دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

ولاقدرۃ علی المعدوم کیف وقد قال فی البحر فی مسألۃ من نسی الماء فی رحلہ ھذا لانہ لاقدرۃ بدون العلم لان القادر علی الفعل ھو الذی لواراد تحصیلہ یتأتی لہ ذلك ولاتکلیف بدون القدرۃ [1] اھ ومعلوم ان الموعود لہ لیس الامر بیدہ حتی یتأتی لہ تحصیل الوضؤ بارادتہ بل ھو بید الواعد فلم تثبت القدرۃ۔

فان قلت الیس اذا اعطاہ بعد الصلاۃ بلا اباء بطلت فقد عد بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق وسیاتی التصریحبہ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ انہ ظھر انہ کان قادرا لان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ [2] اھ مع ان الماء کان معدوماعندہ اذذاك والمعدوم غیرمقدور فلم لایجعل قادرابالوعدوان کان الماء معدوما عندہ بعد بل ھذا اولی لانہ علی شرف الحصول امامامضی فلایمکن ان یجعل غیرالحاصل فیہ حاصلا۔                        

اب بھی معدوم ہے اور معدوم پر قدرت نہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ البحرالرائق میں اپنے خیمہ یا کجاوہ میں رکھا ہُوا پانی بھُول جانے والے کے مسئلہ میں یہ لکھا ہے : “ یہ اس لئے کہ بغیرعلم کے قدرت نہیں اس لئے کہ فعل پر قادر وہی ہے کہ اگر اس فعل کو بروئے ثبوت لاناچاہے تو لاسکے اور قدرت کے بغیرکوئی مکلّف نہیں ہوتا “ اھ یہ معلوم ہے کہ جس سے وعدہ کیا گیاہے معاملہ اس کے ہاتھ میں نہیں کہ وہ چاہے تو وضو کرے بلکہ یہ وعدہ کرنے والے کے ہاتھ میں ہے تو قدرت ثابت نہ ہوئی۔ (ت)

اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ جب بعد نماز اسے بلا انکار دے دے تو نماز باطل ہوگئی ، اس سے ظاہر ہوا کہ بعد میں دینے سے سابق میں اس کو قادر شمار کیا گیا۔ اس کی تصریح زیادات ، جامع کرخی ، بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے آرہی ہے کہ “ ظاہر ہوگیا کہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس بات کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا “ ۔ اھ۔ باوجودیکہ پانی اس وقت اس کے پاس معدوم تھا اور معدوم مقدور نہیں۔ تو وعدے کی وجہ سے بھی اس کو قادر کیوں نہ قرار دیا جائے اگرچہ اس کے پاس پانی اب بھی معدوم ہے۔ بلکہ یہبدرجہ اَولٰی ہوگا اس لئے کہ وہ آئندہ حصول کی راہ میں ہے اور جو زمانہ گزر چکا اس میں تو غیر حاصل کو حاصل بنانا ممکن ہی نہیں۔ (ت)

اقول :  وبالله التوفیق لیست القدرۃ المانعۃ للتیمم بمعنی الاستطاعۃ فانھا لاتکون قبل الفعل وان کان الماء بکفہ بل(۱) بمعنی سلامۃ الاسباب والاٰلات بحیث لایبقی شیئ ممایتوقف علیہ تحصیل الماء خارجا عن قبضتہ فیکون قادرا بمعنی ان تحصیلہ بیدہ ویشترط مع ذلك عدم الحرج فمن بعد الماء عنہ میلا وھو قادر علی المشی فقد سلمت لہ الاسباب وعد عاجزا للحرج ثم غالب الظن کالیقین الاتری ان من ظن قرب الماء عدقادرا علیہ مع انہ لایعلمہ حقیقۃ والظن ربما یخطی اذاعلمت ھذا فمن اُعطی لاحقا حصل لہ الظن علی العطاء سابقالو سأل فثبت ظنا وھو کالثبوت یقیناانہ کان قادرا اذذاك علی تحصیل الماء بالسؤال فکان قادرا علی الماء لان القدرۃ الحسیۃ بالعطاء وماکان بینہ وبینالعطاء الا السؤال کماظھر بالبذل اللاحق بالسؤال وان کان بدون سؤال فبالاولی وقد کان السؤال بیدہ وترکہ عالما بالماء عندہ فکان کمن یکون علی راس البئر وفیھا ماء وبیدہ الدلو والرشاد وھو قادر علی الاستقاء فترك وتیمم وبالجملۃ ظھر بالبذل اللاحق انہ لواراد تحصیلہ سابقا لتأتی                         

میں اس کے جواب میں کہوں گا اور خدا ہی سے توفیق ہے ، وہ قدرت جو تیمم سے مانع ہے بمعنی استطاعت نہیں۔ اس لئے کہ یہ تو فعل سے پہلے ہوتی ہی نہیں اگرچہ پانی اس کی ہتھیلی میں ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ قدرت بمعنی سلامتِ اسباب وآلات ہے اس طرح کہ جتنی چیزوں پر تحصیل آب موقوف ہے ان میں سے کوئی بھی اس کے قبضہ سے باہر نہ رہ جائے تو وہ قادر ہوگا اس معنی میں کہ اس کی تحصیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کے ساتھ یہ شرط بھی ہوگی کہ حرج نہ ہو کیونکہ پانی جس سے ایك میل دُور ہے اور اسے چلنے کی قدرت بھی ہے تو اس کیلئے سلامت اسباب تو موجود ہے پھر بھی حرج کے باعث اسے عاجز شمار کیا گیا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ غالب ظن ، یقین کی طرح ہے۔ دیکھیے جسے پانی قریب ہونے کا ظن ہو اسے پانی پر قادر شمار کیا گیا ہے حالانکہ حقیقۃً اسے پانی کا علم نہیں۔ اور ظن تو بارہا غلط بھی ہوتا ہے۔ جب یہ سب معلوم ہوگیا تو اب دیکھئے جسے بعد میں پانی دے دیاگیا اسے یہ گمان حاصل ہوا کہ اگر مانگتا تو وہ پہلے بھی دے دیتا تو ظنًا ثبوت ہوا۔ اور یہ یقیناثبوت کی طرح ہے۔ کہ وہ اس وقت کے سوال کے ذریعہ تحصیل آب پر قادر تھا۔ تو وہ پانی پر قادر ہوا اس لئے کہ حسّی قدرت تو دینے ہی سے ہوتی ہے۔ اور اس کے اور دینے کے درمیان صرف سوال ہی کا فاصلہ تھا۔ جیسے اس کا قادر ہونا بعد میں سوال پر دینے سے ظاہر ہوتا ہے اور بغیرسوال دیناہو تو بدرجہ اولٰی۔ اور سوال اس کے

لہ لعدم توقفہ الاعلی سؤالہ المقدورلہ وھذاھو معنی القدرۃ بخلاف الموعودلہ فان التوقف ھھنا علی الوفاء ولیس الوفاء بیدہ فقد ظھر الفرق والحمدلله ربّ العٰلمین۔

فان قلت الیس قد اوجبوا الطلب وابطلوا الصلاۃ قبلہ فیما اذاکان فی العمرانات اوقربھا مطلقا اوفی الفلاۃ وقد اخبر بقرب الماء اوظنہ بوجہ اٰخر من رؤیۃ خضرۃ وغیرھا کماقدمتہ فی خامس افادات شرح الحد الرضوی واثرت ثمہ عن الحلیۃ ان العلم بقرب الماء قطعا اوظاھراینزلہ منزلۃ کون الماء موجودا بحضرتہ فلایجوز تیممہ کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ[3]  اھ فکذلك ھھنا وان کان الماء معدوما ینزلہ ظن الوفاء لانہ ھو الظاھر من المسلم منزلۃ الموجود فلایجوزلہ التیمم۔      

ہاتھ میں تھا جسے اس نے ترك کردیا جبکہ جانتا تھا کہ اس کے پاس پانی ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوا جو کسی کُنویں پر ہو جس میں پانی بھی ہے اور اس کے ہاتھ میں ڈول رسّی موجود ہے ، پانی کھینچنے پر قدرت بھی ہے مگر اس نے پانی نہ نکالا اور تیمم کرلیا۔ مختصر یہ کہ بعد میں دینے سے ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ سابق میں پانی حاصل کرنا چاہتا تو میسر آجاتا کیونکہ وہ صرف اس کے مانگنے پر موقوف تھا اور مانگنا اس کی قدرت میں ضرور تھا۔ یہی قدرت کا معنٰی بھی ہے۔ بخلاف اس شخص کے جس سے پانی کا وعدہ ہوا اس لئے کہ یہاں موقوفی وفا پرر ہے اور وفا اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اس بیان سے دونوں میں فرق واضح ہوگیا۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)

اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ فقہاء نے پانی تلاش کرنا واجب اور اس سے پہلے ادائے نماز کو باطل قرار دیا ہے جب وہ آبادی یا قربِ آبادی میں ہو تو مطلقًا بیابان میں ہو تو اس وقت جب اسے بتایا گیا ہو کہ پانی قریب ہے یا کسی دوسرے طریقہ مثلًا ہریالی وغیرہ دیکھ کر اسے گمان ہوا ہو جیسا کہ شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اس کا بیان ہوچکا ہے اور وہاں حلیہ سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ “ پانی قریب ہونے کا قطعًا یا ظاہرًا علم ہوجائے تو یہ پانی اس کے پاس موجود ہونے کی منزل میں لا اتارتا ہے تو اسے تیمم کرنا جائز نہیں ہوتا جیسے پاس موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہوتا “ اھ تو اسی طرح یہاں پانی اگرچہ معدوم ہے ظنِّ وفا اس لئے کہ مسلم سے وہی ظاہر ہے اسے موجود کی منزل میں لااتارے گا تو اس کے لئے تیمم جائز نہ ہوگا۔ (ت)

اقول :  ولربی الحمد علی الخبیرسقطت٭ وفی القیاس غلطت٭فرق عظیم بین المسألتین القرب والعطاء کلاھما مانع عن التیمم لحصول القدرۃ بھما فان الشرع المطھر جعل ماکان دون میل کالذی بیدہ والالجاز لمن بیتہ علی شط البحر التیمم اذالم یجد الماء فی بیتہ کماتقدم فی نمرۃ ٩١ عن العنایۃ والظن الغالب فی العمل کالعلم ومع علم المانع لامساغ للتیمم بیدان القریب لماکان مقدورا حقیقۃ شرعا فی الحال کماعلمت کان ظن القرب ظن انہ مقدور الاٰن وانہ حاصل بحضرتہ فی اعتبار الشرع المطھر وھھنا ظن الوفاء ظن انہ سیحصل مع العلم القطعی بانہ غیرحاصل فی الحال فذلك علم ان المانع موجود وھذا علم انہ سیحدث ان وفی توقع حدوث المانع لایمنع التیمم۔

وھذا ماقدمت فی الظفر لقول زفر انہ اذا ادرك الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھاولاینظر الا الی حالتہ الراھنۃ وقلت قبلہ فیہ ان الطاعۃ بحسب

الاستطاعۃ قال ربنا تبارك و

 



[1]   البحرالرائق باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۶۰

[2]              البدائع الصنائع باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹

[3]         حلیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن