30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسعہ قبل الفعل فیقع جائزادفعا للحرج فلاینقلب غیرجائز قال وبعبارۃ اخری انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلك ذکرہ فی الولوالجیۃ ولانہ متعنت ولاقول للمتعنت بخلاف مانحن فیہ فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف [1] اھ
اقول : اغفل السؤال نصوصا فی المذھب ثمہ موافقۃ فی الصورۃ لماھنا وھی انہ ان کان(۱) عندہ من یسألہ فلم یسألہ وصلی ثم سألہ فاخبرہ بماء قریب بطلت صلاتہ کماقدمنا فی نمرۃ ۱۵۹ عن الحلیۃ عن المحیط ومثلہ فی البدائع والتبین والدر وغیرھا فعلمہ ان ھذا ممن یسأل ھنا عن حال الماء کظنہ العطاء فی ھذہ المسألۃ وترك السؤال کمثلہ فیھا والاخبار اللاحق کالعطاء اللاحق فتبطل صلاتہ کمابطلت ثم ھذا۔
وقولہ اذا ابٰی ای عن الاخبار اقول : یشمل(۲) مااذا سألہ
میں جبکہ اسے نہ دینے کا گمان تھا ، قادر نہ ہوگیا۔ اور جواب سے یہ مستفاد ہوا کہ اس نے عمل سے پہلے جو کچھ اس کے بس میں تھا کرلیا تو دفع حرج کے پیش نظر وہ جائز ہی واقع ہوگا پھر ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ فرماتے ہیں : بعبارت دیگر “ اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا پھر اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ اسے ولوالجیہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس لئے کہ وہ تشدّد برتنے والا ہے اور ایسے شخص کی بات کا اعتبار نہیں ، بخلاف ہمارے زیربحث صورت کے کہ اس نے دریافت کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف نہ کی “ ۔ اھ (ت)
اقول : وہاں کچھ نصوصِ مذہب اور تھے جو یہاں والی صورت کے موافق تھے انہیں سوال میں چھوڑ دیا وہ یہ کہ اگر اس کے پاس ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے اور دریافت نہ کیا ، نماز پڑھ لی ، پھر اس سے پُوچھا۔ اس نے قریب میں پانی بتایا تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔ جیسا کہ ہم نے نمبر۱۵۹ میں محیط سے نقل کردہ حلیہ کی عبارت پیش کی۔ اسی کے مثل بدائع ، تبیین ، درمختار وغیرہا میں بھی ہے تو اسے یہ علم ہونا کہ یہ شخص ایسا ہے جس سے پانی کے بارے میں یہاں دریافت کیا جاسکتا ہے ایسا ہی ہے جیسے اس مسئلہ میں عطا کا ظن ہے اور سوال نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے یہاں سوال نہ کرنا اور بعد میں بتانا ایسا ہی ہے جیسے یہاں بعد میں دیناتو یہاں بھی اس کی نماز باطل ہوگئی جیسے وہاں باطل ہُوئی۔ (ت)صاحبِ حلیہ کی عبارت “ اذا ابٰی “ (جب انکار کرے) یعنی بتانے سے انکار کرے ۔ اقول : یہ اس
فسمع وسکت لانہ صادق علیہ قولھم لم یخبرہ وانما عبرہ عنہ فی الحلیۃ بالاباء لان السکوت عند الحاجۃ اباء عرفا وقد صرحوا بمسألۃ الاباء ھھنا ایضا انہ ان سألہ قبل الصلاۃ فابی ثم اعطاہ بعدھا فقد تمت ولاعبرۃ بالمنح بعد المنع۔ وماقال انہ متعنت وقد اخذہ عن البدائع فاقول : ھذا(۱) غیرمتعین ولاثابت فقدینسی ثم یتذکر وحال المسلم تحمل علی الصلاح مھما امکن والله تعالٰی اعلم قال ثم بعد برھۃ من ظھور ھذا للعبد الضعیف وتسطیرہ رأیت صدر الشریعۃ قدصرح بماذکرنا من الحکم فی ھاتین المسألتین وبعلتہ فیما لواتم الصلاۃ مع ظن العطاء ثم سألہ فاعطاہ فتواردنا علی ذلك [2] اھ۔
اقول : (۲)ھوسبق قلم بل انما ذکر العلۃ فیما اذاسألہ فابی قال لانہ ظھر ان ظنہ
صورت کو بھی شامل ہے جب اس سے سوال کرے اور وہ سُن کر خاموش رہے۔ کیونکہ اس پر علماء کا یہ قول صادق ہے کہ “ اس نے نہ بتایا “ اسے حلیہ میں انکار سے اس لئے تعبیرکیا کہ ضرورت کے وقت سکوت عرفًا انکار ہی ہے۔ اور علما نے یہاں بھی مسئلہ انکار کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر اس نے قبل نماز اس سے مانگا ، اس نے انکار کیا پھر بعد نماز اسے دے دیا تو اس کی نماز پُوری ہوگئی۔ اور انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ت)صاحبِ حلیہ نے فرمایا وہ تشدد برتنے والا ہے اسے انہوں نے بدائع سے لیا ہے۔ اس پر مجھے کلام ہے فاقول یہ متعین اور ثابت نہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت بھُول گیا ہو پھر اسے یاد آیا ہو جہاں تك ہوسکے مسلمان کی حالت کو صلاح ودرستی ہی پر محمول کیا جائےگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ صاحبِ حلیہ لکھتے ہیں : بندہ ضعیف کے ذہن میں یہ آیا اور اُسے رقم کیا پھر کچھ عرصہ بعد دیکھا کہ صدر الشریعۃ اس کی تصریح کرچکے ہیں جو ہم نے ان دونوں مسئلوں میں حکم بیان کیا اور اس کی علت بھی بتاچکے ہیں اس صورت میں جب کہ ظنِّ عطا کے باوجود نماز پُوری کرلی پھر مانگا اور اس نے دے دیا۔ تو اِس پر ہمارا ان کا توارد ہوگیا اھ۔ (ت)
اقول : یہ سبقتِ قلم ہے۔ صدر الشریعۃ نے علت صرف اس صورت میں بیان کی ہے جب اس نے مانگا اور اس نے انکار کردیا۔ فرماتے ہیں : اس لئے
کان خطأ [3] اھ وھذا نظیرماسبق ان الحاق الشك بغلبۃ الظن للعطاء ارجح وانما صوابہ المنع کمامر۔
کہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا اھ (تو عبارت حلیہ میں “ ثم سألہ فاعطاہ “ کی جگہ “ ثم سألہ فابی “ ہونا چاہئے) اور یہ اسی کی نظیرہے جو عبارت حلیہ میں گزرا کہ شك کو “ عطا “ کے غلبہ ظن سے لاحق کرنا زیادہ راجح ہے۔ صحیح “ منع “ ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ (ت)
تنبیہ : نماز کے بعد وہ دیناجس سے مطلقًا نماز اعادہ کرنی ہوتی ہے اگرچہ مصلی کو ظن منع ہو کونسا ہے اور وقت نماز گزر جانے کے بعد دینابھی یہ اثر رکھتا ہے یا نہیں ، اس کا بیان مسئلہ نہم میں آتا ہے وباللہالتوفیق۔
مسئلہ ۸ : امام۱ محقق علی الاطلاق سے مسئلہ ششم میں گزرا کہ پانی پر قدرت تین۳ طرح ہوتی ہے :
اوّل : خود اپنی ملك میں ہو۔ اقول : یعنی حاجتِ ضروریہسے فارغ اور استعمال پر قدرت تو ہر جگہ شرط ہے۔
دوم : اگر بکتا ہے تو قیمت پر قادر ہو۔ اقول : یعنی اُنہیں وجوہ پر کہ گزریں کہ قیمت مثل سے بہت زیادہ نہ مانگے اور قیمت اس کے پاس حاضر نہیں تو اُدھار دینے پر راضی ہو۔
سوم : اباحت۔ اقول : یہ مصدر مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کا مباح ہونا خواہ باباحتِ اصلیہ جیسے بارش ودریا کا پانی یا کسی کے وقف کیے سے یا بلاوقف عام لوگوں یا کسی خاص قوم کیلئے جن میں یہ داخل ہے مالك نے طہارت کیلئے مباح کیا ہو اگر اسے طہارت درکار ہے یا مالك خاص اس شخص کو مباح کرے۔ ثمّ اقول : دو۲ صورتیں قدرت کی اور ہیں :
چہارم : ہبہ کہ تملیك بلاعوض ہے بخلاف اباحت کہ شَے ملك مالك ہی پر رہتی ہے اُس کی اجازت سے صرف کی جاتی ہے۔
پنجم : مالك کا وعدہ کرنا کہ میں تجھے پانی دوں گا یہاں تك کہ ائمہ ثلٰثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے مذہب میں انتظار لازم ہے اگرچہ وقت نکل جائے کہ وعدہ میں ظاہر وفا ہے اور پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل تو ظاہرًا قادر ہے لہذا تیمم جائز نہیں اس کا ذکر نمبر ۹۰ میں گزرا اور باتباع امام زفر حکم یہ ہے کہ جب وقت جاتا دیکھے تیمم کرکے پڑھ لے جیسا کہ نمبر ۹۱ میں گزرا۔
اب یہاں چند ضروری تنبیہات ہیں :
تنبیہ اوّل : وہ۱ وعدہ کہ پانی نہ رہنے کے بعد ہو معتبر نہیں مثلًا نماز میں اس نے کسی کے پاس پانی دیکھا اور دینے کا ظن غالب نہ ہُوا نماز پُوری کی اس کے بعد مانگا اس نے کہا میرے پاس پانی تھا تو مگر خرچ ہوگیا اگر اُس وقت مانگتے میں ضرور دیتا تو اس وعدہ کا اعتبار نہیں نماز ہوگئی۲ اور اگر نماز سے پہلے دیکھا اور دینے کا ظن غالب نہ ہوا اورتیمم پہلے کرچکا تھا یا اب کرلیا پھر مانگا تو اس نے وہی جواب دیا کہ اب نہ رہا اُس وقت مانگتے تو دے دیتا اس وعدے سے بھی وہ تیمم نہ جائے گا اُسی سے نماز پڑھے یہی اصح ہے کہ نہ رہنے کے بعد وعدہ اس پر دلیل نہیں کہ دے بھی دیتا ، شے موجود ہوتے وقت وعدہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ دینامنظور ہے اور نہ رہنے کے بعد نہ دینے والا بھی یہ کیوں کہے کہ میں نہ دیتا بلکہ مفت کرم داشتن ہے کہ ہوتا تو ضرور دیتا ، بحرالرائق میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع