دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اقول :  انما اتجہ ھذا علی المنذری لزیادتہ خشیۃ التطایر ولوقال کماقلت لسلم قفد تکون مجمع نجاسات رطبۃ لایوجد معھا موضع جلوس ثم رأیت فی المرقاۃ قال قال السید جمال الدین قیل فعل ذلك لانہ لم یجد مکانا للقعود لامتلاء الموضع                              

عینی نے کہا منذری کہتے ہیں شاید ڈھیری میں تر نجاستیں تھیں اور وہ نرم تھیں اور آپ کو ملوث ہونے کا ڈر ہوا۔ امام عینی فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ یہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے کی نسبت اس ڈر کے زیادہ لائق ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں زمین کے نرم ہونے کی وجہ سے پیشاب اس میں اُتر جاتا ہے اور پیشاب کرنے والے کی طرف نہیں لَوٹتا اھ (ت)

اقول : امام منذری اس تاویل کی طرف اس لئے متوجہ ہوئے کہ انہوں نے چھینٹے اُٹھ کر لگنے کا زیادہ ڈر محسوس کیا اور وہ ہمارے والی بات کہتے تو وہ اعتراض سے بچ جاتے کیونکہ جہاں تَر نجاستیں جمع ہوں وہاں بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر میں نے مرقاۃ میں دیکھا صاحبِ مرقاۃ فرماتے ہیں سید جمال الدین نے فرمایا کہا گیا ہے

بالنجاسۃ[1]اھ فھذا ماذکرت وھو الصواب فی الجواب۔

آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمام جگہ نجاست سے بھری ہونے کی وجہ سے آپ کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اھ پس یہ ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا اور جواب میں یہی بہتر ہے۔ (ت)

چہارم : اُس میں ڈھال ایسا تھا کہ بیٹھنے کا موقع نہ تھا اسے ابہری وغیرہ نے نقل کیا۔

قال العینی قال بعضھم لانہ صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم لم یجد مکانا للقعود لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ علیا مرتفعا[2] اھ۔  وقال القاری فی المرقاۃ قال الابھری قیل کان مایقابلہ من السباطۃ عالیا ومن خلفہ منحدرا مستقلا لوجلس مستقبل السباطۃ سقط الٰی خلفہ ولوجلس مستدبرا لھا بدا عورتہ للناس اھ وقال بعد اسطر قیل فعل ذلك لانہ ان استدبر للسباطۃ تبدو العورۃ للمارۃ وان استقبلھا خیف ان یقع علی ظھرہ مع احتمال ارتداد البول الیہ [3] اھ۔

اقول اولًا  :  فی ھذہ الزیادۃ ماعلمت ان القائم اجدربہ۔ وثانیا :  لوکان مایستقبلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم منھا عالیا مرتفعا لم یکن ان یختارہ لھذا لارتداد البول ح قطعا بل الصواب فیہ                                                

عینی نے فرمايا بعض نے کہا ہے کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بیٹھنے کے لئے جگہ نہ پائی کیونکہ جس طرف آپ تھے ادھر سے ڈھیر بلند تھا اھ۔ حضرت ملّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مرقات میں فرمایا ابہری فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ آپ کے سامنے کی طرف ڈھیر بلند تھا اور پچھلی جانب جھُکا ہوا پست تھا اگر ڈھیر کی طرف منہ کرکے بیٹھتے تو پیچھے کی طرف گرپڑتے اور اُدھر پیٹھ کرکے بیٹھتے تو لوگوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اھ چند سطروں کے بعد فرمایا کہا گیا ہے آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ اگر ڈھیر کی طرف پیٹھ کرتے تو گزرنے والوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اور اگر منہ اُدھر کرتے تو پیٹھ کے بل گرنے کا ڈر تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی جانب پیشاب کے لَوٹنے کا احتمال بھی تھا اھ (ت) اقول اول : ان تمام اضافوں سے معلوم ہوا کہ کھڑا ہونا زیادہ مناسب تھا۔

دوم : اگر اس جانب جدھر آپ کا چہرہ مبارکہ تھا بلند جگہ ہوتی پیشاب کے لوٹنے کی وجہ سے آپ اسے قطعًا اختیار نہ فرماتے بلکہ اس میں بہتر بات وہی ہے جو

ماقال ابن حبان کمانقل عنہ فی فتح الباری انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یجد مکانا یصلح للقعود فقام لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ کان عالیا فامن ان یرتد الیہ شیئ من بولہ [4] اھ فجعل ماقام علیہ عالیا ومایقابلہ منحدرا وجعلہ سبب الامن من ارتداد البول فانقلب الامر علی من نقل عنہ الابھری فجعل ماقام علیہ منحدرا ومایقابلہ عالیا وجعلہ سبب خوف السقوط فی القعود مع انہ کذلك فی القیام الا نادرا۔

فان قلت ھذا یرد علی ابن حبان ایضا اذلایظھر الفرق فی مثلہ بین القیام والقعود لان الصبب اذاکان بحیث لایستقر علیہ القاعد فکذا القائم۔

اقول :  بلی قدتکون کھیأۃ مثلث لہ حرف دقیق یستقر علیہ القائم اذاوضع علیہ وسط قدمیہ لاعتدال الثقل فی الجانبین بخلاف القاعد فانہ لامستقر علیہ الالقدمیہ وساقیہ وثقل سائر جسمہ لاحامل لہ۔             

ابنِ حبان نے کہی ہے جیسا کہ فتح الباری میں ان سے نقل کیا گیا کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بیٹھنے کیلئے مناسب جگہ نہ پائی تو کھڑے ہوئے کیونکہ آپ کے سامنے سے ڈھیر بلند تھا پس آپ پیشاب لوٹنے کے خطرہ سے بے خوف ہوگئے اھ پس انہوں نے کھڑے ہونے کی جگہ کو بلند قرار دیا اور سامنے کی جگہ کو پست قرار دیا اور اسے پیشاب کے لوٹنے سے امن کا باعث خیال کیا تو معاملہ اس شخص کے خلاف ہوگیا جس سے ابہری نے نقل کیا کیونکہ اس نے کھڑے ہونیکی جگہ کو پست اور مقابل کی جگہ کو بلند قرار دیا اور اسے بیٹھنے کی صورت میں گرنے کے ڈر کا باعث قرار دیا حالانکہ اکثر کھڑے ہونے کی صورت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ اگر تم کہو کہ یہ اعتراض ابنِ حبان پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں فرق ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ جب نشیبی جگہ ایسی صورت میں ہوکہ وہاں بیٹھنے والا نہ ٹھہر سکے تو کھڑا ہونے والا بھی اسی طرح ہوگا۔

اقول؛ (میں کہتا ہوں) ہاں کبھی وہ تکونی شکل میں ہوتی ہے اس کے کنارے باریك ہوتے ہیں اگر کھڑا ہونے والا اس پر قدم کا درمیانہ حصہ رکھے تو وہ ٹھہر سکتا ہے کیونکہ دونوں طرف بوجھ برابر ہوتا ہے بخلاف بیٹھنے والے کے ، کیونکہ اس کے لئے تو صرف پاؤں اور پنڈلیوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جبکہ باقی جسم کے بوجھ کو اٹھانے والی کوئی چیز نہیں (ت)

پنجم : اُس وقت پشتِ مبارك میں درد تھا اور عرب کے نزدیك یہ فعل اس سے استشفاء ہے۔ یہ جواب امام شافعی وامام احمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کا ہے۔ چالیس طبیبوں کا اتفاق ہے کہ حمام میں ایسا کرنا ستّر مرض کی دوا ہے ،

ذکرہ القاری عن زین العرب عن حجۃ الاسلام قال العینی قال الشافعی لماسألہ حفص الفرد عن الفائدۃ فی بولہ قائما العرب تستشفی لوجع الصلب بالبول قائما فنری انہ کان بہ اذذاك [5] اھ۔ وفی فتح الباری روی عن الشافعی واحمد فذکر نحوہ قال العینی قلت یوضح ذلك حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ المذکور اٰنفا [6] اھ۔

اقول  : لاادری ماھذا فاین فعل شیئ للاستشفاء من مرض قصدا غیر مضطر الیہ من فعلہ مع عدم الاختیار لاجل الاضطرار۔

ششم :  زعم المارزی فی کتاب العلم فعل ذلك لانھا حالۃ یؤمن فیھا خروج الحدث من السبیل الاٰخر بخلاف القعود ومنہ قول عمر رضی الله تعالٰی عنہ البول قائما احصن للدبر [7] اھ ، نقلہ فی العمدۃ زاد العسقلانی ففعل ذلك لکونہ قریبا                         

 



[1]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۳۶۳

[2]   عمدۃ القاری ، باب البول قائمًا وقاعدًا ، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ، ۳ / ۱۳۶

[3]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۶۳

[4]        فتح الباری باب البول عند سباطۃ قوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۳

[5]   عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶

[6]   عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶

[7]   عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن