30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی اٰخر الوقت لاھد من الاسباب المذکورۃ المغایرۃ لقرب الماء والظاھرۃ تقول لاعبرۃ بغلبۃ الظن بوجد انہ بھاانما العبرۃ للیقین بہ وھو مورد کلا الایرادین کماکان فانھم نصوا ان ظن القرب یمنع التیمم فقد اعتبروا الظن ثمہ فکیف الغوہ ھنا ونصوا(۱)ان عندبعدالماء میلا یجوزلہ التیمم من دون تفصیل مع القطع بانہ ربما یتیقن بلوغہ الماء فی اٰخرالوقت فلم یعتبروا الیقین ثمہ فکیف اعتبروہ ھنا فثبت ان سعیہ رحمہ الله تعالٰی ھذالم یرجع الٰی طائل٭وتعجبہ من اولئك الجلۃ الٰی نفسہ الکریمۃ اٰئل٭
ثمّ اقول : لعلك قدتفطنت مما القینا علیك ان الایرادالاخیراعنی علی صورۃ الیقین بمسألۃ البعدمیلا انما یرد علی ماعلل بہ فی الھدایۃ ظاھر الروایۃ اما نفس المسألۃ فلاغبار علیھامن جھتہ فان المذھب عدم وجوب التاخیرظاناکان اومستیقناکماتقدم التصریح بہ عن الخلاصۃ بنقل الائمۃ
مذکورہ اسباب میں سے کسی ایك کی وجہ سے آخر وقت میں پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں تیمم واجب کرتی ہے اور روایت ظاہرہ یہ بتاتی ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے پانی ملنے کے غلبہ ظن کاکوئی اعتبار نہیں۔ اعتبار تو صرف اس یقین کا ہے کہ پانی مل جائےگا اس حاصل پر دونوں اعتراض جیسے پہلے وارد ہورہے تھے اب بھی وارد ہیں (۱) اس لئے کہ ان حضرات نے نص فرمایا ہے کہ قرب آب کا ظن مانع تیمم ہے تو انہوں نے وہاں ظن کا اعتبار کیا پھر یہاں اسے کیسے بیکار قرار دیا؟ اور ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ پانی ایك میل دُور ہو تو تیمم جائز ہے۔ اس میں کوئی تفریق وتفصیل نہ فرمائی۔ باوجودیکہ یہ قطعی امر ہے کہ بعض اوقات اسے یقین ہوگا کہ وہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا۔ تو وہاں ان حضرات نے یقین کا اعتبار نہ کیا پھر یہاں کیسے اعتبار کرلیا۔ تو ثابت ہوا کہ علامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی یہ کاوش کچھ سُود مند نہ ہوسکی اور ان بزرگوں پر انہوں نے جس تعجب کا اظہار فرمایا وہ خود ان کی ذاتِ گرامی پر عائد ہوتا ہے۔ (ت)
ثمّ اقول : ہمارے بیان سے ناظرین نے یہ سمجھ لیاہوگاکہ دوسرا اعتراض یعنی ایك میل دُوری والے مسئلہ سے صورت یقین پر اعتراض صرف اس تعلیل پر وارد ہوتا ہے جو صاحبِ ہدایہ نے ظاہر الروایہ سے متعلق پیش کی۔ لیکن نفسِ مسئلہ پر جانب اعتراض سے کوئی غبار نہیں آتا اس لئے کہ مذہب یہی ہے کہ تاخیر نماز واجب نہیں خواہ اسے ظن ہو یا یقین جیساکہ اس کی تشریح خلاصہ سے
البخاری والکاکی والبابرتی والسیواسی وتقریرھم ایاہ نعم الایراد الاول علی صورۃ الظن بمسألۃ ظن القرب یرد علی التعلیل والمسألۃ معا للاحتیاج الی الفرق بینھما حیث لم یعتبروا ھھنا الظن بل ولا الیقین وقد منعو اثمہ لمحض غلبۃ الظن ولاجل ھذا قلت انھم استشکلوا المسألۃ والتعلیل معاوان کانوا انما وجھوا الکلام الی التعلیل ھذا۔
ورأیت الامام ملك العلماء قررالمسألۃ فی البدائع بحیث لایتوجہ الیہ ھذاالاشکال ورفع الخلاف عن الظاھرۃ والنادرۃ فقال قدقال اصحابناان المسافران کان علی طمع من الماء فی اٰخرالوقت یؤخر التیمم الی اٰخر الوقت وان لم یکن لایؤخر ھکذا روی المعلی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماوذکر فی الاصل احب الی ان یؤخرالی اٰخر الوقت ولم یفصل بین ما اذاکان یرجو الماء اولا یرجووھذا لایوجب اختلاف الروایۃ بل یجعل روایۃ المعلی تفسیرالما اطلقہ فی الاصل ولو تیمم اول الوقت وصلی ان کان عالما ان الماء قریب بان کان بینہ وبین الماء اقل من میل لم تجز صلاتہ بلاخلاف لانہ واجد للماء وان کان میلا فصاعد اجازت
گزر چکی خلاصہ کا کلام امام بخاری ، امام کاکی ، امام بابرتی اور امام سیواسی نے نقل کیااور اسے برقرار رکھا ہاں پہلا اعتراض جو صورتِ ظن پر ظنِ قرب کے مسئلہ سے وارد ہوتا ہے وہ تعلیل اور مسئلہ دونوں ہی پر وارد ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں پرکیوں ظن بلکہ یقین کا بھی اعتبار نہ کیااور وہاں محض غلبہ ظن کی وجہ سے منع کردیا۔ اس لئے میں نے کہاکہ حضرات علماء نے مسئلہ اور تعلیل دونوں ہی میں اشکال قرار دیا اگرچہ کلام کا رُخ صرف اس تعلیل کی جانب کیا۔ (ت)
میں نے دیکھا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں مسئلہ کی تقریر اس طرح فرمائی ہے کہ اس پر یہ اشکال پیش نہیں آتا۔ اور انہوں نے روایتِ ظاہرہ ونادرہ کا اختلاف بھی دور کردیا ہے ، رقمطراز ہیں : “ ہمارے اصحاب نے فرمایاکہ مسافر کو اگر آخر وقت میں پانی کی امید ہو تو تیمم آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور اگر ایسی امید نہ ہو تو مؤخر نہ کرے۔ ایسے ہی معلی نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت کی ہے۔ اور اصل (مبسوط) میں ذکر فرمایا ہے کہ میرے نزدیك زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور پانی کی امید ہونے اور نہ ہونے کا فرق نہ بیان کیا۔ اس سے اختلافِ روایت لازم نہیں آتابلکہ معلی کی روایت مبسوط کے اطلاق کی تفسیر قرار پاتی ہے۔ اور اگر اوّل وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو اگر اسے علم تھا کہ پانی قریب ہے اس طرح کہ اس کے اور
وان(۱) لم یکن عالما بقرب الماء اوبعدہ تجوز صلاتہ سواء کان یرجوا الماء فی اٰخر الوقت اولا سواء کان بعد الطلب اوقبلہ عندنا خلافا للشافعی لمامر ان العدم ثابت ظاھرا واحتمال الوجود احتمال لادلیل علیہ فلایعارض الظاھر [1] اھ
اقول : لکن(۱)للعبدالفقیر٭توقف فی التعلیل الاخیر٭فان من(۲) علم فی اول وقت الظھر اوالعشاء مثلا ان الماء من ھنا علی مسافۃ اقل من میلین اوثلٰثۃ امیال وعلم انہ یصل الیہ فی سعۃ الوقت ولم یعلم انہ علی فصل میل او اقل فصادق علیہ انہ لایعلم قرب الماء ولابعدہ وھویرجو الماء لاعن احتمال بلادلیل بل عن دلیل فیعارض الظاھرویمنع التیمم ولیس کذلك انما یمنع التیمم ظن ان الماء قریب٭ وھو منہ فی شك مریب ھذا۔
ولنعم حل الاشکال عن مسئلۃ الرجاء ماقررہ الامام الجلیل ابو البرکات
پانی کے درمیان ایك میل سے کم فاصلہ ہے تو اس کی نماز جائز نہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ پانی اس کیلئے دستیاب ہے۔ اور اگر ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس کی نماز ہوگئی۔ اور اگر اسے پانی کے قُرب وبُعد کا علم نہیں تو اس کی نماز جائز ہے خواہ آخر وقت میں پانی کی امیدہو یا نہ ہو خواہ پانی تلاش کرنے کے بعدہو یا پہلے ہو۔ یہ حکم امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك ہے اس کی وجہ گزر چکی کہ عدم ظاہرًا ثابت ہے اورپانی ملنے کا احتمال ایسا احتمال ہے جس پر کوئی دلیل نہیں تو وہ ظاہر کے معارض نہ ہوگا “ ۔ (ت)
اقول : لیکن بندہ محتاج کو تعلیل اخیر میں کچھ توقف ہے اس لئے کہ مثلًا جسے وقتِ ظہر یا وقتِ عشا کے شروع میں علم ہوا کہ پانی یہاں سے دو میل یا تین میل سے کم مسافت پر ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ وقت میں وسعت رہتے ہوئے وہاں تك پہنچ جائے گااور اسے یہ معلوم نہیں کہ ایك میل کا فاصلہ ہے یاکم تو اس پر یہ صادق ہے کہ پانی کے قُرب وبُعدکا اسے علم نہیں۔ اور اس کو پانی کی امید بلادلیل احتمال کے باعث نہیں بلکہ دلیل کے باعث ہے تو یہ احتمال ظاہرکے معارض اورتیمم سے مانع ہوجائےگا ، حالانکہ ایسا نہیں۔ تیمم سے مانع صرف اس بات کاگمان ہے کہ پانی قریب ہے اور اسی میں تو اسے پریشان کن شك درپیش ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
مسئلہ امید کے اشکال کا بہترین حل وہ ہے جس کی تقریر امام الجلیل ابو البرکات
رحمہ الله تعالٰی فی الکافی حیث عدل عن تعلیل الھدایۃ٭وعلل بتعلیل حسن الی الغایۃاذقال مسافر غلب علی ظنہ ان بقربہ ماء وجب الطلب ولایجب بغیرغلبۃ الظن اواخبار لان العدم ثابت حقیقۃ وظاھرًا لفوات الدلیل الدال علی الوجود من حیث الظاھر اذالظاھر فی المفاوزعدم الماء بخلاف العمرانات فانہ لوتیمم قبل الطلب فیھا لم یجز لان العدم وان کان ثابتاحقیقۃ لم یثبت ظاھرًا لقیام الدلیل علیہ وھو العمارۃ اذقیامھا بالماء وکذا لوغلب علٰی ظنہ اواخبرہ مخبرلان غالب الرأی کالمتحقق فی حق وجوب العمل[2] ولھذاوجب العمل باخبارالاٰحاد والاقیسۃوالاٰی المؤولۃ والمخصوصۃ والبینات فان قیل لوکان غالب الرأی کالمتحقق ھنا لوجب التاخیر فیما اذا غلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اٰخرالوقت قلنا عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ان التاخیر ختم ولان غلبۃ ظنہ ثم انہ سےصیر بقرب الماء وھذا غلبۃ ظنہ انہ بقرب الماء [3] اھ کلامہ الشریف ، وھذا بحمدالله تعالٰی عین ماظھر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع