30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرہ تحریما بشیئ محترم یدخل فیہ الورق قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ ورق الکتابۃ لہ احترام لکونہ اٰلۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین واذاکانت العلۃ کونہ اٰلۃ للکتابتہ یوخذ منھا عدم الکراھۃ فیما لایصلح لھا اذاکان قالعا للنجاسۃ غیر متقوم کماقدمنا من
کسی قابلِ احترام چیز کے ساتھ استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس میں ورق بھی داخل ہے کہا گیا ہے کہ اس سے لکھنے کا کاغذ مراد ہے اور کسی نے کہا اس سے مراد درخت کا پتّا ہے ، ان میں سے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ۔ کتابت کا کاغذ اس لئے قابلِ عزّت ہے کہ وہ کتابتِ علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علّت یہ بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آدابِ دین سے ہے اور جب اس کی علّت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کا
جوازہ بالخرق البوالی [1]۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پُرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔ (ت)
پیشاب کے لئے خالی پانی بھی کافی ہے اگر کوئی عذر نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
الجمع بین الماء و الحجر افضل ویلیہ فی الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الاقتصار علی الحجر وتحصل السنۃ بالکل وان تفاوت الفضل کما افادہ فی الامداد وغیرہ [2]۔
پانی اور پتھّر کو جمع کرنا افضل ہے صرف پانی پر اکتفاء کرنے میں بھی فضیلت ہے اور صرف پتھروں سے استنجا کرنا بھی باعثِ فضیلت ہے ہر ایك سے سنت پر عمل ہوجاتا ہے اگرچہ فضیلت میں فرق ہے جیسا کہ الامداد وغیرہ میں بیان کیا ہے (ت)
پُرانا کپڑا بھی کافی ہے ، زمین یا دیوار سے صاف کردینا بھی کافی ہے وفیہ عن امیر المؤمنین الفاروق الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(اس سلسلے میں حضرت امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حدیث مروی ہے۔ ت) ہاں کوئی صورت میسر نہ ہو تو جاذب سے بھی طہارت ہوجائیگی جبکہ نجاست کو درہم بھر سے زیادہ جگہ میں پھیلائے بغیر جذب کرلے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸ : از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استنجا چھوٹا خواہ بڑا باوجود دستیاب ہونے مٹی کے ڈھیلے کے محض پانی سے کرنے والے کی نسبت کیا حکم ہے؟
الجواب :
خلاف افضل ہے خصوصًا بڑا استنجاء والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹ : ازِ بیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب ۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے کہ اس کی ممانعت ہے کہ وہاں نہ تھوکے ، بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا مُنہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکرِ الٰہی
کرتا ہے تو اس کا لعاب ناپاك جگہ پر ڈالنا بیجا ہے ، ردالمحتار میں ہے :
لایبزق فی البول [3] اھ قلت والدلیل اعم کما علمت۔
پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت)
البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰ : از بنارس محلہ اودھوپورہ مرسلہ محمد بشیر الدین بن محمد قاسم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کو خطبہ پڑھتے وقت شك معلوم ہوا کہ مجھ کو قطرہ اُتر آیا اور خطبہ اس نے آلہ تناسل کو ہاتھ سے چھُوا تو کُچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے وضو نہ کیا اور اس شك کی حالت میں نمازِ جمعہ پڑھادی چونکہ اُس کو شك تھا کیونکہ ایسا واقعہ اس سے قبل کئی مرتبہ اس کو ہوچکا تھا مگر اور مرتبہ وضو کرلیتا تھا اس مرتبہ اُس نے وضو نہ کیا تو بعدِ نمازِ جمعہ جب اکثر لوگ چلے گئے تو اس نے آلہ تناسل کو دیکھا تو اوپر سے کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اُس نے دُودھ دوہنے کی طرح دوہا تو ذراسی تری معلوم ہوئی تو اب لوگوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر نہیں ہوئی تو اس میں کیا کرنا چاہئے یہ بھی نہیں معلوم کہ نمازِ جمعہ میں کتنے لوگ اور کہاں کہاں کے آدمی تھے خطیب بہت گھبرایا ہے اور اُس کی نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ خدا کے پاس رہائی ہو اور شریعتِ مطہرہ کیا حکم اس میں دیتی ہے ، بینوا توجروا۔
الجواب :
صورتِ مذکورہ میں نہ وضو گیا نہ نماز میں خلل آیا نہ کسی کو اطلاع دینے کی حاجت نہ وسوسہ پر عمل کی اجازت۔ حدیث میں ارشاد ہواہے کہ شیطان دھوکا دینے کے لئے تھوك دیتا ہے جس سے تری کا شبہہ ہوتا ہے۔ جب ہاتھ سے دیکھ لیا تری نہ تھی پھر دغدغہ کا کیا محل رہا ، بعد نماز دیر کے بعد جب اکثر لوگ چلے گئے اگر دیکھنے سے تری نظر بھی آئی تو اس سے ختم شدہ نماز پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا فان الحادث یضاف لاقرب اوقاتہ (نوپید (نجاست) کو قریب وقت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ ت) نہ کہ اُس وقت نیز تری نہ پائی دودھ کی طرح دوہنے سے اگر کچھ نکلی تو وہ یقینا ابھی نکلی اب اس وقت وضو گیا نہ کہ پہلے سے جاتا رہا۔ امام عبداللہبن مبارك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشاگرد جلیل سیدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب حالت ایسے یقین کی ہوکہ تم قسم کھاکر کہہ سکو کہ وضو نہ رہا اُس وقت سے اعتبار کیا جائے گا اور جب تك شك ہو جس پر قسم نہ کھاسکو وضو برقرار ہے امام اجل ابراہیم نخعی استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمفرماتے ہیں : “ شیطان کے وسوسے پر عمل نہ کرو اگر وہ زیادہ پریشان کرے تو اس سے کہے میں بے وضو ہی پڑھوں گا تیری نہ سُنوں گا ، یوں وہ خبیث باز آتا ہے اور اُس کی سنو تو اور زیادہ پریشان کرتا ہے “ ۔ ہاں اگر یہ حالت ہوتی کہ قطرے اُترنے کا ظن غالب ہوگیا تھا اور وضو نہ رہنے پر یقین فقہی ہوچکا تھا پھر دانستہ نماز پڑھادی تو ضرور نماز نہ ہوتی اور سخت سے سخت گناہِ کبیرہ ہوتا اور عذاب شدید عظیم کا استحقاق ہوتا اور تمام مقتدیوں کو اطلاع دینی فرض ہوتی زبانی یا خط بھیج کر۔ اور جو غیر معروف رہے اُن کے لئے متعدد جُمعوں جماعتوں میں اعلان کرنا ہوتا کہ فلاں جمعہ کی نماز باطل تھی ظہر کی قضا پڑھو۔ لیکن مسلمان سے اس کی توقع بہت بعید ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱ : از بلند شہر قریب جامع مسجد مرسلہ رحمت اللہصاحب ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع