30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دو۲ شخصوں پر عذابِ قبر ہوتے دیکھا۔ فرمایا :
کان احدھما لایستر من بولہ وکان الاٰخر یمشی بالنمیمۃ [1]رواہ الستۃ عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھا۔
ان میں ایك تو اپنے پیشاب سے آڑ نہ کرتا تھا اور دُوسرا چغلخوری کرتا۔ (م)اسے چھ۶ محدثین (اصحابِ ستہ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما سے روایت کیا ہے (ت)
سوم : رہگزر پر ہویا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعثِ بے پردگی ہوگا بیٹھنے میں رانوں اور زانوؤں کی آڑ جاتی ہے اور کھڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعثِ لعنتِ الٰہی ہے۔ حدیث میں ہے :
لعن الله الناظر والمنظور الیہ[2] ھکذا فی حفظی ولایحضرنی الاٰن من خرجہ والله تعالٰی اعلم۔
جو دیکھے اس پر بھی لعنت اور دکھائے اس پر بھی لعنت۔ (م) میرے ذہن میں اسی طرح ہے لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے۔ اللہتعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
چہارم : یہ نصارٰی سے تشبّہ اور ان کی سنّتِ مذمومہ میں اُن کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علّت اور یہ موجبِ عذاب وعقوبت ہے۔ اللہعزوجل فرماتا ہے : لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-[3]۔ شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ (ت)رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
من تشبّہ بقوم فھو منھم[4]۔
جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
اس حرکت سے نہی اور اس کے بے ادبی وجفا وخلافِ سنّتِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہونے میں احادیثِ صحیحہ معتمدہ وارد ہیں۔
حدیث اوّل : امام احمد وترمذی ونسائی وابن حبان صحیح میں اُمّ المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے راوی :
من حدثکم ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان یبول قائما فلاتصدقوہ ماکان یبول الاقاعدا[5]۔
جو تم سے کہے کہ حضور اقدس اطہر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوکر پیشاب فرماتے اُس سچّا نہ جاننا حضور پیشاب نہ فرماتے تھے مگر بیٹھ کر۔ (م)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
حدیث عائشۃ احسن شیئ فی ھذا الباب واصح[6]۔
جتنی حدیثیں اس مسئلہ میں آئیں ان سب سے یہ حدیث بہتر وصحیح تر ہے۔ (م)
یہی حدیث صحیح ابوعوانہ ومستدرك حاکم میں ان لفظوں سے ہے :
مابال قائما منذانزل علیہ القراٰن [7]۔
اقول : وبہ اندفع ماوقع للامامین الشھاب ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری والبدر محمود العینی فی عمدۃ القاری حیث قالا واللفظ للعینی الجواب عن حدیث عائشۃ رضی الله تعالٰی عنھا انہ مستند الی علمھا فیحمل علی ماوقع منہ فی البیوت وامافی غیر البیوت فلاتطلع ھی علیہ وقدحفظہ حذیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ
جب سے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر قرآن مجید اُترا کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ فرمایا۔ (م)
اقول : اس سے وہ شُبہہ دُور ہوگیا جو دو۲ اماموں الشہاب ابنِ حجر عسقلانی کو فتح الباری میں اور البدر محمود عینی کو عمدۃ القاری میں پیش آیا کہ انہوں نے فرمایا (الفاظ عینی کے ہیں) حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کی معلومات سے منسوب ہے پس اسے اس صورت پر محمول کیا جائیگا جو آپ سے گھروں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ لیکن گھروں کے علاوہ پر ام المومنین مطلع نہیں ہوئیں اسے حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے
وھو من کبار الصحابۃ[8] اھ۔ وذلك انھا رضی الله تعالٰی عنھا انما ولدت بعد نزول القراٰن بخمس سنین فکیف یحمل علی مارأت من فعلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی البیوت وانما تقولہ عن توقیف وبہ یترجح ان حدیث حذیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ کان لعذر والاعذار مستشناۃ عقلا وشرعا ثم اذاثبتت ھذہ سنتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مختلیافی بیتہ الکریم تثبت دلالۃ فی الخارج فان خارج البیوت احوج الی الستر والتزام الادب قال العینی وایضا یمکن ان یکون قول عائشۃ رضی الله تعالٰی عنھا مابال قائما یعنی فی منزلہ والا اطلاع لھا علی مافی الخارج[9] اھ۔
اقول : ماھو الاالاول وقدعلمت ردہ فلاادری مامعنی قولہ وایضا۔
یاد رکھا اور وہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اھ۔
نیز ام المومنین نزولِ قرآن کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں لہذا اسے کیسے اس پر محمول کیا جائے جو ام المومنین نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا علم گھروں میں دیکھا آپ تو بتانے سے بیان فرمارہی ہیں (یعنی یہ حدیث موقوف ہے) اس سے اس بات کو ترجیح حاصل ہوگئی ك حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت ایك عذر کی بنیاد ہے اور عذر عقلی اور شرعی طور پر مستشنٰی ہوتے ہیں۔ پھر جب آپ کی یہ سنّت خانہ اقدس کی خلوت میں ثابت ہوگئی تو بطور دلالت باہر بھی ثابت ہوگئی کیونکہ گھروں سے باہر ستر اور آداب کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، امام عینی فرماتے ہیں نیز ممکن ہے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا قول کہ “ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا “ سے مراد یہ ہوکہ آپ نے گھر میں کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا آپ کو باہر کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اھ (ت)
اقول : بات تو وہی پہلی ہے اور تمہیں اس کا رد معلوم ہوچکا ہے پس مجھے معلوم نہیں کہ ان کے قول “ ایضًا “ کا کیا مطلب ہے۔ (ت)
[1] ترمذی شریف باب التشدید فی البول مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۱۱
[2] مشکوٰہ شریف باب النظر الی المخطوبۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۷۰
[3] القرآن الحکیم ۲ / ۱۶۸
[4] مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث ابن عمر ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت لبنان ۲ / ۵۰
[5] جامع الترمذی شریف باب النہی عن البول قائمًا ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ، ۱ / ۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع