30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وامّا ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق وھو الحل علی وجہ التحقیق اذا(۴) کان شیئ ظاھرا وخلافہ محتملا لاعن
کی جائے یا یہ روایت مہجور ومتروك ہے۔ (ت)
اقول : اور یہاں تاویل نہیں چل سکتی اس لئے کہ وہ صراحت کررہے ہیں کہ اس کی طرف کچھ التفات نہیں جو بعد میں ظاہر ہوتو یہی رہ گیا کہ یہاں یہ روایت مہجور ومتروك ہو۔
سوم : بلکہ وہ نادر روایت بھی اپنے مفہوم سے ظنِ عطا اور شك میں برابری بتانے والی اس حکایت کی مخالفت کررہی ہے کہ یہ اس وقت ہے جب عطا کا گمان ہو اس وقت نہیں جب شك ہو۔
چہارم : اس کے منافی وہ بھی ہے جو اختیار کے حوالہ سے قول امام محمد کا قیاس بیان ہوا کہ اس میں صرف ظنِّ عطا کا اعتبار ہے۔ اور صراحۃً اس کے مناقض وہ ہے جو نہایہ کے حوالہ سے بیان ہوا کہ مذہب جس میں سوائے ایضاح کے کسی سے بھی ہمارے تینوں اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے درمیان کوئی اختلاف منقول نہیں ، یہ ہے کہ وجوب طلب صرف ظنِ عطا میں محدود ہے۔ اور ایضاح وغیرہ میں جو خلاف منقول ہے وہ یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیك مطلقًا وجوب نہیں۔ تو فریقین میں سے کسی کے نزدیك بھی ظنِّ عطا اور شك کو نہ امام محمد کے نزدیك برابر بتایا گیا نہ امام ابویوسف کے نزدیک۔ تو اسے نگاہِ بصیرت سے دیکھنا چاہئے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق ، (میں کہتا ہوں ، اور خدا ہی سے توفیق ہے) اور بطور تحقیق یہی حل بھی ہے۔ جب کوئی چیز ظاہر ہو اور اس کے
دلیل لم یعارضہ فلایقع الشك فی ذلك الظاھر لعدم استواء الطرفین فقد نصوا فی علم الکلام ان الاحتمال لاعن دلیل لاینافی الیقین بالمعنی الاعم فکیف ینافی الظّن والشك فی العطاء لایکون الا اذالم یترجح جانبہ بدلیل فیبقی محتملا لاعن دلیل فلایورث الشك فی العجز المعلوم الظاھر بخلاف ظن العطاء فانہ عن دلیل ولابد فیعارض الظاھر الظاھر ویبقی العجز مشکوکا فلایتحقق شرط التیمم وذلك کمن شك فی قرب الماء فان شکہ ھذا لایجعل العجز مشکوکا حتی ساغ لہ التیمم بلاطلب ولم یسغ لمن ظن القرب کماتقدم فظھر(۱) بہ الجواب الساطع عن قول صدر الشریعۃ ان القدرۃ والعجز مشکوك فیھما [1] وتبین ان مثل الشك لایعارض ظھورالعجز فوجب طرحہ والحاقہ بظن المنع ولله الحمد ثم بعد بضع لیالی رأیت تصدیق تعلیلی ھذا فی کلام الامام ملك العلماء کمایاتی اواخر المسألۃ الثامنۃ ولله الحمد۔
خلاف کا احتمال بلادلیل ہو تو یہ اس ظاہر کے معارض نہ ہوگا تو اس ظاہر میں شك نہ واقع ہوگا اس لئے کہ طرفین برابر نہیں۔ علما نے علم کلام میں تصریح فرمائی ہے کہ “ احتمال بلادلیل یقین بمعنی اعم کے منافی نہیں “ تو ظن کے منافی کیسے ہوگا۔ اور عطا میں شك نہ ہوگا مگر اسی وقت جب کہ جانب عطا کو کسی دلیل سے ترجیح حاصل نہ ہوسکے تو جانب عطا محتمل بلادلیل رہ جائے گی تو اس سے اُس عجز میں شك نہ پیدا ہوگا جس کا ظاہر معلوم ہے بخلاف اس صورت کے جب عطا کا ظن ہو اس لئے کہ یہ ایك دلیل سے ہے اور یہ لازمی امر ہے تو ظاہر ، ظاہر کے معارض ہوجائے گا اور عجز مشکوك رہے گا تو تیمم کی شرط متحقق نہ ہوسکے گی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو پانی کے قریب ہونے کا شك ہو کہ اس کا یہشك اس کے عجز کو مشکوك نہیں بنادیتا یہاں تك کہ پانی تلاش کئے بغیراس کیلئے تیمم روا ہے اور اس کیلئے روا نہیں جسے پانی کے قریب ہونے کا گمان ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ اس تحقیق سے صدر الشریعۃ کے اس کلام کا روشن جواب عیاں ہوگیا کہ “ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے'۔ ' اور واضح ہوگیا کہ ایسا شك ظہورِ عجز کے معارض نہیں۔ تو اس شك کو نظر انداز کرنا اور ظنِ منع سے لاحق کرنا لازم ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے پھر میں نے چند راتوں کے بعد اپنی اس تعلیل کی تصدیق امام ملك العلماء کے کلام میں دیکھی جیسا کہ مسئلہ ہشتم کے اواخر میں آرہا ہے اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
مسئلہ ۷ : شرح۱ تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں گزرا کہ یہاں اعتبار واقع کا ہے اگر اسے ظن غالب تھا کہ نہ دے گا (یا شك تھا) اور اس نے تیمم سے پڑھ لی بعدہ ، اس نے پانی دے دیا (بطور خو دخواہ) اس کے مانگے سے تو نماز عــہ۱ نہ ہوئی اعادہ کرے اور اگر ظن غالب تھا کہ دے دے گا اور (خلافِ حکم کرکے) اس نے نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی بعد کو مانگا اور اس نے نہ دیا تو نماز عــہ۲ ہوگئی شرح وقایہ کی عبارت وہیں گزری اور دیگر عبارات قوانین میں آئیں گی اِن شاء الله تعالٰی۔ ہاں اگر اس نے نہ اول مانگا نہ بعد کو کہ منع وعطا کا حال کھلتا۔
اقول : نہ ظن عطا کی صورت میں اُس نے پانی خرچ کرلیا یا پھینك دیانہ شك یا ظن منع کی حالت میں اس نے بعد نماز بے انکار سابق دے دیا تو البتہ اس کے ظن کا اعتبار ہے اگر ظن عطا تھا نماز نہ ہوئی ورنہ ہوگئی ،
عــہ۱ ولد عزیز مولوی مصطفی رضا خان سلّمہ ذوالجلال ورقاہ الی مدارج الکمال نے یہاں ایك تقییدد حسن کا مشورہ دیا کہ صاحب آب کے پاس اس وقت کے بعد نیا پانی اور نہ آگیا ہو ورنہ آبِ کثیرمیں سے دے دینا اُس ظن وشك کو کہ قلتِ آب کی حالت میں تھا دفع نہ کرے گا وکان ذلك عند تبییض الرسالۃ للطبع فی ۱۶ من المحرم الحرام ۱۳۳۶ ولله الحمد (اور یہ مشورہ طباعت کیلئے رسالے کی تیاری کے وقت ۱۳۳۶ھ ماہ محرم کی ۱۶ تاریخ کو دیا اور حمداللہتعالٰی ہی کیلئے ہے۔ ت)
اقول : یہ قید ضرور قابلِ لحاظ ہے اگرچہ کتابوں میں نظر سے نہ گزری کہ علما نے اُسی حالتِ موجودہ پر کلام فرمایا اور یہاں یوں تفصیل مناسب کہ اگر وہ۲ ظنِ منع بر بنائے قلت آب تھا تو بعد کثرت دینااس کا تخطیہ نہ کرے گا اور اگر اور وجوہ سے تھا مثلًا صاحبِ آب سے رنجش یا ناشناسائی یا اس کی نسبت گمانِ بخل تو ضرور اس گمان کی غلطی ظاہر ہوگی کمالایخفی والله تعالٰی اعلم فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ (جیسا کہ مخفی نہیں اور اللہتعالٰی خوب جانتا ہے تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت)(م)
عــہ۲ آیا اسی مشورہ ولد عزیز کے قیاس پر یہاں بھی کہا جائے کہ اگر یہ نہ دینااس بنا پر ہوکہ اتنی دیرمیں پانی اس کے پاس خرچ ہوکر کم رہ گیا تو یہ منع اس ظنِّ عطا کی خطا نہ بتائے گا۔
اقول : یہاں۲ صورتیں ہیں اگر یہ خرچ ہوجانا اس طور پر ہوکہ اس سے پہلے کسی نے مانگا اسے دے دیا اب کم رہ گیا منع کردیاتو بےشك اس ظن کی خطا ثابت نہ ہوگی ظاہرًا اعادہ نماز چاہئے اور اگر خود اس نے اپنی حاجت میں خرچ کیا تو اب نہ دینااُس ظن کا رَد کرے گا کہ اتنا تو اُسے خود درکار تھا اور جو باقی رہا اُس سے انکار ہے فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ غفرلہ (تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت) (م)
لانہ بظن العطاء کان قادرا فی الظاھر علی الماء ولم یتبین غلط ھذا الظن فیعمل بہ لفوت درك الحقیقۃ۔
اس لئے کہ وہ ظنِّ عطا کے باعث پانی پر بظاہر قادر تھا اور اس ظن کی غلطی واضح نہ ہوئی تو اس کو اسی پر عمل کرنا ہے کیوں کہ حقیقت تك رسائی فوت ہوگئی۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
انما یکون الملحوظ ظنالیس غیرعند عدم الاستکشاف لہ فاذا وجد وظھر الامر بخلاف کان الحال علی ماظھر[2] اھ واستشھد لہ بعبارات البدائع والکافی ثم اطال رحمہ الله تعالٰی بابداء سؤال ودفعہ حاصل السؤال قدیکون ظنہ مصیبا ویتبدل رأی صاحب الماء فلایظھر خطاء ظنہ وحاصل الجواب ان الاصل عدم التبدل والظن ربما یخطئ واستشھد فی السؤال بنصوص فی المذھب انہ ان کان بحضرتہ من یسألہ عن الماء فسألہ فلم یخبرہ فتیمم وصلی ثم اخبرہ بہ لااعادۃ علیہ [3] اھ ای فلم یکن بالاخبار اللاحق عالما فی السابق حین سألہ فلم یخبرہ فکذا الایکون بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق حین ظن منعہ وافاد الجواب انہ فعل مافی
ظن ہی ملحوظ ہوتا ہے کچھ اور نہیں جبکہ اس ظن کی حقیقت منکشف نہ کرلی ہو۔ پھر جب تحقیق ہوجائے اور معاملہ اس ظن کے برخلاف ظاہر ہوتو جو ظاہر ہو اسی کے مطابق حال ہوگا اھ اس پر انہوں نے بدائع اور کافی کی عبارتوں سے شہادت پیش کی ہے پھر ایك سوال و جواب لاکر طویل گفتگو کی ہے۔ سوال کا حاصل یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوگا کہ اس کا گمان درست ہو اور پانی والے کی رائے بدل جائے تو اس کے گمان کی خطا ظاہر نہ ہوگی جواب کا حاصل یہ ہے کہ اصل نہ بدلنا ہے اور ظن میں کبھی خطا بھی ہوتی ہے۔ سوال میں کچھ نصوصِ مذہب سے استشہاد کیا ہے کہ “ اگر اس کے پاس کوئی ایسا ہو جس سے پانی کے بارے میں دریافت کرسکے تو اس سے دریافت کیا ، اس نے نہ بتایا ، اِس نے تیمم کیا اور نماز نہ پڑھ لی ، پھر اس نے بتایا تو اِس پر اعادہ نہیں “ اھ یعنی بعد میں بتانے سے وہ سابق میں جبکہ اس سے پوچھا تھا اور اس نے نہ بتایا ، واقف نہ ہوگیا تو اسی طرح بعد میں دینے سے وہ سابق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع