30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لوٹا پانی سے استنجاء وضو درست ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر یہ مطلب ہے کہ استنجا کے بچے ہوئے کہ پانی سے وضو کیا جائے یا نہیں ، تو جواب یہ ہے کہ حرج نہیں ، اور اگر یہ مطلب ہے کہ اتنے تھوڑے پانی میں استنجا ووضو دونوں کر لینا تو جواب یہ ہے کہ استنجا میں تطہیر شرط ہے اتنا دھونا کہ بدن پر سے چکنائی جاتی رہے اور وضو میں بُنِ مو سے ٹھوڑی کے نیچے اور ایك کان سے دوسرے کان تك سارے منہ اور ناخنوں سے کہنیوں کے اوپر تك دونوں ہاتھ اور گٹّوں تك دونوں پاؤں ایك ایك بار دھونا فرض ہے اور تین تین بار سنّت یوں کہ اتنے جسم کے ایك ایك ذرّہ پر پانی بہتا ہوا گزرے اگر کوئی ذرّہ پانی بہنے سے رہ جائے گا اگرچہ بھیگا ہاتھ اُس پر گزر جائے تو وضو نہ ہوگا نماز نہ ہوگی اور اگر تین بار کامل ہر ہر ذرّہ پر نہ بہا تو سُنّت ادا نہ ہوگی اور ابتدائے وضو میں تین بار کلائیوں تك ہاتھ دھونا تین بار سارا دہن حلق کی جڑ تك دھونا تین بار ساری ناك میں اوپر تك پانی چڑھانا سنّت ہے اور ایك چُلّو پانی مسحِ سرکو چاہے۔ یہ سب باتیں بلاافراط وتفریط جتنے پانی میں ادا ہوجائیں اُسی قدر درکار ہے لوٹے دو لوٹے کی کوئی تخصیص نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ : از ضلع ناگپور ڈاکخانہ محلہ نیابازار حافظ محمد اکبر بروزشنبہ ۲۴ رجب ۱۳۳۴ھ
چہ می فرمایند علمائے دینِ متین رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دریں مسئلہ کہ بیعت کردن یعنی مرید شدن بدست اشر فعلی دیوبندی بہ کاغذات جائز ست یا نہ۔ اور ان کے رسالوں پر علانیہ عمل کریں یا استنجا کرکے پھینك ڈالیں بقول فقہاء کے یجوز الاستنجاء باوراق المنطق (منطق کے مکتوب اوراق سے استننجا جائز ہے۔ ت)
اور یہ رسالے منطق سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اشرفعلی کے ہاتھ پر بیعت حرام قطعی ہے بالمشافہہ ہو خواہ بذریعہ تحریر بلکہ بعیت درکنار علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اُس کے کفر میں شك کرے وہ خود کافر۔
اشرفعلی اور تمام دیوبندی عقیدے والوں کی کتابیں کتب منطق بلکہ ہنود کی پوتھیوں سے بدتر ہیں کہ انہیں دیکھ کر مسلمان کے بگڑنے کی اتنی توقع نہیں جو ان کتابوں سے ہے ان کا دیکھنا بیشك حرام ہے مگر وہ کہ ان کے ورقوں سے استنجا کیا جائے یہ زیادتی ہے اور بعض فقہاء کا وہ لکھ دینا مقبول نہیں حروف کی تعلیم لازم ہے کہ نہ انکی کتابیں کہ ان کی کتابوں میں قال اللہوقال الرسول بھی ہے جس سے وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں ایك امام کا بعض نوجوانوں پر گزر ہُوا جنہوں نے نشانہ پر ابوجہل کا نام لکھ کر لگایا اور اس پر تیر اندازی کررہے تھے امام نے انہیں منع فرمایا جب اُدھر سے واپس تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ اُنہوں نے نامِ ابوجہل کے حروف متفرق کردیے اب ان پر تیر لگارہے ہیں فرمایا میں نے تمہیں نامِ ابوجہل کی تعظیم کو نہ کہا تھا بلکہ حروف کی تعظیم کو۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۷ ، ۲۲۸ : مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ مقیم بر دردولت اعلحٰضرت قبلہ۔ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱) عورت بعد پیشاب کلوخ لے یا صرف پانی سے استنجا کرے۔
(۲) بعد پیشاب حالت کلوخ میں سلام کرنا یا سلام کا جواب یا کلوخ کرتے ہوئے کو سلام کرنا کیسا ہے؟
الجواب
(۱) دونوں کا جمع کرنا افضل ہے اور اس کے حق میں کلوخ سے کپڑا بہتر ہے۔
(۲) نہ اُس پر سلام کیا جائے نہ وہ سلام کرے اور نہ جواب دے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹ : ازمقام بھوٹا بھوٹی بسورٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمٰعیل میاں صاحب حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ
مسلمان کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے بلند مکان پر جائز ہے۔
الجواب :
کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ سنّتِ نصارٰی ہے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے : من الجفاء ان یبول الرجل قائما [1] بے ادبی وبدتہذیبی ہے یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے۔ رواہ البزار بسند صحیح عن بریدۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(اسے بزار نے بسند صحیح حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ ت) اس کی پُوری تحقیق مع ازالہ اوہام ہمارے فتاوٰی میں ہے والله تعالٰی اعلم۔
سوال۲۳۰دوم : بعد فراغت جائے ضرور کے کاغذ سے استنجا پاك کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے ریل گاڑی میں درست ہے۔
الجواب :
کاغذ سے استنجا کرنا مکروہ وممنوع وسنّتِ نصارٰی ہے کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے اگرچہ سادہ ہو ، اور لکھا ہوا ہو تو بدرجہ اولٰی۔ دُرمختار میں ہے کرہ تحریما بشیئ محترم [2] (کسی قابلِ احترام چیز کے ساتھ (استنجا) مکروہ تحریمی ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
یدخل فیہ الورق قال فی السراج قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ واقرہ فی البحر وغیرہ والعلۃ فی ورق الشجر کونہ علفا للدواب اونعومتہ فیکون ملوثا غیر مزیل وکذا ورق الکتابۃ لصقالتہ وتقومہ ولہ احترام ایضا لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان
اس میں کاغذ بھی داخل ہے سراج میں فرمایا کہا گیا ہے کہ وہ کتابت کا ورق (کاغذ) ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے درخت کا ورق (پتّا) مراد ہے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں بھی اسے برقرار رکھا گیا ہے درخت کے پتّے (مکروہ ہونے کی) علّت اس کا جانوروں کے لئے چارہ ہونا یا اس کی نرمی ہے پس یہ ملوث کرنے والا ہے (نجاست کو) دُور کرنیوالا
تعظیمہ من ادب الدین ونقلوا عندنا ان للحروف حرمۃ ولومقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قراٰن انزلت علی ھود علیہ الصلوٰۃ والسلام [3]۔
نہیں اسی طرح کاغذ ، صاف اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے ، نیز وہ قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یوں بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے (فقہاءِ کرام) نے نقل کیا ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی عزّت ہے اگرچہ وہ کٹے ہوئے ہوں بعض قراء نے فرمایا کہ حروفِ تہجی بھی قرآن ہیں جو حضرت ہُود علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ (ت)
اور ریل کا عذر صرف زید ہی کو لاحق ہوتا ہے اور مسلمانوں کو کیوں نہیں ہوتا ، کیا ڈھیلے یا پرانا کپڑا نہیں رکھ سکتے ، ہاں سنّتِ نصارٰی کا اتباع منظور ہو تو یہ قلب کا مرض ہے دواچاہئے واللہتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱ : از قصبہ واساواڑ ضلع کاٹھیا واڑ مرسلہ سید احمد صاحب پیش امام ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے بعد پیشاب کلوخ لیا اور استنجا کرنا بھُول گیا بعد اس کے نماز اداکرلی یا ادائیگی نماز یا بعد نماز یاد آیا کہ میں استنجا بھُول گیا ، نماز ہوگئی یا اعادہ کرنا چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع