلہ پنجم میں ۱زیادات و۲جامع کرخی و۳محیط سرخسی و۴خلاصہ و۵وجیز و۶شرح وقایہ و۷حلیہ و۸عالمگیریہ و۹بحر اور مسئلہ ہفتم میں حلیہ و۱۰صدر الشریعۃ وغنیہ عــہ۱ وبحر سے روشن ہوا کہ سرے سے بطلان نماز کا حکم صحیح نہیں صحیح ومعتمد ظاہر الروایۃ یہی ہے کہ صرف غلبہ ظن عطا سے نہ تیمم باطل ہو نہ نماز اگر ظن عطا کی خطا ظاہر ہو دونوں صحیح وتام ہیں۔ کتب حاضرہ میں اس صاف تعارض کی طرف کوئی توجہ مبذول نہ ہُوئی۔

وانا اقول :  وبالله التوفیق(میں اللہتعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) مخلص وہی ہے کہ ہم نے تاویل روایت نادرہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمیں ذکر کیا بحال ظن عطا حکم ظاہر وحاضر عدم صحت نمازہے مگر یہ کہ بعد کو مانگے اور نہ دے (عـہ۲)اور بحال شك وظن منع حکم ظاہر وحاضر صحت ہے مگریہ کہ بعد کو مانگے سے یا آپ دے دے بالجملہ اول میں فساد اور ثانی میں صحت کا حکم حکم موقوف ہے ظہور خلاف نہ ہو تو رہے گا ورنہ بدل جائے گا جیسے ۱ صاحبِ ترتیب کو فائتہ یاد اور وقت میں وسعت ہے اور وقتیہ پڑھ لی اس کے فساد کا حکم دیا جائے گا مگر فساد موقوف اگر قبل قضائے فائتہ چار وقتیہ اور پڑھ لے گا اور سب میں پچھلی کا وقت نکل جائے گا سب صحیح ہوجائیں گی اور اگر اس بیچ میں فائتہ کی قضا کرلے گا تو اُس سے پہلے ایك سے پانچ تك جتنی وقتیہ پڑھی تھیں سب کی فرضیت باطل ہوکر نفل رہ جائیں گی کمامصرح بہ فی محلہ (جیسا کہ اس کے موقع پر اس کی صاف صراحت موجود ہے۔ ت) رہا فرق کہ پہلے مسئلے میں اُس کے ظن کا اعتبار رہا اگرچہ واقع اُس کے خلاف ہو اور یہاں نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

اقول :  قریب پانی شرعًا مقدور ہے تو ظنِ قرب عین ظن قدرت ہے اور ظن ملتحق بیقین تو قدرت معلوم تو تیمم شرعًا معدوم اور معدوم صحیح نہ ہوجائے گا بخلاف ظنِ عطا کہ عجز معلوم اور ظن اس کا ہے کہ اگر مانگوں تو دے دے گا اور قدرت نہ ہوگی مگر بعد عطا تو یہ اس کا ظن نہ ہُوا کہ قدرت ہے بلکہ اس کا کہ آئندہ ہوسکتی ہے نظیرماقدمناہ فی مسألۃ الوعد ووجدناالتصریح بہ فی مسألۃ الرجاء فی الکافی والکفایۃ(یہ اسی کی نظیر  ہے جو مسئلہ وعدہ میں ہم نے پیش کیا اور جس کی تصریح ہمیں کافی وکفایہ میں مسئلہ اُمید کے

عــہ۱ :  یہ عبارت قوانین ہیں جن کا حوالہ مسئلہ ہفتم میں ہے ۱۲ (م)

عــہ۲ :   اس میں منع کی پانچوں صورتیں داخل ہیں صراحۃً ہو یا حکمًا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اندر ملی۔ ت) لہذا یہ ظن مناطِ حکم نہ ہوا مگر جب کہ واقع نہ ظاہر ہوکہ ہنگام فواتِ ذریعہ علم فقہیات میں ظن معمول بہ ہے ، اور ایك توجیہ مع اشارہ تضعیف افادہ پنجم صفحہ۶۶۱ طبع اول میں گزری کہ جب تك علم متیسر ہو ظن پر عمل نہیں۔ فتح القدیر  بحثِ استقبال میں ہے :

المصیر(۱) الی الدلیل الظنی وترك القاطع مع امکانہ لایجوز[4] ۔

دلیل قطعی میسر ہونے کے باوجود اسے چھوڑنا اور دلیل ظنی کو لینا جائز نہیں۔ (ت)

مسئلہ قُرب وبُعد میں تحصیل علم بے دقَّت متیسر نہیں لہذا ظن پر مدار رہا اور مسئلہ عطا ومنع میں متیسر لہذا ظن معتبر نہ ہُوا مگر جب کہ درك حقیقت نہ ہو۔

اشرت الٰی ضعفہ بقولی یمکن ان یوجہ اقول :  ووجہ ضعفہ انہ یوجب السؤال عند ظن المنع ایضا فیکون ترجیحا للثانی من اقوال المسألۃ السادسۃ وانما الراجح بل الراجع الیہ الکل بالتوفیق ھو القول الثالث ان لاوجوب الا عند ظن العطاء۔

فان قلت اذن ماالجواب عمامرمن منع بالظن مع تیسرتحصیل العلم اقول :  لاتیسر اذالم یظن العطاء لان السؤال ممن یمنع ذلۃ شدیدۃ وھی مظنونۃ ھنا اومحتملۃ علی سواء وقد نھی عــہ  المشرع المطھر المؤمن عن عرض نفسہ للذل۔                                                                                                            

میں نے “ یمکن ان یوجہ “ (اس کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے) کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اقول : اس توجیہ کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس سے لازم ہوتا ہے کہ انکار کا ظن غالب ہو جب بھی سوال کرے تو اس سے مسئلہ ششم کے اقوال میں سے دوسرے قول کی ترجیح ہوگی جب کہ راجح بلکہ بعد تطبیق سبھی اقوال کا مرجع ومآل تیسرا قول ہے کہ صرف ظنِّ عطا کی صورت میں سوال واجب ہے۔ (ت)

اگر سوال ہو کہ پھر یہ جو گزرا کہ تحصیل یقین میسر ہوتے ہوئے ظن پر عمل جائز نہیں ، اس کا کیا جواب ہے؟ اقول : ظن عطا نہ ہونے کی صورت میں تحصیل یقین میسر وآسان نہیں اس لئے کہ ایسے شخص سے مانگنا جو نہ دے سخت ذلت ہے اور یہاں اس کا یا تو ظن غالب ہے یا احتمالِ مساوی۔ اور شرع مطہر نے مومن کو اس سے روکا ہے کہ وہ اپنی ذات کو معرضِ ذلّت میں لائے۔ (ت)

 

عــہ کماتقدم فی المسألۃ السادسۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

(جیسا کہ مسئلہ ششم میں گزرا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

فان قلت اذن یجب ادارۃ الامر علی ظنہ فی ظن المنع لتعسر تحصیل العلم فتصح صلاتہ وان اعطی بعدفیترجح مافھمہ المحقق من تفریعاتھم فی الخلاصۃ وغیرھاکمامر فی المسألۃ الخامسہ اقول :  وقدکان الاصل ایجاب السؤال لتیسرہ فی نفسہ وانما رفع عنہ لعارض فاذا ظھرت الحقیقۃ عملت عملھا وزال ماکان لعارض وھو اقامۃ الظن مقامھا کماتقدم عن صدر الشریعۃوھذاماوعدنا ثمہ٭ من ان للکلام تتمۃ٭ھذا کلہ ماظھر للقلبی٭ والعلم بالحق عند ربّی٭ ان ربی کل شیئ علیم٭وصلی الله تعالٰی علی الحبیب الکریم٭ واٰلہ وصحبہٖ اولی التکریم٭ والحمدلله رب العٰلمین۔              

اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر تو ظن منع کی صورت میں مدار کا اس کے گمان پر رکھناضروری ہوگاکیونکہ تحصیل یقین دشوار ہے تو اگر وہ بعدمیں دے دے جب بھی اس کی نماز صحیح رہے گی تو راجح وہی ہوگا جو خلاصہ وغیرہا کی تفریعات مشائخ سے محقق علی الاطلاق نے سمجھاجس کا ذکر مسئلہ پنجم میں گزرا اقول : (جوابًا میں کہوں گا) اصل تو یہی تھاکہ مانگنا واجب کیا جائے کیونکہ فی نفسہٖ یہ میسر وآسان ہے اور عارض کی وجہ سے یہ حکم اس سے اٹھا لیا گیا پھر جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو وہ اپنا کام کرے گی اور ظن کو حقیقت کے قائم مقام رکھنے کا جو حکم عارض کی وجہ سے تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا ، جیساکہ صدر الشریعۃ کے حوالے سے بیان ہوا۔ یہی وہ ہے جس کا ہم نے وہاں(افادہ پنجم صفحہ۶۶۲ طبع اول میں)وعدہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن