دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

تو پیش ازوعدہ نہ قدرت ہوگی نہ مانگے پر وعدے سے یہی ظاہر ہوکہ پہلے مانگتا تو دے دیتا۔

ھذا ماظھر فلیراجع ولیحرر والعلم بالحق عند العلی الاکبر۔

یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ اور حق کا علم خدائے برتر وبزرگ ہی کو ہے۔ (ت)

اقول : مگر اس میں یہ قوی شك ہے کہ علما نے بعد نماز مانگنے پر پانی دے دینے کو اس پر دلیل ٹھہرایا ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی دے دیتا۔

کمایاتی فی المسألۃ الاٰتیۃ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ ان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ [1]۔

جیساکہ اگلے مسئلہ میں زیادات ، جامع کرخی ، بدائع اور حلیہ کے حوالے سے آرہا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا۔ (ت)

تو یوں ہی کیوں نہ کہا جائے کہ بعد نماز مانگنے پر وعدہ اس کی دلیل ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی وعدہ کرلیتا اور نفس وعدہ کو موجب قدرت مانا ہے تو جس طرح بعد کو پانی دے دینے سے قدرت سابقہ ثابت ہوئی کہ پہلے مانگتا تو مل جاتا تو پانی زیرقدرت تھا یونہی بعد کے وعدے سے ثابت ہوگی کہ پہلے مانگتا تو وعدہ ہوجاتا اور وعدہ موجبِ قدرت تھا تو قدرت مل جاتی تو پانی زیرقدرت تھا اور جب مانگے پر نِرے وعدے سے یہ حکم ہو تو بے مانگے وعدے سے بدرجہ اولٰی کہ یہاں تو یہ احتمال ہے کہ جب بے مانگے وعدہ کرلیا عجب نہیں کہ پہلے مانگے پر دے ہی دیتا اگرچہ اس اولویت میں یہ کلام واضح ہے کہ شاید اور کیا عجب مفید نہیں ظہور درکار ہے کلام امام محمد سے ابھی گزرا فکان قادرا ظاھرا (تو  ظاہرًا قادر ہوا۔ ت)

اقول : مگر بذل ووعدہ میں فرق بیّن ہے بذل حال سے بذل سابق مظنون ہوا اور بذل قطعًا موجب قدرت ہے تو قدرت مظنون ہوئی بخلاف وعدہ کہ قدرت کا موجب قطعی نہیں خلف بھی ممکن ہے دینے والے کو کوئی عذر پیش آنا بھی ممکن ہے الاتری ان محمدا انما یقول ان الظاھر الوفاء (یہ دیکھئے امام محمد فرماتے ہیں کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے۔ ت) تو وعدہ صرف مورث ظن قدرت ہے اور وعدہ حال سے سابقہ بھی یقینی نہیں صرف مظنون ہے تو اس وقت کے وعدے سے سابق میں ظنِّ قدرت نہ ہوا بلکہ ظن ظن ہوا اور ظن ظن شیئ ظن شیئ نہیں توسابق کیلئے ظنِ قدرت ثابت نہ ہوا تو عجز ظاہر کا معارض نہ پایا گیااور تیمم ونماز صحیح رہے اور یہ تقریراُس صورت کو بھی شامل کہ بعد کو بے مانگے وعدہ کرے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) بالجملہ مقام مشکل ہے اور ظاہر وہ ہے جو فقیرنے گزارش کیا والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

ثم اقول : بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مسئلہ وعدہ خود ہی مشکل ہے بلکہ اُس سے بھی صاف تر مسئلہ رجا اور اُس کا اور مسئلہ ظن قرب کا فرق اکابر محققین امام اجل عبدالعزیز بخاری اور امام قوام کاکی وامام اکمل بابرتی وامام کمال ابن الہام وغیرہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمنے مشکل سمجھا اور لاحل چھوڑدیا ،

والله المسئول لحل کل اشکال٭ودفع کل اعضال٭ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم المتعال٭

اما مسالۃ الوعد فلم ازل استشکلھا لان الوعد لایورث الارجاء فی الماٰل والرجاء فی القابل لایرفع العجز المتحقق فی الحال فکیف یقال انہ بمجرد الوعد صار قادرا علی الماء قال فی التبین راجی(۱) الماء یستحب لہ التاخیرولایجب لان العدم ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ بالشك عــہ[2] اھ  وفی الھدایۃ وعن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالٰی عنھما فی غیرروایۃ الاصول ان التأخیرحتم لان غالب الرأی کالمتحقق وجہ الظاھر ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ [3] اھ              

اور خدا ہی سے ہر اشکال کے حل ، اور ہر پیچیدگی کے دفعیہ کا سوال ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر بلند باعظمت برتر خدا ہی سے۔ (ت)

مسئلۂ وعدہ کو تو میں ہمیشہ مشکل سمجھتا رہا۔ اس لئے کہ وعدہ صرف زمانہ آئندہ میں امید پیدا کرتا ہے اور مستقبل میں امید حال میں متحقق عجز کو ختم نہیں کرتی پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض وعدہ سے پانی پر قادر ہوگیا۔ تبین میں ہے : پانی کی امید رکھنے والے کیلئے نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے ، واجب نہیں۔ اس لئے کہ پانی کانہ ہونا حقیقۃً ثابت ہے تو شك سے اس کا حکم زائل نہ ہوگا “ اھ۔ ہدایہ میں ہے : “ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے غیرروایت اصول میں مروی ہے کہ مؤخّر کرنا لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان ، متحقق کی طرح ہے۔ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ عجز حقیقۃً ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اھ “ ۔

 

عــہ اقول :  اراد بالشك مایقابل الیقین بدلیل مایتلوہ من نص الھدایۃ وقد قال فی البنایۃ وفی الشلبیۃ عن الدرایۃ کلیھما عن الایضاح المراد بالرجاء غلبۃ الظن ای یغلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اٰخر الوقت [4] اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ ١٢ منہ غفرلہ (م)                 

شك سے وہ مراد لیا ہے جو یقین کا مقابل ہو اس کی دلیل ہدایہ کی عبارت ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔ بنایہ میں ہے اور شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے پھر بنایہ ودرایہ دونوں ہی ایضاح سے ناقل ہیں کہ امید سے مراد غلبہ ظن ہے یعنی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا اور اسی کے مثل بحر وغیرہ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

وعزاہ فی الحلیۃ لھا ولغیرھا والمسألۃ معلومۃ دوّارۃ فی المتون والشروح والفتاوی وھی تعطی قطعا ان رجاء القدرۃ فی الماٰل لایرفع العجز فی الحال باجماع اصحابنا فی روایات الاصول فیجب ان لایعد قادرا بالوعد وانما یؤمر بالانتظار استحبابا ان وقع الوعد قبل الصلاۃ وان وعد بعدھا لم یبطل صلاۃ صحت بیقین کمالوحصل لہ رجاء الوجدان آخر الوقت بعد ماصلی فان مالا یمنع التیمم وجودہ لایرفعہ حدوثہ حین حدث فضلا عماسبق اما الفرق بان القدرۃ علی الماء تثبت بالاباحۃ اجماعا فیجب الانتظار بخلاف غیرہ کثوب ودلو فلاتثبت عند الامام فیستحب وعندھما نعم فیجب فاقول :  الوعد لیس اباحۃ فی الحال بل ایراث رجائھا فی الماٰل فبون بین بین قولہ اعطیب وقولہ ساعطی۔

اما ان الظاھر الوفاء فکان قادرا علی استعمال الماء ظاھرا فاقول :  الماء معدوم عندہ بعد

حلیہ میں اس پر ہدایہ اور دوسری کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور یہ مسئلہ معلوم ومعروف ہے متون ، شروح اور فتاوٰی میں کثرت سے گردش کرنے والا ہے ، اور اس سے قطعی طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ مستبل میں قدرت کی امید ، حال میں پائے جانے والے عجز کو ختم نہیں کرتی۔ اس پر روایات اصول میں ہمارے اصحاب کا اجماع ہے۔ تو ضروری ہے کہ وعدہ کی وجہ سے اسے قادر نہ شمار کیا جائے ، صرف استحبابًا اسے انتظار کا حکم دیا جائےگا اگر قبل نماز وعدہ ہُوا ، اور اگر بعد نماز وعدہ ہُوا تو یہ ایك ایسی نماز کو باطل نہیں کرسکتا جو بالیقین صحیح ادا ہوئی جیسے اس صورت میں جب کہ ادائے نماز کے بعد آخر وقت میں اسے پانی ملنے کی امید پیدا ہوئی اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع نہیں ہوتی اس کا حدوث بوقت حدوث بھی تیمم کو ختم نہیں کرسکتا بوقت سابق ختم کرنا تو درکنار۔ یہ فرق کہ پانی پر قدرت بالاجماع اباحت سے ثابت ہوجاتی ہے تو اس کا انتظار واجب ہے ، دوسری چیز جیسے کپڑے اور ڈول کا یہ حال نہیں اس میں امام صاحب کے نزدیك اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی تو انتظار صرف مستحب ہے اور صاحبین کے نزدیك اس میں بھی قدرت ثابت ہوتی ہے تو انتظار واجب ہے (اس پر مجھے کلام ہے) فاقول : وعدہ فی الحال اباحت نہیں بلکہ اس سے صرف آئندہ زمانہ میں امید پیدا ہوتی ہے۔ کسی کے یہ کہنے میں کہ “ میں نے دیا “ اور یہ کہنے میں کہ “ آئندہ دوں گا “ کھُلا ہوا فرق ہے۔ (ت)

اب رہی یہ بات کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو ظاہرًا پانی کے استعمال پر قادر ہوا فاقول (تو اس پر میں کہتاہوں کہ)پانی اس کے نزدیك

 



[1] بدائع الصنائع فصل ماشرائط الرکن فانواع مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹

[2]   تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۴۱۱

[3]   حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق باب التیمم  امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱

[4]   الہدایہ باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن