دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

(۳) دربارہ استقبال شمال عوام بلکہ دانستہ حضرات چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کا قبلہ خصوصًا سرورِ انبیاء سرتاجِ اصفیاء روحی فداہ کاقبلہ بھی بیت المقدس ہی تھا اور وہ واقع بہ شمال ہے اور روضہ شیخ سید عبدالقادر گیلانی قدس سرہ العزیز بھی بسوئے شمال ہے لہذا استقبالِ شمالی میں کمال درجہ کی بے ادبی ہے تو کیا یہ ہر دومقاماتِ اقدس واقع بہ شمال ہیں اور استقبال شمال میں کوئی ممانعت شرع میں پائی جاتی ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

(۱) پاخانہ پیشاب کے وقت قبلہ معظمہ کا استقبال واستدبار دونوں ناجائز ہیں والله تعالٰی اعلم۔

(۲) شمال جنوب کی کوئی تخصیص نہیں قبلہ کو نہ مُنہ ہو نہ پیٹھ پھر جس طرف بھی بیٹھے جائز ہے والله تعالٰی اعلم۔

(۳) نہ بیت المقدس یہاں سے ٹھیك شمال کو ہے نہ بغداد شریف ، بلکہ دونوں یہاں سے جانبِ مغرب ہی ہیں اگرچہ شمال کو قدرے جھُکے ہوئے اور شریعت پر زیادت کی اجازت نہیں اور اگر اُن لوگوں کا کہنا فرض کرلیا جائے کہ وہ جانبِ شمال ہی ہیں تو فقط استقبال ہی بے ادبی نہیں بلکہ استدبار بھی۔ اب مشرق یا مغرب کو منہ کرنا تو یوں منع ہوا کہ کعبہ معظمہ کو منہ یا پیٹھ ہوگی اور جنوب وشمال کویوں منع ہواکہ بیت المقدس یا بغداد شریف کو رُویا پشت ہوگی تو قضائے حاجت کے وقت کسی طرف منہ کرنے کی اجازت نہ رہی۔ یہ کیونکر ممکن۔ ہر جہت کا حکم اُس کے دونوں پہلوؤں میں ۴۵ ، ۴۵ درجے تك رہتا ہے جس طرح نماز میں استقبالِ قبلہ ، تو تمام آفاق کا احاطہ ہوگیا اور قضائے حاجت کی کوئی صورت نہ رہی۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۴۶ :                از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب     رمضان ۱۳۳۰ھ

بچّوں کے گلے میں بچّوں کے ماں باپ بچّوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اُوپر اُس کے کپڑا پاك چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایك دو آیت ، بچّے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

 تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جُداگانہ میں رکھ کر بچّوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اُس میں بعض آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے ، ہاں افضل احتراز ہے ، درمختار میں ہے :

رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول

غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء

الخلاء بہ والاحتراز افضل [1]

میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)

ردالمحتار میں ہے :

الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الاٰن بالھیکل والحمائل المشتمل علی الاٰیات القراٰنیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب [2]۔

ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے ، نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)

بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرك ہے۔

وانما الاعمال بالنیات ٣[3] وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی الله تعالٰی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللّٰہ۔

اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اونٹوں کی رانوں پر لکھا “ اللہکی راہ میں روکا ہوا “ ۔ (ت)

اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔

اوّلًا : قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور اُن کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اُسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن ، جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ، اُس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اُس کتاب کے ورق کو بھی چھُونا جائز۔

ثانیًا : اُس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلافِ شرع ہے کہ اُس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلافِ مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃً منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا :

کان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ الشَّدِّ لَھا لئلا یکون فی صورۃ المنع فاشبہ الغلق علی باب المسجد[4]۔

متقدمین ، قرآن پاك کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)

ثالثًا : قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعًا مکروہ ناپسند ہے ، امیر المومنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایك شخص کے پاس قرآن مجید باریك لکھا ہُوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب اللّٰہ[5]۔ رواہ ابو عبید فی فضائل القراٰن کتاب اللہکی عظمت کرو۔ (ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)امیر المومنین علی کرم اللہوجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے[6] رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنّفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنّف میں روایت کیا ، اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا[7] رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے



[1]   دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴

[2]   ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۳۱

[3]   صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲

[4]                 تبیين الحقائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ مطبوعہ بولاق مصر ۱ / ۱۶۸

[5]   

[6]   

[7]   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن