30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۳۲ : از موضع چُپڑا ڈاك خانہ باسی ضلع پورینہ مرسلہ کلیم الدّین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
پیشاب کرکے اُسی جلسہ میں بغیر کلوخ کے استنجا کرنا صرف پانی سے درست ہے یا نہیں؟ یا کلوخ سے لینا شرط ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول مقبول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بغیر کلوخ کے صرف پانی سے استنجا اُسی جلسہ میں کرتے تھے ہم لوگوں کے واسطے کیوں ناجائز ہوگا؟
الجواب :
ناجائز نہیں ہے صرف افضل ہے کہ ڈھیلے کے بعد پانی ہو اور بغیر ڈھلے کے اُسی جلسہ میں ہوتو اقویا کے لئے جن کو قطرہ آنے کا اندیشہ نہ ہو یا جن کو قطرہ حرارت سے آتا اور پانی سے بند ہوجاتا ہو ان کے لئے کوئی حرج نہیں ورنہ ناجائز ہے کہ استبرا واجب ہے یعنی وہ فعل کرنا کہ اطمینان ہوجائے کہ اب قطرہ نہ آئے گا والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳ : از کاٹھیاوار گونڈل مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب قادری برکاتی رضوی۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یہاں مسجد جامع میں پیشاب خانے اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ استنجے کے وقت آدمی کا رُخ مشرق اور پُشت مغرب کی طرف ہوتی ہے یہ کیسا ہے باجود چند علماء کے منع کرنے کے بھی اہل محلہ بے پرواہی کرکے ایسے پیشاب خانے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے حق میں کیا حکم ہے ، نیز اُس شخص کے لئے جو ہمیشہ ان پیشاب خانوں میں مشرق کی طرف مُنہ اور مغرب کی طرف پشت کرکے پیشاب وغیرہ کرتا ہو اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :
پیشاب کے وقت مُنہ نہ قبلہ کو ہونا جائز ہے نہ پشت ، جو لوگ ایسا کریں خطاکار ہیں مہتممین مسجد یا اہلِ محلّہ پر واجب ہے کہ اُن کا رُخ جنوبًا شمالًا کریں اور جب تك ایسا نہ ہو پیشاب کرنے والوں پر لازم ہے کہ رُخ بدل کر بیٹھیں ممکن ہے کہ جو لوگ واقف ہوں وہ ایسا ہی کرتے ہوں مسلمان پر نیك گمان چاہئے صرف اتنی وجہ سے اُن کی امامت ناجائز نہیں کہی جاسکتی والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ : مسئولہ شاہ محمد از دار العلوم منظر اسلام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
زید دروقت خشك کردن استنجا برعمرو سلام علیك گفت آیا عمروکہ استنجا خشك میکند جواب سلام زید رابدہد یانہ واگر دہدچہ گناہ ست واگر گناہ ست دلیل چیست۔ زید نے استنجا خشك کرتے وقت عمرو کو سلام کیا ، کیا عمرو ، جو استنجا خشك کررہا ہے زید کے سلام کا جواب دے یا نہ؟ اگر دے تو گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ (ت)
الجواب :
اوبیچنان ست کہ بہ کسے ہنگام کمیزاندا ختنش سلام کنی کہ خشك کردن نمود مگر بسبب بقائے قطرات بول واللہتعالٰی اعلم۔
وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تم کسی کو پیشاب کرتے وقت سلام کہو کیونکہ خشك کرنا اسی وقت ہوتا ہے جب پیشاب کے قطرے باقی ہوں۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۵ : از چوہرکوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہمی فرماند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخص راعادت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی
است کہ چوں ذکرادمی شپلد برسرآں بول برآید دمی ایستد رواں نمی گردداگر نمی شپلد برسرآں بول نمودار نشود آیا دریں صورت وضو اس شکستہ شودیانہ اگر دریں حالت وضو بشکند آیا صاحب عذر شودیانہ یا حکم است کہ اونہ شپلدونہ وسواس کند ہرگاہ کہ بول آید وضو بکند ہرچہ بگنجد بفرمایند اگر ایں عادت بود اووضو نمی کرد نمازہا خواندہ است آیا جملہ نماز باز گرداند یا معاف ست بیاعث حرج بسیار ازیں سوال بے ادبی معاف فرمایند۔
عادت ہے جب اس کا آلہ تناسل حرکت میں آتا ہے تو پیشاب اس کے (آلہ تناسل) کے سر کے اوپر آکر ٹھہر جاتا ہے جاری نہیں ہوتا اور اگر حرکت نہ کرے تو اس کے اوپر پیشاب ظاہر نہیں ہوتا کیا اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ، اگر اس حالت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا وہ معذور شمار ہوگا یا نہ؟ یا اسے نہ اچھلنے والے کا حکم دیاجائے اور کسی قسم کا وسوسہ نہ کرے جب پیشاب نکلے تو وضو کرے جو کچھ آنجناب فرمائیں۔ اور اگر اس کی یہ عادت تھی اور وضو کیے بغیر نمازیں پڑھتا رہا تو کیا تمام نمازیں لوٹائے یا زیادہ حرج کے باعث معاف ہے۔ سوال کرنے پر بے ادبی سے معاف فرمائیں۔ (ت)
الجواب :
کمیزتا آنکہ برلب عضو برنیاید وضو بجائے خودست نماز ہاکہ ایں چناں گزاردہ ست بے خلل ست فشردن عضو پس ازبول سنّت بیش نیست اگر میداندکہ ہربارکہ می فشرد چیزے برمی آید ومنقطع نمی شود واگر نفشرد برنیاید آنگاہ اور افشردن بکار نیست ہمچناں وضو کردہ نماز گزار دو وسوسہ رابدل رانہ ندہد والله تعالٰی اعلم۔
پیشاب جب تك عضو کے کنارے پر نہ آئے وضو قائم ہے جو نمازیں اس حال میں پڑھی ہیں ان میں کوئی خرابی نہیں۔ پیشاب کے بعد عضو کو جھاڑنا صرف سنت ہے اس سے زیادہ (فرض یا واجب) نہیں ، اگر سمجھتا ہوکہ جب بھی جھاڑے گا کچھ نہ کچھ باہر آئے گا اور پیشاب ختم نہیں ہوگا اور اگر نہیں جھاڑے گا تو نہیں آئے گا اس صورت میں جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وضوکرکے نماز پڑھے اور دل میں کسی قسم کے وسوسہ کو جگہ نہ دے والله تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۳۶ : شہر بریلی (دارالعلوم) منظر الاسلام مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم دارالعلوم مذکور ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا صحن اس طرح پر ہے کہ نصف حوض کے داہنے بائیں صحن مسجد ہے اور نصف کے اردگرد صرف زمین مقام الف میں اُس کے سیڑھیاں ہیں زید کو مرض ہے کہ اگر ڈھیلا لے کر فورًا علی الاتصال پانی سے استنجا پاك نہ کرے تو قطرہ آجاتا ہے اب وہ استنجا کرتا ہوا آیا ہے پانی حوض میں بہت نیچا ہوگیا ہے اور اِدھر اُدھر لوٹوں میں وضو کا بچا ہوا پانی رکھا ہے وہ مقام ب سے فصیل فصیل مقام الف تك ہاتھ میں درحالیکہ (درحالیکہ رضائی یا چادر وغیرہ اوڑھے ہو) جاکر پانی لاسکتا ہے یا نہیں۔
نقشہ یہ ہے :

الجواب :
جبکہ حوض کی فصیل ہی پر گیا اور چادر اوڑھے ہے صحنِ مسجد میں قدم نہ رکھا ، یوں جاکر پانی لے آیا اور غسل خانہ میں استنجا کیا تو اصلا کسی قسم کا حرج نہیں حوض وفصیل حوض مسجد سے خارج ہے ولہذا اس پر وضو واذان بلاکراہت جائز ہے والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۷ : از رنگون مرسلہ سیٹھ عبدالستار ابن اسمٰعیل صاحب رضوی ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع