دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کافی میں فرمائی۔ انہوں نے ہدایہ کی تعلیل سے ہٹ کر خود ایك انتہائی عمدہ تعلیل پیش کی ، فرماتے ہیں : ایك مسافر ہے جس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس کے قریب پانی ہے تو تلاش کرنا واجب ہے۔ غلبہ ظن یا کسی کے بتائے بغیر  تلاش واجب نہیں اس لئے کہ پانی نہ ہونا حقیقۃًاور ظاہرًا ثابت ہے کیونکہ بظاہر ایسی کوئی دلیل نہیں جو پانی ہونے کاپتادے اس لئے کہ بیابانوں میں ظاہر پانی کا نہ ہونا ہی ہے۔ آبادیوں کا حال اس کے برخلاف ہے۔ اگر آبادیوں کے اندر پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرلے تو جائز نہیں۔ اس لئے کہ نہ ہونااگرچہ حقیقۃً ثابت ہے مگر ظاہرًا ثابت نہیں کیونکہ پانی ہونے کی دلیل آبادی-- موجود ہے وجہ یہ ہے کہ آبادیوں کا قیام پانی سے ہوتا ہے __اسی طرح اگر پانی کا غلبہ ظن ہو یا کوئی مخبر خبر دے (تو بھی پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم جائز نہیں)کیونکہ غالب رائے وجوبِ عمل کے حق میں یقینی ومتحقق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے اخبار آحاد ، قیاسات ، تاویل وتخصیص یافتہ آیات اور بنیات وگواہان سے وجوبِ عمل ثابت ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ اگر غالب رائے کو یہاں متحقق کی حیثیت حاصل ہوئی تو اس صورت میں نماز کو مؤخر کرنا واجب ہوتا جب اسے اس بات کا غالب

للعبد الضعیف فیماذکرت ونحوہ فی الکفایۃ فقدظھران مسألۃ الرجاء لیس المراد فیھامن رجا لاجل القرب فانہ لایجوز لہ التیمم اجماعا بل من رجا الوصول فی اٰخر الوقت مع بعدہ الاٰن فھذا لیس بظن القرب بل ظن انہ سیقرب فلایعتبر(۱) ولایعکر علیہ بمسألۃ ظن القرب وقدصرح بکونھاموضوعۃ فی بعد المسافۃ فی غیر  ماکتاب معتمد ففی الدرایۃ ثم الشلبیۃ ھذاالاستجاب اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ میل اواکثر فان کان اقل لایجزیہ التیمم وان خاف فوت وقت الصلاۃ [1] اھ ومثلہ فی البحرونحوہ فی الدروفی البنایۃھذا اذاکان الماء بعیداوان کان قریبا لایتیمم وان خاف خروج الوقت قال الفقیہ ابوجعفراجمع اصحابنا الثلثۃ علی ھذا [2] اھ ثم قال اعنی العینی وقیل اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ [3] الٰی اٰخر ماقدمنا عن الدرایۃ۔                                                                                                  

گمان ہوتاکہ آخر وقت میں اسے پانی مل جائے گا۔ تو ہم جوابًا کہیں گے کہ یہ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ایك روایت ہے کہ نماز مؤخر کرناواجب ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ کچھ دیر  بعد پانی کے قریب ہوجائے گا اور یہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ بروقت پانی کے قریب ہے اھ امام نسفی کا مبارك کلام ختم ہوا۔

یہ بحمداللہتعالٰی بعینہٖ وہی بات ہے جو بندہ ضعیف کے ذہن میں آئی جیسا کہ سابقًا ذکر کیا اسی کے ہم معنٰی کفایہ میں بھی ہے تو یہ واضح ہوگیاکہ مسئلہ امید میں یہ مراد نہیں کہ جسے قُربِ آب کی وجہ سے امید ہو کیونکہ اس کے لئے بالاجماع تیمم جائز نہیں بلکہ جسے امید ہے کہ آخر وقت میں پانی کے پاس پہنچ جائے گا باوجود یکہ اس وقت پانی سے دُور ہے تو اسے قرب آب کا گمان ہی نہیں بلکہ یہ گمان ہے کہ وہ آئندہ پانی کے قریب ہوجائےگاتو یہ گمان معتبر نہیں اور اس پر ظنِّ قرب کے مسئلہ سے کوئی گرد نہیں ڈالی جاسکتی۔ متعدد معتمد کتابوں میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ مسئلہ اُمید بُعدمسافت کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ درایہ پھر شلبیہ میں ہے : “ یہ استحباب اُس وقت ہے جب اس کے درمیان اور اس جگہ کے درمیان جہاں پانی کی امیدہے ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اگر اس سے کم ہو تو اس کیلئےتیمم جائز نہیں اگرچہ وقتِ نماز نکل جانے کا خطرہ ہو “ ۔ اسی کے مثل بحر میں اور اس کے

اقول :  (۱)ولاادری ماالفرق بینہ وبین ماقال ھذا اذاکان الماء بعیداالخ حتی جزم بذلك ومرّض ھذا وجعلہ قولا اٰخر مع انہ لاتفاوت الا فی اللفظ۔

اقول : (۱) وقد تقدم نص الخلاصۃوتقریر  الائمۃالجلۃ ان الظن والیقین فی ذلك سواء لا یجب علیہ التأخیر  وان تیقن بوجدان الماء فی اٰخر الوقت وتلك النادرۃ حیث اوجبت فی الظن فالیقین اولٰی فقدظھر ان الواقع من المحامل الاربعۃ ھو الثانی وان کان ابعد بالنظر الٰی ظاھر

العبارۃاما قول النادرۃ غالب الرأی کالمتحقق قلنانعم ولوکان متحققالم یؤثر لانہ انما تیقن انہ سیقرب لاانہ قریب وبھذا یعوِزُ الاشکالُ علی تعلیل الھدایۃ لظاھر الروایۃ۔

اقول :   وایضا یمکن حملہ علی المحمل الرابع فان من جھل                                                                                                                                                                                                   

ہم معنیٰ دُرمختار میں ہے اور بنایہ میں اس طرح ہے : “ یہ اُس وقت ہے جب پانی دُور ہو۔ اگر قریب ہو تو تیمم نہ کرے اگرچہ اسے وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو ، فقیہ ابُو جعفر نے فرمایا : اس پر ہمارے تینوں اصحاب وائمہ کا اجماع ہے “ اھ۔ آگے علامہ عینی صاحبِ بنایہ لکھتے ہیں : “ اور کہاگیا جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان جہاں اُسے پانی کی امیدہے اس کے آخر تك جو ہم نے درایہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)

اقول :  پتا نہیں ان کے کلام “ یہ اُس وقت ہے جب پانی دُور ہو الخ اور اس کلام میں فرق کیا ہے کہ انہوں نے اُس پر تو جزم کیااور قیل(کہا گیا)سے اس کی تمریض وتضعیف کی اور اسے ایك الگ قول بنادیا جب کہ دونوں میں سوائے الفاظ کے کوئی تفاوت نہیں۔ (ت)

اقول : خلاصہ کی عبارت اور بزرگ ائمہ کی تقریرپہلے گزر چکی کہ ظن ویقین اس بارے میں یکساں ہیں۔ اس پر نماز مؤخر کرناواجب نہیں اگرچہ آخر وقت میں پانی ملنے کایقین ہو اور اس روایت نادرہ نے جب ظن کی صورت میں واجب کیاتو یقین تو اس سے بڑھا ہُوا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ امام بخاری کے پیش کردہ چاروں محملوں میں سے واقع محمل دوم ہے اگرچہ ظاہر عبارت کے لحاظ سے بعید تر معلوم ہوتا ہے اب رہا روایت نادرہ سے متعلق یہ قول کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے۔ ہم کہتے ہیں ہاں اور اگر یہ یقینی ومتحقق ہو جب بھی مؤثر نہیں اس لئے کہ اسے صرف اسی بات کا یقین ہُواکہ آئندہ وہ قریب ہوگا ، اس کا نہیں کہ وہ قریب ہے۔ اسی سے ظاہر الروایہ سے متعلق ہدایہ کی تعلیل پر پیش آنے والا اشکال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)اقول : اسے محمل چہارم پر بھی محمول کیاجاسکتا ہے۔ اس لئے کہ جو مسافت سے

المسافۃجازلہ التیمم فی المفاوز وان کان یرجو الوصول الیہ فی اٰخر الوقت کماقدمناہ اٰنفا عن البدائع وذلك لان المانع عن التیمم ھو قرب الماء یقینا اوظنا غالبا وقد انتفیا والجواب عن دلیل النادرۃ والاشکالُ علی تعلیل الھدایۃ کماکان لان ھھنا ایضا یباح لہ التیمم وان تیقن الوصول الیہ فی اٰخرالوقت کما اسلفنا تقریرہ تحت عبارۃ البدائع المذکورۃ الٰی ھھنا ظھرانحلال الاشکال عن الحکم واستبان الفرق بین مسألتی الرجاء وظن القرب۔

اما تعلیل الھدایۃ فاقول :  التأویل٭خیر  من التعطیل٭یمکن ان یؤول بان المراد بالیقین ھو الیقین الفقھی الشامل لغلبۃ الظن فلیس المقصود التفرقۃ ھھنا بین الظن والیقن لماعلمت انھما سواء ھھنا علی کلتا الروایتین وانما المعنی انکار ان یکون لہ اثرھھنا وذلك ان العجز ثابت حقیقۃشرعا لانعدام الماء حقیقۃ وظاھرًا لعدم الدلیل علی قربہ ان جھل المسافۃ وقیام الدلیل علی عدمہ ان علم اوظن البعد فلایزول حکمہ الثابت شرعا وھو جواز التیمم الابیقین

ناواقف ہو اس کیلئے بیابانوں میں تیمم جائز ہے اگرچہ امید رکھتا ہو کہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا ، اسے بدائع کے حوالہ سے ہم ابھی پیش کر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ تیمم سے مانع پانی کا قریب ہونا ہے بطور یقین یا بطور ظن غالب اور یہ دونوں ہی امر یہاں مفقود ہیں۔ اور روایت نادرہ کی دلیل کا جواب اور ہدایہ کی تعلیل پر اشکال جیسے پہلے تھا اب بھی رہے گا۔ اس لئے کہ یہاں بھی تیمم اس کیلئے مباح ہے اگرچہ آخر وقت میں پانی تك پہنچے گااسے یقین ہے جیسا کہ اس کی تقریر  ہم بدائع کی مذکورہ عبارت کے تحت کر آئے  یہاں تك دو باتیں طے ہوگئیں ایك تو حکم پر جو اشکال تھا اس کا حل واضح ہوگیا دوسرے مسئلہ امید اور مسئلہ ظنِ قرب کے درمیان فرق روشن ہوگیا۔ (ت)

اب رہا تعلیل ہدایہ کا معاملہ فاقول (تو میں کہتا ہوں) کسی کلام کی تاویل کرنا اسے لغو وبیکار کرنے سے بہتر ہے اس کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ یقین سے مراد یقین فقہی ہے جو غلبہ ظن کو بھی شامل ہوتا ہے کہ یہاں ظن ویقین کے درمیان فرق کرنا مقصود نہیں اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ یہاں دونوں ہی روایتوں پر ظن ویقین یکساں ہیں مقصود صرف اس بات کا انکار ہے کہ یہاں وہ یقین کچھ اثر انداز ہے وہ اس لئے کہ عجز حقیقۃً ثابت ہے ، شرعًا اس لئے کہ پانی حقیقت میں معدوم اور ظاہرًا اس لئے کہ مسافت سے ناآشنائی کی صورت میں پانی کے قریب ہونے پر کوئی دلیل نہیں ،

فقھی مثلہ بان یحصل لہ ظن القرب واذلیس فلیس فانہ لاعبرۃ بظن انہ سیقرب ولاباستیقانہ وانماھذاھوالحاصل فی رجاء الوصول اوتیقنہ دون ظن القرب المانع عن التیمم المعارض للعجزالظاھرفھذا تقریرہ ولیس فی العبارۃ ماینکرہ فوجب الحمل علیہ فقد انحل الاشکال ولله الحمد عن مسألۃ الرجاء حکما وتعلیلا٭

 



[1]   الشلبی علی الکنز مع تبیین الحقائق  باب التیمم  مطبعۃ امیریہ مصر     ۱ / ۴۱

[2]   البنایہ شرح ہدایہ  باب التیمم ملك سنز  فیصل آباد ۱ / ۳۲۵

[3]   البنایہ شرح ہدایہ  باب التیمم مطبعۃالامدادمکۃالمکرمہ    ۱ / ۳۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن