دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

قاضی(قسم سے ایك بار انکار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ دے دے گا) یہ انکار حقیقۃً ہو(اس طرح کہ وہ کہے میں قسم نہ کھاؤں گا ، یا) حکمًاہو مثلًا وہ گونگے پن اور بہرے پن جیسی کسی معذوری و(آفت کے بغیر  خاموش رہے)یہی صحیح قول ہے۔

سراج۔ اور تین بار قسم پیش کرنا پھر فیصلہ دینا زیادہ محتاط طریقہ ہے اھ۔ علامہ شامی نے فرمایا : یعنی استحبابًا۔ (ت)

اقول : مگر استعمال۱ قرائن ضرور ہے وہ اُس وقت وحالتِ سائل ومسئول عنہ اور ان کے تعلقات سے اُن پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تو سکوت ہے قول صریح میں استعمال قرائن لازم ہے ایك ہی بات حرف بحرف ایك ہی جملہ اور اُس سے کبھی اقرار مفہوم ہوتا ہے کبھی انکار۔ زید۲  نے عمرو سے کہا تُو نے اپنی عورت کو طلاق دی اُس نے نرم آواز ودبے لہجے سے کہامیں نے طلاق دی۔ یہ اقرار ہے طلاق ہوگئی اور اگر اُس نے ترش وگرم ہوکر سخت آواز سے تعجب یا زجر وتوبیخ کے لہجے میں کہامیں نے طلاق دی۔ یہ انکار ہے طلاق نہ ہوئی۔ الفاظ بعینہا وہی ہیں اور حکم اثبات سے نفی تك بدل گیا۔ یوں۳  ہی اگر عورت نے کہا مجھے طلاق دے اس نے نہ مانا عورت نے پوچھا دی ، اس نے جھڑکنے کے لہجے میں سختی سے کہا ی ، طلاق نہ ہوئی ورنہ ہوگئی۔

فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :

امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی فابی فقالت دادی قال دادم ان کان فی قولہ دادم ادنی تثقیل لایقع الطلاق [1]۔

کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا “ مجھے طلاق دے دے “ اس نے انکار کیا۔ پھر عورت نے کہا “ تم نے دی “ اُس نے کہا “ میں نے دی “ ۔ اگر شوہر کے قول میں کُچھ گرا نباری ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)

یونہی۴ شوہر نے گواہوں کے سامنے عورت سے کہا : اللہتیرا بھلا کرے تُو نے مجھے مہر بخش دیا۔ وہ بولی ہاں میں نے بخشا عــہ ہاں میں نے بخشا ، گواہوں نے کہا کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے مہر بخش دیا۔ بولی ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں گواہو جاؤ۔ علما فرماتے ہیں اس کے یہ الفاظ اقرار وانکار دونوں کو محتمل ہیں گواہ اس کی

عــہ فتاویٰ نسفی پھر فتاوٰی ذخیرہ پھر فتاوٰی ہندیہ میں دو۲بار کی قید نہ لگائی اور گواہوں کے جواب میں عورت کا یہ قول بتایا کہ ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ اقول : یہ لفظ معنی طنز کی طرف زیادہ مائل ہے عالمگیری کی عبارت کتاب الٰہیہ باب ۱۱ میں یہ ہے :

فی فتاوی النسفی رجل قال لامرأتہ بین یدی

فتاوٰی امام نسفی میں ہے کہ ایك شخص نے (باقی برصفحہ آئندہ)

طرز سے پہچانیں گے کہ تحقیق مقصود ہے یا طنز سے کہہ رہی ہے۔ وجیز امام کردری کتاب النکاح فصل ۱۲ میں ہے :

قال لھا عند الشھود جزاك الله تعالٰی خیرا وھبت المھر فقالت [2] آرے بخشیدم مرتین فقال الشھود لھا انشھد علی ھبتك فقالت مرتین[3] آرے گواہ باشید فھذایحتمل الردوالاجابۃ والشھود یعرفون ذلك ان قالت علی وجہ التقریر  حملت علی الاجابۃ والاعلی الرد [4]۔                                     

بیوی سے گواہوں کے سامنے کہا خدا تجھے جزائے خیر  عطا فرمائے تُو نے مجھے مہر بخش دیا ، وہ بولی “ ہاں میں نے بخش دیا “ دوبار کہا۔ اس پر گواہوں نے کہا کہ کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے بخش دیا۔ وہ دو۲ بار بولی “ ہاں گواہ ہوجاؤ “ ۔ تو اس میں رَد وقبول دونوں کا احتمال ہے۔ گواہان اس کی شناخت کرسکیں گے۔ اگر اس نے بطور اثبات کہا تو قبول پر محمول ہوگا ورنہ رَد پر محمول ہوگا۔ (ت)

فلہذااگر قرینہ سابقہ۱ یا حاضرہ یا لاحقہ دلالت کرے کہ یہ سکوت بروجہ منع نہ تھا تو حکم انکار میں نہ ٹھہرے گا۔ قرینہ سابقہ یہ کہ اُس کی عادت معلوم ہے کہ سوال اگرچہ مانے سکوت کرتا اور کام کردیتا ہے تو جب تك نہ دینا متحقق نہ ہو ایسے کا سکوت دلیل منع نہ ہوگا۔ قرینہ حاضرہ یہ ہے کہ اُس وقت وہ کسی امر عظیم میں مشغول ہے یا وظیفہ پڑھ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

الشھود غفرالله لك حیث وھبت لی المھر الذی لك علی فقالت آرے بخشیدم فقال الشھود ھل نشھد علی ھبتك فقالت ہزارتن گواہ باشید قال یعرف الرد والتصدیق فی اثناء کلامھا فےحمل علی ماترون کذا فی الذخیرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)                 

گواہوں کے سامنے اپنی عورت سے کہا اللہتیرا بھلا کرے کیا تُو نے مجھ پر لازم اپنا حق مہر بخش دیا؟ تو عورت نے کہا : ہاں میں نے بخش دیا۔ اس پر گواہوں نے کہاکیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے اپنا حق مہر بخش دیا۔ عورت نے کہا ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ فرمایا اس صورت میں عورت کے طرزِ کلام سے انکار یا تصدیق کی پہچان ہوگی اس کو اس پر محمول کیا جائے گا جو تم غور کے بعد نتیجہ اخذ کرو ذخیرہ میں ایسے ہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

رہا ہے یا پریشان ہے یا کسی بات پر سخت غصہ میں ہے کہ ان حالات کا سکوت دلیل منع نہیں ہوتا۔ قرینہ لاحقہ یہ کہ اُس وقت کی حالت سے تو کُچھ ظاہر نہ ہوا مگر تھوڑی دیر  بعد وقت کے اندر وہ پانی لے آیااگرچہ یہ اتنی دیر  میں جلدی کر کے اُس کی نگاہ سے جُدا نماز تیمم سے پڑھ چکا ہوکہ وقت پر دینا صریح اجابت ہے تو منع کہ سکوت سے مفہوم ہوتا تھا صریح کے معارض نہ ہوگا۔ فتاوٰی۱  امام قاضی خان وغیرہا میں ہے : الصریح یفوق الدلالۃ [5] (صریح ، دلالت سے بڑھا ہوا ہے۔ ت) اور یہ نہ ٹھہرائیں گے کہ وہ سکوت بفرض منع ہی تھا پھر رائے بدل گئی کہ یہ خلاف اصل ہے ، حلیہ میں ہے :

فان قلت من الجائز تبدل حال المسئول قلت الاصل عدم التبدل فیجری علیہ مالم یتم الدلیل علی خلافہ ولم یوجد[6]۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہوسکتا ہے جس سے سوال ہوا اس کی حالت بدل گئی ہو۔ میں کہوں گا۔ اصل عدم تبدل ہے تو وہ امر اسی پر جاری ہوگا جس کے خلاف پر دلیل تام نہ ہُوئی اور نہ پائی گئی۔ (ت)

اقول :  تفصیل۲  مقام بتوفیق العلّام یہ ہے کہ سکوت کے بعدیا ۱تو وہ اصلًا نہ دے گا یا۲اس نماز کا وقت نکل جانے کے بعد دے گا یا ۳وقت میں دے گا مگر بعد اس کے کہ یہ تیمم سے پڑھ چکا یوں کہ اسے تیمم کرتے اُس سے نماز پڑھتے دیکھا اور اُس وقت پانی نہ دیا یا ۴ اس پر مطلع نہ ہوکر دیا یا ۵عین نماز میں دے گا یا ۶نماز سے قبل۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں ان میں پہلی کا حکم تو ظاہر ہے کہ دلالت منع کا کوئی معارض نہ پایا گیا بلکہ اُس کا ثبوت ہوگیا تو نماز وتیمم دونوں صحیح رہے اور اخیر  دو۲ بھی قابلِ بحث نہیں کہ جب ختم نماز سے پہلے پانی مل گیا آپ ہی وضو کرکے پڑھنے کا حکم اور چہارم کا حکم ابھی گزرا کہ اجابت ہے باقی دو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن