دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

والجوھرۃ النیرۃ والبحر والدر والھندیۃ ایضا ومثلہ فی مالایحصی فقد اطبقوا علی الحاق الشك بظن البعد

واماثانیا :  فلانہ ھو المصرح بہ فی غیرماکتاب جلیل فقد قدمنا نصوص النھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار شرح المختار سالفا٭وذکرنانصوص المبتغی والمنیۃ والبحر المحیط والخزانۃ اٰنفا٭وخلافہ لم یعرف الافی شرح الوقایۃ۔

بلٰی نسب الحاق الشك بظن العطاء فی الجوھرۃ الی الصاحبین علی خلاف قول الامام رضی الله تعالٰی عنھم فقال وجوب الطلب قولھماوعند ابی حنیفۃ لایجب لان سؤال ملك الغیرذل عند المنع وتحمل منۃ عند الدفع وعندھما ان غلب علی ظنہ انہ لایعطیہ لایجب علیہ الطلب ایضا وان شك وجب وتفریع قول ابی حنیفۃ اذالم یجب الطلب وتیمم قبلہ اجزأہ [1]  وتفریع قولھمافی وجوب الطلب اذاشك وصلی ثم سألہ                                            

عبارت ہم نے مقامِ اوّل میں پیش کی۔ (ت)       

بتایا اور سب لوگوں نے صراحۃً بیان کیا اور تمام شارحین ومحشین نے انہیں برقرار رکھا۔ اور ہم مسئلہ چہارم میں بدائع ، سراج وہاج ، جوہرہ نیرہ ، بحر ، درمختار اور ہندیہ سے بھی اس کی تصریح پیش کر آئے ہیں۔ اور اسی کے مثل بے شمار کتابوں میں ہے تو شك کو ظنِّ بُعد سے لاحق کرنے پر سب کا اتفاق موجود ہے۔ (ت)

ثانیا : اس لئے کہ متعدد جلیلہ میں اسی کی تصریح موجود ہے۔ ہم نہایہ ، خانیہ ، خزانۃ المفتین اور اختیار شرح مختار کی عبارتیں پہلے پیش کرچکے اور مبتغی ، منیہ ، بحر محیط اور خزانہ کی عبارتیں ابھی بیان کیں۔ اور اس کے خلاف سے کہیں آشنائی نہ ہُوئی مگر شرح وقایہ میں۔

ہاں جوہرہ میں شك کو ظن عطا سے لاحق کرنے کی نسبت صاحبین کی طرف کی ہے برخلافِ قول امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔ اس میں لکھا ہے : “ مانگناواجب ہے یہ صاحبین کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیك واجب نہیں اس لئے کہ غیرکی ملك مانگنے میں ذلّت ہے اگر وہ انکار کردے اور احسان سے زیربار ہونا ہے اگر وہ دے دے۔ اور صاحبین کے نزدیك بھی اگر اس کا غالب گمان ہو کہ نہیں دے گا تو مانگنا واجب نہیں۔ اور شك کی صورت ہو تو واجب ہے امام ابوحنیفہ کے قول پر تفریع یہ ہے کہ جب طلب واجب نہ ہو اور قبلِ طلب تیمم کرلے تو ہوگیا۔ اور وجوب طلب میں قولِ صاحبین پر تفریع یہ ہے کہ جب شك

واعطاہ وجب علیہ الاعادۃ باتفاقھما وان منعہ فعند ابی یوسف صلاتہ جائزۃ وعند محمد یعید وان غلب علی ظنہ انہ یمنعہ فصلی ثم اعطاہ توضأ واعاد وان غلب علی ظنہ الدفع الیہ فصلی ثم سألہ فمنعہ اعاد عند محمد وعند ابی یوسف لا [2] اھ۔

اقول :   قولہ فی ظن المنع ثم اعطاہ اعاد ای باتفاقھما وان لم یعط لابالاجماع وحاصل قول محمد علی ماحکاہ انہ ان ظن العطاء اوشك اعاد مطلقا اعطی بعد الصلاۃ اومنع وان ظن المنع فان اعطی اعاد والالا ومحصولہ انہ یشترط لجواز التیمم ظن منع لایظھر خلافہ وحاصل قول ابی یوسف انہ ان اعطی اعاد وان منع لاسواء ظن عطاء اومنع اوشک۔

کی صورت ہو اور نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو باتفاق صاحبین اس پر اعادہ واجب ہے اور اگر نہ دے تو امام ابویوسف کے نزدیك اس کی نماز صحیح ہے۔ اور امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان ہوکہ نہیں دے گا تو اس نے نماز پڑھ لی پھر اس نے دے دیا تو وضو کرے اور نماز لوٹائے۔ اور اگر دینے کا غالب گمان رہا ہو اس وقت اس نے نماز ( تیمم سے) پڑھ لی پھر مانگا اس نے نہ دیا تو امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں “ اھ (ت)

اقول : ظنِ منع میں ان کی عبارت “ پھر اس نے دے دیاتواعادہ کرے “ کا معنٰی یہ ہے کہ باتفاقِ صاحبین اس کا حکم اعادہ ہے اور اگر نہ دیا تو بالاجماع اعادہ نہیں۔ اور حکایت جوہرہ کے مطابق قول امام محمد کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے عطا کا گمان یا شك ہو تو مطلقًا اعادہ کرنا ہے بعد نماز دے یا نہ دے اور اگر منع کا ظن رہا ہو تو اگر بعد نماز دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ اور اس کا محصول یہ ہے کہ وہ جواز تیمم کیلئے ایسے ظن منع کی شرط لگاتے ہیں جس کے خلاف بعد میں ظاہر نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعد نماز اگر دے دے تو اعادہ کرے اور اگر نہ دے تو نہیں پہلے خواہ دینے کا ظن رہا ہو یا نہ دینے کا ، یا شك رہا ہو۔ (ت)

وفیہ اولا(۱) قد کان حکم وجوب الطلب ان لایجزئ التیمم قبلہ کماقال فی تفریع قول الامام انہ لمالم یجب اجزأہ وقدمنا فی الافادۃ الخامسۃ من شرح الحد الرضوی عن سراجہ وجوھرتہ انہ حیث وجب الطلب ولم یطلب لم یجزوان لم یجدبعدفعلی ھذا انما یظھر وجوب الطلب فی الشك علی ماحکی عن محمد لاعلی قول ابی یوسف۔

الا ان یبنی علی التحقیق الذی نبدیہ بتوفیق الله ان الوجوب ھھنا علی غیرحد الوجوب ثمہ وتکون الثمرۃ البطلان اذاظن العطاء اوشك ولم یسأل قبل ولابعد والله تعالٰی اعلم۔

وثانیا :  لازم(۲)ھذاالمحکی عن محمد بل صریحہ کماعلمت ان لورأی فی الصلاۃ وظن العطاء اوشك بطلت صلاتہ من دون توقف علی منح اومنع بعدلان مامنع(۳)وجودہ التیمم نقضہ حدوثہ کمافی البدائع والبحر والدر وغیرھاوھذہ کماعلمت روایۃ نادرۃ عن محمد وقداسلفنا البحث علیھا وانھا           

جوہرہ کے بیان پر چند کلام ہے : اول : طلب واجب ہونے کا حکم یہ تھا کہ اس سے پہلے تیمم کفایت نہ کرے جیسا کہ قولِ امام کی تفریع میں لکھا کہ “ جب طلب واجب نہ ہو تیمم ہوجائے گا “ ۔ ہم تعریف رضوی کی شرح کے افادہ پنجم میں ان کی سراج اور جوہرہ سے نقل کر آئے ہیں کہ جہاں طلب واجب ہو اور طلب نہ کرے تو تیمم جائز نہیں اگرچہ بعد میں پانی نہ ملے۔ تو اس کے پیشِ نظر صورتِ شك میں وجوب طلب صرف اس قول پر ظاہر ہے جو انہوں نے امام محمد سے حکایت کیا امام ابویوسف کے قول پر ظاہر نہیں۔

مگر یہ کہ اس تحقیق پر بنیاد رکھیں جس کا ہم بتوفیق خدائے برتر اظہار کریں گے کہ یہاں پر وجوب کا وہ معنی نہیں جو وہاں پر ہے۔ اور اس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ تیمم باطل ہوگا جب دینے کا گمان یا شك رہا ہو اور پانی نہ پہلے طلب کیا ہو نہ بعد میں۔ اور خدائے برتر ہی خُوب جاننے والا ہے۔

دوم : امام محمد سے اس حکایت کا لازم بلکہ صریح جیسا کہ معلوم ہوا ، یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر دیکھا اور دینے کا گمان یا شك ہوا تو بعد میں دینے ، نہ دینے پر کچھ موقوف رہے بغیرابھی اس کی نماز باطل ہوگئی۔ اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع ہو اس کا حدوث تیمم کا ناقض ہوگا۔ جیسا کہ بدائع ، بحر ، درمختار وغیرہا میں ہے۔ اور یہ جیسا کہ معلوم ہوا ، امام محمد سے ایك نادر روایت ہے اور ہم پہلے اس پر بحث کرچکے ہیں۔ اس روایت میں یاتو تاویل

مؤولۃ اومھجورۃ۔

اقول : (۱) والتاویل لایتمشی ھنا لتصریحہ بعدم الالتفات لمایظھر بعد فلم یبق الاالھجر۔

وثالثا :  (۲) بل تلك النادرۃ ایضابمفھومھاان ھذااذاظن العطاء لا اذاشك تخالف ھذہ الحکایۃ المسویۃ بین ظن الاعطاء والشک۔

ورابعا : (۳)ینافیہ مامر عن الاختیار من قیاس قول محمد المعتبر فیہ ظن الاعطاء فقط ویناقضہ صریحا مامر عن النھایۃ ان المذھب

الغیرالمنقول فیہ خلاف بین اصحابنا الثلثۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم الا فی الایضاح ھو قصر الوجوب علی ظن الاعطاء والخلاف الذی فی الایضاح وغیرہ ھو عدم الوجوب عند الامام مطلقا فلیس عند احد من الفریقین تسویۃ ظن العطاء والشك عند محمد ولاعند ابی یوسف فتبصرولله الحمد۔

 



[1]              الجوہرۃ النیرۃ شرح قدوری باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۹

[2]                   الجوہرۃ النیرۃ شرح قدوری باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن