30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہ گئی تطبیق تو میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے حکم مطلق بیان کردیا جائے۔ فقہ میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے امام صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے مانگنے کے عدمِ وجوب کا حکم مطلق بیان فرمایا دیااور حسن نے اسے جیساسناروایت کردیااور متون وعامہ کتب نے جیسا وقوع میں آیا ویسا ہی پےش کردیا۔ اور حسن کا اجتہاد اس طرف گیا کہ اسے اطلاق ہی پر جاری رکھا جائے تو وہ اسی کے قائل ہُوئے۔ ایسے ہی کچھ اور حضرات کا بھی گمان ہوا تو انہوں نے اطلاق کی تفسیرعموم سے کردی۔ اور ایسے حضرات کم ہی ہیں۔ اور صاحبیننے اپنے شیخ سے مراد سمجھ کر اس کی روایت کی تو انہوں نے اس کی تفسیرکردی اور خود اسی تفسیرکے قائل ہوئے۔ اب بعض حضرات نے امام کے اطلاق اور صاحبین کی تفصیل پر نظر کی اور ان ائمہ کے درمیان اختلاف پیش کردیا۔ یہ صاحب ہدایہ اور بہت سے حضرات کا مسلك ہے۔ اور بعض حضرات نے مقصد پر نظر کی اور یہ دیکھا کہ اطلاق سے بھی مراد تفصیل ہی ہے تو انہوں نے اتفاق کی تصریح کردی یا کسی خلاف کی جانب اشارہ نہ کیا۔ یہ مبسوط ، کافی اور ان حضرات کا مسلك ہے جن سے نہایہ میں حکایت کی۔ اور
الثالث وتبعہ فی خزانۃ المفتین کماعلمت وکلھم علی الصواب وبعضھم اولٰی بہ من بعض الاشرذمۃ (۱)صرحوا بتعمیم عدم الوجوب مع اتفاقھم جمیعاعلی وجوب الطلب فی مظنۃ القرب واخاف ان یکون ھذا فی عبارۃ التجریدالمحکیۃفی جامع الرموزمن قبل القھستانی نقل بالمعنی علی مافھم فان عبارۃ التجرید التی اثرھاامامان جلیلان فی الخلاصۃ والبنایۃ کمامرلا اثر فیھالھذا التعمیم والله تعالٰی بکل شیئ علیم ونظیرہ فی(۲) جانب الایجاب صنیع صدر الشریعۃ وفی الجانبینصنیع الغنیۃ والله تعالٰی اعلم۔
تنبیہ : جعل فی الحلیۃ الاقوال اربعۃ فافرزقول الصفار عن القول بالظن وانت تعلم انہ ھو عــہ فانما اقام المظنۃ
یہ لوگ اکثر ہیں جیسا کہ نہایہ میں ہے۔
اور بعض حضرات نے الفاظ اور مقصود دونوں جانب نظر کی تو لفظًا اختلاف ثابت کیا اور معنیً اس کی نفی کی تو وہ تطبیق کی راہ پر گئے۔ یہ امام جصاص کا مسلك ہے اور یہی تحقیق خالص ہے۔ اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ خانیہ میں دونوں ہی قول پر جزم کرتے ہوئے اور دونوں جگہوں میں سے کسی خلاف کا اشارہ کئے بغیرچلے ہیں جیسا کہ ہم نے اس کی عبارتیں مسلك اول اور مسلك سوم میں نقل کیں اور خزانۃ المفتین میں ان ہی کی پیروی کی ، جیسا کہ معلوم ہوا۔ اور یہ سبھی حضرات درستی پر ہیں اور بعض ، بعض سے اولٰی ہیں مگر وہ گنتی کے لوگ جنہوں نے عدمِ وجوب کی تعمیم کی صراحت کی۔ جبکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو تو طلب واجب ہے۔ اور میرا اندیشہ یہ ہے کہ یہ بات جامع الرموز میں تجرید کی حکایت کردہ عبارت میں قہستانی کی طرف سے در آئی ہے اس طرح کہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق اسے معنیً نقل کردیا اس لئے کہ تجرید کی جو عبارت دو۲ بزرگ اماموں نے خلاصہ وبنایہ میں نقل فرمائی جیسا کہ گزری اس میں اس تعمیم کا کوئی نشان ، پتا نہیں اور خدائے برتر ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اسی کی نظیرجانب ایجاب میں صدر الشریعۃ کا طریقہ بھی ہے اور دونوں ہی جانب میں غنیہ کا عمل اور خدائے برتر ہی خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)تنبیہ : حلیہ میں اقوال چار کردئے اس طرح کہ صفّار کا قول ، قول بالظن سے جُدا شمار کردیاجبکہ ناظر کو معلوم ہے کہ یہ وہی ہے۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے ظن
عــہ اقول : سیعلم(۳) من احاط بنصوص مرت وتأتی ان لکلامھم ھھنا وجھتین فمنھم من رددبین نفی اثبات صریحا نحوان
اقول : گزشتہ وآئندہ نصوص وعبارات کا احاطہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ یہاں کلام علما کے دو۲ رُخ ہیں۔ بعض حضرات نے صراحۃً نفی واثبات کے درمیان(باقی برصفحہ آئندہ)
مقام الظن کمالایخفی وقد قدمتہ فی حاشیۃ نمرۃ ۱۴۴۔
المقام الثانی : قد تبینانہ ان ظن العطاء وجب الطلب اوالمنع لابقی الشك فاعتری فیہ الشك وجاء ت العبارات علی وجھین فی الحاقہ باحد
کی جگہ مظنہ رکھا ہے جیساکہ مخفی نہیں۔ میں پہلے نمبر ۱۴۴ کے حاشیہ میں بھی اسے بیان کرچکا ہوں۔ (ت)
مقامِ دوم : یہ واضح ہوچکاکہ اگر دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے اور نہ دینے کا گمان ہو تو واجب نہیں۔ شك کا حکم رہ گیا تو اس میں شك درآیا اور اسے ظن عطا وظن منع کسی ایك سے ملحق کرنے سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظن العطاء وجب الطلب والالا کالبحر المحیط والاختیار والمبتغی اومفھوما نحوان ظن العطاء لم یجز التیمم کالنھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والخزانۃ وغیرھم فافادوا الحاق الشك بظن المنع ومنھم من ذکر حکم الظنین واھمل ذکر الشك کالکافی والمنیۃ والھندیۃ عن العتابی والزیادات ایضا بتصریح الحلیۃ وقدبحث فی الحلیۃ فی ھذا القول عن الحاق الشك باحد الظنین جعل الکل محتملا ورجح الالحاق بالمنع ولایخرج قول الامامین الصفار وابی زید عن ھذا فلاوجہ لعدہ علیحدۃ الابالنظر الی تغایرفی اللفظ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تردیدکی ہے مثلًا یہ کہ “ اگر عطا کا گمان ہو طلب واجب ہے ورنہ نہیں “ جیسے بحر ، محیط ، اختیار اور مبتغی میں ہے۔ یا مفہومًا تردید کی ہے مثلًا یوں کہ “ اگر دینے کا گمان ہو تو تیمم جائز نہیں “ جیسے نہایہ ، خانیہ ، خزانۃ المفتین اور خزانہ وغیرہامیں ہے تو ان حضرات نے شك کو ظن منع سے ملحق کرنے کاافادہ فرمایا اور بعض حضرات نے دونوں ظن (ظنِّ عطا وظنِّ منع) کاحکم بیان کردیااور شك کا ذکر چھوڑ دیا ، جیسے کافی ، منیہ اور ہندیہ میں عتابی سے نقل کرتے ہوئے ہے اورحلیہ کی تصریح کے مطابق زیادات میں بھی ہے۔ اور حلیہ کے اندر اس قول کے تحت شك کو کسی ایك ظن سے لاحق کرنے سے متعلق بحث کی ہے تو محتمل ہر ایك کو رکھا اور منع سے لاحق کرنے کو ترجیح دی اور امام صفار وامام ابوزیدکا قول اس سے باہر نہیں تو اسے علیحدہ شمار کرنے کی کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ لفظوں کے اختلاف پر نظر ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
الظنین۔
احدھما : قال صدرالشریعۃوفی الزیادات اذاکان خارج الصلاۃولم یطلب وتیمم لایحل لہ الشروع بالشك فان القدرۃ والعجزمشکوك فیھا[1]اھ فقدالحقہ بظن العطاء فکما لایجوزالتیمم اذاظن العطاء کذلك اذاشك لکن نص فی الحلیۃ ان حکم صورۃ الشك غیرمنصوص علیہ فی الزیادات [2] اھ والذی ذکرفی البحر وجعلہ حاصل الزیادات وغیرھا یخالف مافی شرح الوقایۃ وعبارتہ وفی الزیادات ان المتیمم المسافر الٰی اٰخر مانقلنا فی المسألۃ الثالثۃ وقال فیھا بعد قولہ فلایقطع بالشك بخلاف مااذاکان خارج الصلاۃ الٰی اٰخر مانقلناھھنافلعل قولہ بخلاف الخ مدرج من عند الامام بین مسألتی الزیادات علی مایقتضیہ کلام الحلیۃ والبحر ولذالم یعزہ فی الحلیۃ الا الیہ والله تعالٰی اعلم ھذا ووقع فی الخادمی حکایۃ ان الحاقہ بظن العطاء مصحح قال فی الدرر قبل طلبہ جاز التیمم اختیارہ فی الھدایۃ وقیل لااختارہ فی المبسوط [3] اھ فقال الخادمی
متعلق عبارتیں دو۲ طرح آئیں :
اول : صدر الشریعۃنے فرمایا : “ زیادات میں ہے کہ جب بیرونِ نماز ہو اور طلب نہ کرے اور تیمم کرے تو شك کے ساتھ شروع کرنااس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے “ اھ اس عبارت میں شك کو ظن عطاسے ملحق کیاہے جیسے ظن عطاکی صورت میں تیمم جائز نہیں۔ اسی طرح شك کی صورت میں لیکن حلیہ میں تصریح ہے کہ “ صورت شك کاحکم زیادات میں منصوص نہیں “ اھ ، اور بحر میں جو ذکر کیاہے اسے زیادات وغیرہاکاحاصل قرار دیا ہے وہ اس کے برخلاف ہے جو شرح وقایہ میں ہے شرح وقایہ کی عبارت یہ ہے : “ زیادات میں ہے کہ تیمم والا مسافر اس کے آخر تك جو ہم نے مسئلہ سوم میں نقل کیا۔ اس میں “ فلایقطع بالشك تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع