30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : وتم علی مسألۃ الوعد تفریعا وتاصیلا٭ فمعلوم قطعا بداھۃ ان الوعد لایحصّل وانما یرجّی وقد نقرر فی المذھب ان راجی الماء یجوز لہ التیمم ولایجب علیہ التأخیر وان زعم الاٰن زاعم ان الوعد محصّل للشیئ فی الحال فقد صادم بداھۃ غیر مکذوبۃ وای وعد مثل وعد الله ورسولہ جل وعلا وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم وتلك الجنۃ قدوعدھا المتقون افتراھم دخلوھا الاٰن وتنعما بنعیمھا فی الدنیا وحصلوا الحور اور دُوری کا یقین یا ظن غالب ہونے کی صورت میں اس کے عدم پر دلیل موجود ہے۔ تو اس کا حکم جواز تیمم جو شرعًا ثابت تھا زائل نہ ہوگا مگر ایسے یقین فقہی سے جو اسی کے مثل ہو اس طرح کہ اسے قرب کا ظن ہوجائے اور جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں (قرب کا ظن نہیں تو حکم عجز کا زوال یعنی عدم جوازِ تیمم بھی نہیں ۱۲م۔ الف) اس لئے کہ اس کا یہ گمان کا کہ وہ آئندہ قریب ہوجائے گا ، کوئی اعتبار نہیں ، نہ ہی اس کے یقین ہی کا کوئی اعتبار ہے اور پانی تك پہنچنے کی اُمید میں یہی گمان یا یقین پایا جاتا ہے۔ ہر وقت پانی قریب ہونے کا گمان جو تیمم سے مانع اور عجز ظاہر کا معارض ہے یہ نہیں پایا جاتا یہ اس تعلیل سے متعلق تاویل کی تقریر ہوئی اور عبارت میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو اس تاویل کی تردید کرتا ہو تو کلام کو اسی پر محمول کرنا لازم ہے۔ خدا ہی کیلئے ساری خُوبیاں ہیں اس سے مسئلہ امید کے حکم اور تعلیل دونوں ہی سے متعلق اشکال حل ہوگیا۔ (ت)
اقول : اور تفریع وتاصیل کے لحاظ سے مسئلہ وعدہ یہاں پر تمام ہُوا اس لئے کہ قطعًا بداہۃً معلوم ہے کہ وعدہ پانی حاصل نہیں کرادیتا۔ پانی حاصل ہونے کی صرف اُمید پیداکرتا ہے۔ اور مذہب میں یہ طے شدہ ہے کہ پانی کی امید رکھنے والے کیلئے تیمم کرلینا جائز ہے اور اس پر نماز مؤخر کرنا واجب نہیں اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وعدہ فی الحال شیئ کو حاصل کرادےتا ہے تو وہ ناقابل تکذیب بداہت سے تصادم میں مبتلاہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وعدے جیسا کون سا وعدہ ہوسکتا ہے اور متقیوں سے اس
والقصور٭ والالبان والخمور٭ والحریر٭ والسریر٭ ھذہ سفسطۃ ظاھرۃ فاذا کان ھذا فی مواعید العباد٭ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصر الی کنہ ھذہ المسألۃ ولم ارمن تکلم فیھا لکشف خافیھا غیر انہ لیس لنامع نص فی المذھب مجال مقال فالمسألۃ مسلمۃ قطعا لکونھا منصوصا علیھا فی الاصل کماعزاہ لہ فی الخلاصۃ لکن لادلالۃ لھا ولالشیئ مماعلمتُ من من فروع المذھب وتعلیلا تھا علی کون الوعد یثبت قدرۃ مستندۃ بل الذی لاح من الدلیل یقضی باقتصارھا کما علمت فانا استخیر الله تعالٰی فیہ وحاش لله لااقطع القول بہ ولااجعلہ حکما وانما اقول کماقلت ھذا ماظھر٭ فلیراجع ولیحرر٭ والله سبحٰنہ ومولٰنا واٰلہ وصحبہٖ وسلم اٰمین۔
جنت کا وعدہ ہوا ہے توکیا وہ ابھی جنّت میں داخل ہوگئے اور اس کی آسائشوں کی لذت دنیاہی میں پاگئے اور حُور وقصور ، شیر وشراب ، ریشم وتخت سب ابھی حاصل کرلئے یہ کھلا ہوا سفسطہ ہے تو جب یہ اس کے وعدہ کا معاملہ ہے جس سے وعدہ خلافی محال ہے تو بندوں کے وعدوں کا کیا حال ہوگا۔ المختصر میرافہم قاصر اس مسئلہ کی تَہ تك نہ پہنچ سکا نہ ہی کوئی ایسا نظر آتا جس نے اس مسئلہ کا راز سربستہ کھولنے کیلئے اس میں کلام کیا ہو مگر یہ نصّ مذہب ہوتے ہوئے ہمیں مجال کلام نہیں۔ مسئلہ تو قطعًا مسلّم ہے کیوں کہ اصل میں اس پر نص موجود ہے جیسا کہ خلاصہ نے اس کا حوالہ دیا لیکن یہ مسئلہ اور مذہب کے جتنے بھی مسائل وجزئیات اور ان کی تعلیلات میرے علم میں آئیں کسی کی کوئی دلالت اس پر نہیں کہ وعدہ سے قدرت مستندہ ثابت ہوتی ہے کہ بلکہ دلیل سے جو کچھ ظاہر ہُوا وہ اسی کا مقتضی ہے کہ اس سے قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی جیساکہ (تنبیہ سوم کے شروع میں)معلوم ہوا۔ تومیں خداتعالی سے اس بارے میں استخارہ کرتا ہُوں اور خدا ہی کیلئے پاکی ہے ، میں اس بارے میں قطعی قول نہیں کرتا ، نہ ہی اسے کوئی حکم قرار دیتا۔ میں اب بھی وہی کہتا ہوں جو پہلے کہہ چکاکہ یہ وہ ہے کہ جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور تنقیح وتحقیق کی ضرورت ہے اور خدائے پاك وبرتر ہی خُوب جاننے والا ہے۔ اور اللہتعالٰی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی اور ان کی آل واصحاب پر الٰہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ چہارم : اقول : ۱ ظاہرًا وعدہ کی مثبت قدرت ماناگیا ہے اُس میں شرط ہے کہ یا تو مطلق ہو مثلًا دُوں گا یا وقت حاضر سے مقید مثلًا ابھی دیتا ہُوں نہ وہ کہ وقت آئندہ سے مقید ہو مثلًا کل دُوں گا یا شام کو لینایا گھنٹہ بھر بعدملے گا اور وقت میں نصف ہی گھنٹہ ہے ایسا وعدہ اصلًا مثبت قدرت نہ ہوگا قبل نماز ہو یا بعد کہ وہ حقیقۃً دو۲ چیزوں سے مرکب ہے وقت حاضر میں منع اور وقت آئندہ کیلئے امید دلانا تو وقت حاضر کیلئے منع ہی ہُوا نہ وعدہ ورنہ لازم ہوکہ اگر وہ کہے دس برس بعد دُوں گا تو دس برس تك اسے نماز سے معطل رہنے کا حکم ہو کماتقدم تقریرہ فی التنبیہ الثانی وھذاظاھرجدا (جیسا کہ تنبیہ دوم میں اس کی تقریر پیش ہُوئی اور یہ بہت واضح ہے۔ ت)
بالجملہ ایسا وعدہ بنظر وقت حاضر منع ہے تو اگر پہلے ظن عطا تھا اُس کی خطا ثابت ہوگی اور ظن منع تھا تو اس کی تصدیق ہوگی اور شك تھا تو علمِ منع سے بدل جائے گا والله تعالٰی اعلم اس وعدے کا نام وعدِ ابائی رکھئے اور مطلق یامقید بوقت حاضر کا نام وعدِ رجائی۔
تنبیہ پنجم : اقول : ۱ وعدہ رجائی اگر قبل نماز ہو ضرور مطلقًا مؤثر ہے اگر تیمم سے پہلے ہے تیمم کا مانع ہوگا اور بعدہے تو اس کا ناقض اور عین نماز میں ہے تو اس کا مبطل اگرچہ وفا ہو یا نہ ہو یعنی وقت گزر جائے اور پانی نہ دے کہ ہمارے ائمہ نے انتظار واجب فرمایااگرچہ وقت نکل جائے لیکن۲ اگر یہ وعدہ بعد نماز ہو خواہ یوں کہ اس نے مانگا ہی بعد یا اصلًا نہ مانگا اور اس نے بطورِ خود وعدہ کرلیایہاں دو۲ صورتیں ہیں اگر وقت کے اندر دے دیا ضرور اعادہ نماز کرے گا۔
فان العطاء فی الوقت مبطل مطلقا ولوبلا وعد ومازادہ الوعد الاتأییدا۔
فان قلت کیف ولایخلوا لوعد عن منع فی الحال لان حاصلہ لااعطیك الاٰن بل بعد حین فان من یجیب من فورہ فیم یعد فھذا عطاء بعداباء فلایعتبر۔ اقول : الوعد لوقت الحاجۃ لایعد منعاعرفاولاشرعا فمن حلف(۳) لایمنع زیدا کذا فسألہ زید
اس لئے کہ وقت میں دے دینا مطلقًا باطل کردیتا ہے اگرچہ بلاوعدہ ہو۔ وعدہ بھی ہوا تو اس کی اور زیادہ تائید ہی ہُوئی۔ (ت)اگر یہ سوال ہو کہ یہ کیسے جب کہ وعدہ حال میں منع سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ تم کو ابھی نہ دُوں گا کچھ بعد میں دُوں گا ، کیونکہ جو فورًا کام کردے وہ وعدہ کس بات کا کرے گا۔ تو یہ انکار کے بعد دیناہے لہذا اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)اقول : (جوابًا میں کہوں گا)ضرورت کے وقت دینے کا وعدہ عرفًا منع نہیں شمار ہوگا ، نہ ہی شرعًا۔ اگر کسی نے قسم کھائی زید سے فلاں چیز
فوعدہ لوقت حاجتہ لایحنث قطعا وبہ تبین ان الوعد غیرالعطاء ایضا فلو(۱)حلف لایعطی لایحنث بمجرد الوعد ایضافھوامربین بین فکما لاتثبت ایضا احکام العطأ بل الرجاء کماذکرنا ولکن العبرۃ بالمنقول وان لم یظھر للعقول۔
کا انکار نہ کروں گا۔ اب زید نے اس سے وہ چیز طلب کی۔ اس نے وعدہ کیا کہ جب ضرورت ہوگی دے دوں گا تو ہرگز اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وعدہ اور ہے دینا اور۔ اگر قسم کھائی کہ فلاں چیز اسے نہ دے گا تو صرف وعدہ کرنے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ وعدہ ایك درمیانی امر ہے تو جیسے اس کیلئے منع کے احکام ثابت نہ ہوں گے ایسے ہی عطا کے احکام بھی نہ ثابت ہوں گے بلکہ رجا کے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ لیکن اعتبار منقول کا ہے اگرچہ عقلوں پر واضح نہ ہو۔ (ت)
اور اگر وقت میں نہ دیا تو دوصورتیں ہیں یا تو اس کا خُلف ظاہر ہوگا کہ وقت گزر گیا اور قصدًا نہ دیا تو یہ وعدہ مؤثر نہ ہوگا۔
لانہ لم یعط ومااعطاہ الوعد من ظن الاعطاء زال بالخلاف ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ فان کان قبلہ یظن عطاء فقد خاب اومنعا فقدصدق اویشك فتبدل بعلم المنع۔
اس لئے کہ اس نے دیا نہیں اور وعدہ نے جو ظنِ عطا بخشا تھا وہ وعدہ خلافی سے ختم ہوگیا اور ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کی غلطی واضح ہو۔ اگر پہلے اسے عطا کا گمان تھا تو وہ ناکام ہوا ، یا منع کا گمان تھا تو سچ ہوا ، یا شك تھا تو وہ منع کے یقین سے بدل گیا۔ (ت)
اور اگر اُس کا خُلف ظاہر نہ ہوا ، مثلًا وعدہ یوں تھا کہ دو۲ گھڑی بعد آکر لے جانایہ نہ گیا وقت کے اندر اسے یا اسے کہیں جانے کی ضرورت لاحق ہوئی یوں افتراق ہوگیا اور نہ دے سکا تو اس صورت میں ظاہر یہ ہے والله تعالٰی اعلم کہ مطلقًا اعادہ نماز کا حکم ہو۔
فان الحقیقۃ بقیت فی السترفدارالامرعلی الظن فان کان یظن العطاء فقدتضاعف بالوعدوان کان یظن المنع فقد تضعف بل اضمحل بہ لان الوعد یورث ظن العطاء قطعا کماقال الامام محمد ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع