30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : وھنا عبارات اُخر لیست صرائح کماتقدم عن الخلاصۃ عن الاصل انہ یسأل فان (۱) الصیغۃ وان کان ظاھرھا الوجوب کثیرا ماتأتی
للندب کمالایخفی علی من خدم کلماتھم ویقرب منہ قول القدوری ان کان مع رفیقہ ماء طلب منہ قبل ان یتیمم فان منعہ منہ تیمم [1] اھ
والسراجیۃ
گزرا۔ اور تنویرمیں اپنے شیخ کا اتباع کرتے ہوئے اسی پر اعتماد کیا تو یہ لکھا کہ “ اس سے مانگنے سے پہلے ظاہر کی بنیاد پر تیمم نہیں کرے گا “ اھ۔ درمختار میں فرمایا : “ ظاہر سے مراد ہمارے اصحاب سے ظاہر الروایہ ، اس لئے کہ پانی عادۃً دیا جاتا ہے اور اسی پر فتوٰی ہے “ اھ (ت)
اقول : یہ لفظ میں نے کسی اور کے یہاں نہ دیکھا ، اور نہ ہی درمختار کے محشی حضرات نے اس پر کسی کا حوالہ دیا۔ تبیین میں ہے : اگر خارج نماز اسے اس کا علم ہوگیا پھر بھی مانگنے سے پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو یہ اس کیلئے کفایت نہیں کرسکتا “ اھ۔ پھر انہوں نے حسن کی روایت اور جصاص کی تطبیق ذکر کی۔
جواہر الاخلاطی میں ہے : “ اس کے رفیق کے پاس پانی ہے اور مانگنے سے پہلے نماز شروع کردی تو جائز نہیں اور کہا گیا کہ قول امام کے قیاس پر جائز ہے بخلاف قاضی کے۔ اھ (ت)
اقول : یہاں کچھ اور عبارتیں بھی ہیں جو صریح نہیں جیسے خلاصہ سے بحوالہ اصل گزرا کہ “ وہ مانگے گا “ اس لئے کہ صیغہ خبر اگرچہ وجوب میں ظاہر ہے لیکن ندب واستحباب کے لئے بھی کثرت سے آتا ہے جیسا کہ کلمات علما ءکے خدمت گزاروں پر مخفی نہیں۔ اس سے قریب یہ عبارتیں بھی ہیں (۱) اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو تیمم کرنے سے پہلے اس سے
اذاوجد مع رفیقہ ماء فانہ یسألہ فان لم یعطہ تیمم وصلی [2] اھ ، والکنز یطلبہ من رفیقہ فان منعہ تیمم [3] اھ کیف وقد قال مثلہ فی الملتقی واعتمد مذھب الامام وھذا نصہ ان کان مع رفیقہ ماء طلبہ وان منعہ تیمم وان تیمم قبل الطلب اجزأہ [4] اھ۔
تنبیہ : قولی ھھنا یجب مطلقا المراد بہ انھم ذکروھا مرسلۃ ولم یقیدوھا بمایاتی فی القول الثالث اذ ھذا ھو الواقع فی کلام المبسوط واتباعہ نعم حملہ الامام صدر الشریعۃ علی صریح التعمیم کماسیاتی فی ذکر قانونہ مع تضعیفہ ان شاء الله تعالٰی ویقرب منہ مامرعن الغنیۃ من حمل کل من قولی الامام وصاحبیہ علی التعمیم حتی تأتی لہ التلفیق وقد تقدم انہ لیس بتحقیق۔
وثالثھا : ادارۃ الامر علی ظنہ فان ظن العطاء وجب الطلب ولم یجز
طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ قدوری۔ (۲) “ اپنے رفیق کے پاس پانی پائے تو اس سے مانگے اگر نہ دے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے “ اھ سراجیہ۔ (۳) “ اپنے رفیق سے پانی طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ کنزالدقائق۔ یہ صیغہ ہاں وجوب کیلئے کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ملتقی میں بھی اسی کے مثل فرمایا پھر بھی ان کا اعتماد مذہب امام پر ہے ، ان کی عبارت یہ ہے : “ اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو اس سے طلب کرے ، اگر نہ دے تو تیمم کرے اور اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو بھی ہوگیا “ ۔ اھ (ت)
تنبیہ : میرے “ مطلقًا واجب “ کہنے سے مراد یہ ہے کہ علما نے اسے مرسل ذکر کیا ہے اور وہ قید نہیں لگائی ہے جو تیسرے قول میں آرہی ہے۔ اس لئے کہ مبسوط اور اس کے اتباع کے کلام میں یہی صورت واقع ہے (یعنی ارسال ہے تقیید نہیں)۔ ہاں امام صدر الشریعۃ نے اسے صریح تعمیم پر محمول کیا ہے جیسا کہ ان کے قانون کے ذکر میں تضعیف کے ساتھ اس کا ذکر آرہا ہے اِن شاء اللہتعالٰی۔ اور اس سے قریب وہ بھی ہے جو غنیہ سے گزرا کہ انہوں نے امام اور صاحبین کے دونوں قولوں کو تعمیم پر رکھا یہاں تك کہ ان کیلئے تلفیق کی گنجائش نکل آئی وہاں گزر چکا کہ یہ تحقیق نہیں۔ (ت)
مسلك سوم : معاملہ اس کے گمان پر دائر رکھنا کہ اگر اسے دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے
التیمم قبلہ تقدم فیہ نص النھایۃ وستأتی نصوص البحر المحیط والمنیۃ والخزانۃ والبرجندی وفی الخانیۃ وخزانۃ المفتین رأی مع رفیقہ ماء ان کان غالب ظنہ انہ یطیہ لایجوزلہ ان یتیمم بل یسألہ[5] اھ وفی الکافی مع رفیقہ ماء وظن انہ ان سألہ اعطاہ لم یجز التیمم وان کان عندہ انہ لایعطیہ تیمم وان شك وتیمم وصلی فسأل فاعطی یعید [6] اھ وفی
الھندیہ بعد نقلہ وھکذا فی شرح الزیادات للعتابی[7] اھ ، وفی البرجندی نقل عن القاضی الامام ابی زید رحمہ الله تعالٰی انہ یجب الطلب فی موضع لایعز الماء فیہ لافی موضع یعز [8] اھ ، وفی المنیۃ وشرح مسکین للکنز وعن ابی نصر الصفار رحمہ الله تعالٰی اذاکان فی موضع یعز فیہ الماء فالافضل ان یسأل من رفیقہ وان لم یسأل اجزأہ فان کان فی موضع لایعز الماء فیہ لایجزئہ قبل الطلب [9] اھ زاد فی المنیۃ کمافی عمرانات [10]۔
واعتمدہ الشرنبلالی فی متنہ وشرحہ فقال یجب طلبہ ممن ھو معہ
اور اس سے پہلے تیمم جائز نہیں۔ اس بارے میں نہایہ کی عبارت گزرچکی اور بحر محیط ، منیہ ، خزانہ اور برجندی کی عبارتیں آرہی ہیں۔ خانیہ اور خزانۃ المفتین میں ہے : “ اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا اور گمان کیا کہ اگر اس سے مانگے تو دے دے گا تو تیمم جائز نہیں بلکہ اس سے طلب کرے “ اھ
اور کافی میں ہے اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو اور اسے گمان ہو کہ اگر طلب کرے تو دے دےگا تو تیمم جائز نہیں اور اگر اس کے گمان میں یہ ہو کہ نہیں دےگا تو تیمم کرے اور اگر شك رکھتا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو اعادہ کرے “ اھ ہندیہ میں مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : “ اسی طرح عتابی کی شرح زیادات میں ہے “ اھ۔ برجندی میں قاضی امام ابوزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے نقل ہے کہ “ مانگنا اےسی جگہ واجب ہے جہاں پانی کمیاب نہ ہو ایسی جگہ نہیں جہاں کمیاب ہو “ اھ۔ منیہ اور شرح مسکین للکنز میں ہے کہ ابو نصر صفار سے ہے کہ جب ایسی جگہ ہو جہاں پانی کم یاب ہو تو بہتر یہ ہے کہ اپنے رفیق سے طلب کرے اور اگر طلب نہ کیا تو یہ اس کو کفایت کرے گا اور اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں پانی کمیاب نہیں ہوتا تو طلب سے پہلے اسے کفایت نہیں کرے گا اھ منیہ میں یہ اضافہ کیا :
لانہ مبذول عادۃ فلاذل فی طلبہ انکان فی محل لاتشح بہ النفوس [11] اھ ومنھا العبارات التی قدمنا فی المسألۃ الثالثۃ والرابعۃ عن الزیادات ومحیط السرخسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وصدر الشریعۃ والبحر والھندیۃ تصریحا وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ مفھوما من الامر بقطع الصلاۃ عندظن الاعطاء فانہ یوجب الوجوب اذ لولاہ عــہ لماحل القطع ویقابلھا اطلاق نص الخانیۃ وخزانۃ المفتین شرع بالتیمم ثم جاء انسان معہ ماء فانہ یمضی فی صلاتہ[12] اھ
[1] قدوری باب التیمم مطبع کان پور ص۱۲
[2] فتاوٰی سراجیہ باب التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص۱۲
[3] کنز الدقائق مع التبیین باب التیمم المطبعۃ الازہریہ بولاق مصر ۱ / ۴۴
[4] ملتقی الابحرمع مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی ۱ / ۴۴
[5] فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
[6] ف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع