30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی المجتبٰی رأی فی صلاتہ ماء فی ید غیرہ ثم ذھب منہ قبل الفراغ فسألہ فقال لوسألتنی لاعطیتك فلااعادۃ علیہ وان کانت العدۃ قبل الشروع یعید لوقوع الشك فی صحۃ الشروع والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب لاتدل علی الاعطاء قبلہ [1] اھ
اقول : ھذا الفرع یحتاج لہ الشرح وقد تبین مماصورناہ فقولہ ثم ذھب منہ ای الماء من صاحبہ بانفاقہ مثلا قبل الفراغ لھذا من صلاتہ فسألہ بعد صلاتہ فقال نفد ولوسألتنی قبل
مجتبٰی میں ہے : “ اپنی نماز کے اندر دوسرے کے ہاتھ میں پانی دیکھا۔ پھر اس کے پاس سے ختم ہوگیا اس سے پہلے کہ فارغ ہو۔ پھر اس سے مانگا۔ تو اس نے کہا : اگر تم نے مجھ سے مانگا ہو تا تو تم کو میں دے دیتا۔ اس صورت میں اس پر اعادہ نہیں۔ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہواتو اعادہ کرے۔ اس لئے کہ صحتِ شروع میں شك واقع ہوگیا اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا “ ۔ اھ (ت)
اقول : اس جزئیہ کی شرح کرنے کی ضرورت ہے اور ہم نے جس طرح مسئلہ کی صورت میں پیش کی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے۔ شرح اس طرح ہوگی : قولہ پھر اس کے پاس سے ختم ہوگیا یعنی پانی پانی والے کے پاس سے ختم ہوگیا مثلًا اسے خرچ کردیا اس سے پہلے کہ فارغ ہو یعنی اِس کے اپنی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے۔ پھر اس سے مانگا۔ یعنی نماز ادا کرنے کے
لاعطیتك قولہ وان کانت العدۃ قبل الشروع ،
اقول : تصویرہ بصورتین ذکرناھما انہ تیمم ثم رأی اورأی ثم تیمم ثم سألہ بعد حین فقال انفقت ولوسألت لاعطیت ولیس المراد انہ رأی فسأل فاجاب فتیمم لانہ تیمم صحیح قطعا لوقوعہ بعد ظھور العجز عن الماء بخلاف تینك الصورتین ففیھما قیل لیس لہ ان یصلی بذلك التیمم بل یتیمم ثانیا ولوصلی بالاول یعید لوقوع الشك فی صحۃ الشروع بہ فی الصلاۃ لانہ ان لم یظھر بوعدہ القدرۃ فلایقعد عن ایراث الشك فی العجز فوقع الشك فی بقاء التیمم فلم یصح لہ الشروع بطھارۃ مشکوکۃ بخلاف مااذا رأی فی الصلاۃ لان الشروع صح بالیقین فلایزول الابمثلہ والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب والنفاد لاتدل علی الاعطاء قبلہ ،
اقول : لماقررنا من ان الشحیح ایضا لایثقل علیہ مثل ھذا الوعد فاذالم یترجح بہ جانب العطاء کان وجودہ وعدمہ سواء فلم یورث شکافی العجز کماقدمنا تحقیقہ اٰخر المسألۃ السادسۃ فھٰذا مایتعلق بشرحہ ولابأس بالتنبیہ علی نکت۔
بعد مانگا۔ تو اس نے کہا : ختم ہوگیا ، اور پہلے اگر تم نے مجھ سے مانگا ہوتا ، تو تم کو میں دے دیتا۔ قولہ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہوا۔ اقول : اس کی تصویردو۲ صورتوں میں ہے جو ہم نے بیان کیں (۱) اس نے تیمم کرلیا پھر دیکھا (۲) یا دیکھنے کے بعد تیمم کرلیا پھر اس سے کچھ دیربعد مانگا تو اس نے کہا : میں نے خرچ کردیا اگر تم نے مانگا ہوتا تو دے دیتا۔ یہ مراد نہیں کہ اس نے دیکھتے ہی مانگا ، اس نے وہ جواب دیا ، اِس نے اب تیمم کیا۔ اس لئے کہ یہ تیمم تو قطعًا صحیح ہے اس لئے کہ یہ پانی سے عجز ظاہر ہونے کے بعد ہوا ہے بخلاف اُن دونوں صورتوں کے کہ ان ہی کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کیلئے اس تیمم سے نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ دوبارہ تیمم کرے گا۔ اور اگر پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو اعادہ کرے اس لئے کہ اس تیمم سے نماز شروع کرنے کی صحت میں شك واقع ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے وعدہ سے قدرت بروئے ظہور نہ لاسکا تو کم ازکم عجز میں شك پیدا کرنے سے قاصر نہ رہا اس طرح بقائے تیمم میں شك واقع ہوگیا تو مشکوك طہارت سے نماز شروع کرنا اس کیلئے جائز نہ ہوا بخلاف اس صورت کے جب اندرونِ نماز پانی دیکھا ہو اس لئے کہ شروع بالیقین صحیح ہوا ہے تو اس کا زوال بھی ویسی ہی چیز سے ہوگا۔ اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا
اقول : اس کی وجہ وہ ہے جس کی ہم نے تقریرکی کہ بخیل کے لئے بھی ایسا وعدہ کرنا کوئی مشکل اور گراں نہیں تو جب اس وعدہ سے جانب عطا کو ترجیح نہ ملی تو اس کا ہونا ، نہ ہونا
فاقول اولا : کان تسمیتہ وعد اللمشاکلۃ والا فالوعد للمستقبل۔
وثانیا : التصویربذھاب الماء خرج وفاقا والا(۱) فالحکم کذلك لولم یذھب واحتال بھذا الجواب بل بالاولی لانہ منع اشنع۔
وثالثا : لابد عندی من التقییدد بعدم ظن العطاء فی الوجھین کمافعلت لان ظن العطاء اذالم یظھر خلافہ یمنع صحۃ التیمم والصلاۃ کمامر ویاتی وبھذا الوعد ان لم یظھر وفاقہ لم یظھر خلافہ ایضا بالاولٰی فتجب اعادۃ الصلاۃ والله تعالٰی اعلم۔
برابر ہے اس لئے یہ عجز میں کوئی شك نہ لاسکا جیسا کہ ہم مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ کلام تو شرح سے متعلق تھا ، اب کچھ نکات پر تنبیہ کردی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (ت)
فاقول : نکتہ اولٰی : اسے “ وعدہ “ کے نام سے ذکر کرنا مشاکلہ کی وجہ سے ہے ورنہ وعدہ تو مستقبل کیلئے ہوتا ہے۔
نکتہ دوم : صورتِ مسئلہ میں جو کہا گیا کہ پانی ختم ہوگیا یہ اتفاقًا ہے۔ ورنہ اگر پانی واقع میں ختم نہ ہُوا اور اس نے یہ جواب دے کر بہانہ کیا تو بھی حکم یہی ہے بلکہ درجہ اولٰی یہ حکم ہوگا۔ اس لئے کہ یہ بدتر انکارو منع ہے۔
نکتہ سوم : میرے نزدیك دونوں صورتوں میں عدمِ ظنِّ عطا کی قید لگانا ضروری ہے جیسا کہ میں نے تصویرمسئلہ میں کہا۔ اس لئے کہ جب عطا کا گمان ہو اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو یہ تیمم اور نماز کی صحت سے مانع ہے جیسا کہ گزرا اور آئندہ بھی آئےگا اور اس وعدہ سے اس گمان کی اگر موافقت ظاہر نہ ہوئی تو اس کی مخالفت بھی بدرجہ اولٰی ظاہر نہ ہوئی اس لئے نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ دوم : اقول۲ وعدہ آب کہ ہمارے ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے اجماع سے پانی پر قدرت کا موجب سمجھا گیا ظاہرًا یہ حکم وقت کے وقت تك ہے کہ کسی موقت حاجت کیلئے ایك وقت میں وعدہ اُسی وقت کا وعدہ سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ کبھی دے دیں گے اگرچہ سال بھر بعد۔ خروج وقت پر خلف وعدہ سمجھا جائے گا کہ دینے کا کہا تھا اور نہ دیا آئندہ اوقات کیلئے بھی وہ وعدہ اور اُس کے سبب اس کا پانی پر قادر ہونا سمجھا جائے تو مہینہ بھر کامل گزر جائے اور اُسے نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو کہ وعدہ باقی ہے تو قدرت باقی ہے تو تیمم ناجائز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے تو ہر وقت یہی حکم رہے گا اور ہفتوں مہینوں نماز سے معطل رہنے کا حکم ہوگا حاشایہ شریعتِ مطہرہ کا مسئلہ نہیں ہوسکتا لاجرم وعدہ کا اثر اُس ایك ہی وقت تك رہے گا وبس ،
وھذا ظاہر جدا ومن خدم الفقہ یری تائیدہ فی مسائل کثیرۃ من کتاب الطلاق وکتاب الایمان والله تعالٰی اعلم۔
اور یہ بہت واضح ہے جسے فقہ کی خدمت نصیب ہوئی اسے کتاب الطلاق اور کتاب الایمان کے بہت سے مسائل میں اس کی تائید نظر آئے گی۔ اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ سوم : اقول ظاہر۱ یہ ہے کہ وعدہ قدرت مقتصرہ ثابت کرے گا یعنی وقت وعد سے نہ مستندہ یعنی وقت علم بہ آب سے وذلك لانہ ھو سبب ثبوتھا فلاتثبت قبلہ لان المسبب لایتقدم السبب (وہ اس لئے کہ یہ وعدہ ہی ثبوت قدرت کا سبب ہے تو قدرت اس سے پہلے ثابت نہ ہوگی ، اس لئے کہ مسبَّب ، سبب سے مقدّم نہیں ہوتا۔ ت) ظاہر ہے کہ وعدہ آئندہ کیلئے ہوتا ہے تو ماضی پر اس کا کیا اثر بلکہ اگر وعدہ اس کے سوال پر ہو تو یہ بھی دلالت نہ کرے گا اس سے پہلے مانگتا تو دے دیتا کہ اب بھی تو مانگے پر نہ دیا نرا وعدہ ہی کیا تو یہ کیونکر مفہوم ہو کہ پہلے دے ہی دیتا بالجملہ وعدہ حقیقۃً عطا نہیں کہ سب احکام عطا نافذ ہوں بلکہ وہ حقیقۃً عدمِ عطا ہے صرف اس اُمید پر کہ مسلمان کے وعدے میں ظاہر وفا ہے اسے ظاہرًا پانی پر قادر مانا گیا ہے ،
لمامر فی الظفر لقول زفر عن البحر عن البدائع عن محمد ان الظاھر الوفاء بالوعد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا [2]۔
اس کی وجہ رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں بحر کے حوالہ سے بیان ہوئی۔ بحر نے بدائع سے انہوں نے امام محمد سے نقل کیا کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو وہ ظاہرًا استعمال پرقادر ہُوا۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع