دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اقول :  وقدعلمت انھم یرمون عن قوس واحدۃ وھو وجوب الطلب فی مظنۃ الاعطاء لا غیرھا وانما نشأ الخلاف من الاختلاف فی ان الماء ھل

ھو مبذول عادۃ فی السفر کالخضر اولا فمن قال نعم قال یجب مطلقا ومن قال لاقال لاومن فصل فصل فلم یبق فی الوصول

“ جیسے آبادیوں میں “ اھ۔ اور شرنبلالی نے اپنے متن وشرح میں اسی پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا : “ اسے اپنے ساتھی سے مانگنا واجب ہے اس لئے کہ پانی عادۃً دیا جاتا ہے تو اسے مانگنے میں کوئی ذلت نہیں اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی کے معاملہ میں طبیعتوں میں بخل نہیں پایا جاتا “ ۔ اھ  ان ہی میں سے وہ عبارتیں بھی ہیں جو پہلے ہم نے تیسرے اور چوتھے مسئلہ میں زیادات ، محیط سرخسی ، خانیہ ، خلاصہ ، بزازیہ ، صدر الشریعۃ ، بحر اور ہندیہ کے حوالوں سے صراحۃً اور جامع کرخی ، بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے مفہومًا بیان کیں کہ ظنِّ عطا کے وقت نماز توڑنے کا حکم ہے ، اس لئے کہ یہ حکم مانگنے کا وجوب لازم کرنا ہے کیونکہ اگر وجوب نہ ہوتا تو نماز توڑنا جائز نہ ہوتا۔ ان عبارتوں کے مقابلہ میں خانیہ اور خزانۃ المفتین کی یہ عبارت ہے : “ تیمم سے نماز شروع کی پھر کوئی آدمی آیا جس کے پاس پانی ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے “ اھ (ت)

اقول : معلوم ہوچکا کہ سبھی حضرات ایك ہی کمان سے تیرچلارہے ہیں۔ وہ یہ ظنِ عطا کی جگہ مانگنا واجب ہے دوسری جگہ نہیں۔ خلاف صرف اس بارے میں اختلاف سے پیدا ہُوا کہ کیا پانی سفر میں بھی حضر کی طرح عادۃً لیا دیا جاتا ہے یا ایسا نہیں؟ جنہوں نے کہا ہاں ، وہ مطلقًا وجوب کے قائل ہوئے۔ اور جنہوں نے کہا نہیں ، وہ وجوب کے قائل نہیں ، اور

 

عــہ کما یستفاد ماقدمنا عن تقریروجوب القطع فی المسألۃ الثالثۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

جیسا کہ وجوب قطع کی اس تقریرسے مستفاد ہوتا ہے جو ہم نے مسئلہ سوم میں پیش کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

الی الصواب الا انحلال عقدۃ ھذا المبنی فاما المفصلون فقد اعتمدوا المظان وھی الجادۃ الواضحۃ واما المثبتون فنظروا الی حال الحضر والسفر فی منازل ذات مناھل وماء الشرب واما النافون فالی حال السفر فی منازل قلیلۃ المیاہ وماء الطھر۔

وانا اقول :   وبالله التوفیق انما(۱) المبذول عادۃ ماء الشرب لاسیمافی الحضر واما(۲) ماء الطھر خصوصا الغسل فکثیرمن الناس یضنون بہ فی الحضر علی الاجانب حذاران ینفدما عندھم فیتحرجوا الٰی ان یاتی السقاء اویحتاجوا الی کلفۃ الاستقاء بل ان کان احدھم علی رأس رکیۃ وسألہ غریب اوعابر سبیل ماعندہ من الماء للغسل بل للوضوء یقول امالك یدان الست علی البئر فکیف بالسفر۔

ثمّ (۳)لایحل التیمم الا اذا بعد الماء میلا ونعلم قطعا ان المقیم فی مصرہ یتحفظ علی الماء تحفظہ علی الطعام اذا بعد الماء عنہ بھذا القدر فکیف بمن فی السفر فالغالب ھی الضنۃ وما                                      

جنہوں نے اُس میں تفصیل کی ، اس میں بھی تفصیل کی تو صواب ودرستی تك رسائی کی راہ میں صرف اس مبنی کی گرہ کشائی حاصل رہی۔ تفصیل کرنے والوں نے ظن کی جگہوں پر اعتماد کیا۔ یہ صاف راستہ ہے۔ اور اثبات کرنے والوں نے حضر اور پنگھٹ اور پینے کے پانی والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ اور نفی کرنے والوں نے کم پانی والی اور آب طہارت کی قلّت والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ (ت)

اور میں کہتا ہوں : اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ جو عادۃً دیا جاتا ہے وہ صرف پینے کا پانی ہے ، خصوصًا حضر میں رہا طہارت خصوصًا غسل کا پانی تو اس میں بہت سے لوگ حضر میں بھی اجنبی لوگوں پر بخل کرتے ہیں اس اندیشہ سے کہ ان کا پانی ختم ہوجائےگا تو انہیں بہشتی کے آنے تك زحمت ومشقت ہوگی یا خود پانی کھینچنے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت ہوگی بلکہ اگر کوئی شخص کسی کنویں ہی پر ہو اور اس سے کوئی مسافر یا راہ گیراس کا پانی غسل بلکہ وضو کیلئے بھی مانگے تو وہ کہے گا کیا تمہارے پاس ہاتھ نہیں؟ کیا تمہارے سامنے کنواں نہیں؟ یہ تو حضر کا حال ہے پھر سفر کا کیا حال ہوگا؟ (ت)

پھر یہ دیکھئے کہ تیمم کا جواز کب ہوتا ہے؟ جب پانی ایك میل دُوری پر ہو اور یہ ہمیں قطعًا معلوم ہے کہ جب پانی اس قدر دُور ہوگا تو مقیم اپنے شہر میں پانی کی ویسے ہی حفاظت رکھے گا جیسے کھانے کی حفاظت رکھتا ہے پھر اس کا کیا ہوگا جو سفر میں

لکونہ مبذولا فیہ من مظنۃ الافی خصوص صور(۱) عدیدۃ کأن(۱) یکون من لہ الماء ولم ھذا او(۲) شقیقہ او(۳) صدیقہ او(۴) اجیرہ او(۵) رعیتہ او(۶) یھا بہ او(۷) لہ فیہ طمع یریدہ او(۸) یعلم ھذا ان الرجل غیرشحیح و لالئیم ولامناوٍ لہ وان عندہ من الماء ماان اعطانی منہ فضل لہ مایبلغہ المنزل وافیا بحاجاتہ من دون تقصیرولاتقتیراو(۹) یکون ھذا مریضا مقعدا اشل مثلا وھو علی رأس البئر او(۱۰) یعلم انہ کریم النفس یستحیی ان یرد السائل لاسیما انکان ممن یؤثرون علٰی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ففی مثل ھذہ الصوریصح لہ الظن الاعطاء المعتبر فی الشرع وھو اکبر الرأی الملتحق فی العمل بالیقین دون الظن الضعیف الملحق بالشك ولاشك ان ھذہ الصور اقل بکثیرمن غیرھا فکیف یقال ان ماء الطھر مبذول عادۃ بل مظنون بہ غالبًا نعم لم تبلغ قلۃ ھذہ الصورحد ندرۃ توجب طرحھا عن النظر ونوط الحکم بالمظنۃ فوجب ادارۃ الامر علی ظنہ وھو اعلم بنفسہ فلا(۲) یقید بموضع فیہ الماء عزیز  اوغزیرفلاشك ان الوجہ ھو التفصیل ھذا فی الحکم۔

ہو؟ تو سفر میں زیادہ تر بخل ہی ہوگا۔ اور سفر میں پانی کے مبذول ہونے کی کوئی جگہ نہیں مگر چند گنی چنی صورتوں میں مثلًا یہ کہ (۱) پانی کا مالك اس کی اولاد سے ہو ، (۲) یا اس کا سگا بھائی ہو (۳) یا دوست ہو ، (۴) یا ملازم ہو (۵) یا رعیت ہو (۶) یا اس سے ڈرتا ہو (۷) یا اسے اس سے کوئی طمع ہو جسے وہ بروئے کار لانا چاہتا ہو (۸) یا جانتا ہو کہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن