دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

خلاف کرے گا تو ترك تعظیم کی وجہ سے مکروہ ہوگا اھ یہی بات ہمارے مذہب کے موافق ہے جیسا کہ شرح مشکوٰۃ میں ہے۔ درمختار میں ہے غلاف میں لپیٹے ہُوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں لیکن بچنا افضل ہے ، اور اللہتعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)

مسئلہ ۲۲۲ : از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں مثل لکھنؤ وپٹنہ عظیم آباد اکثر لوگ بعد فراغت بول کلوخ سے استنجا نہیں کرتے بلکہ صرف پانی پر اکتفا کرتے ہیں آیا اُن کا پائجامہ یا تہبند نجس ہوتا ہے یا نہیں اور ایسے شخص کی امامت میں کوئی خراب لازم آتی ہے یا نہیں اور بعض آدمیوں کا بیان ہے کہ پانی لینے سے قطرہ رك جاتا ہے یہ صرف اُن کا خیال ہی خیال ہے یا واقعی امر ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

کلوخ وآب میں جمع افضل ہے نفسِ سنّت ہر ایك سے ادا ہوجاتی ہے سب سے اولٰی جمع ہے پھر تنہا آب پھر تنہا کلوخ صرف پانی پر قناعت سے کپڑا نجس نہیں ہوتا ، نماز وامامت میں کوئی حرج نہیں والمسائل فی الحلیۃ وردالمحتار وغیرھا (مسائل حلیہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہیں۔ ت) پانی خصوصًا سرد اکثر امزجہ میں بوجہ تکثیف ضرور انسداد قطرہ پر معین ہوتا ہے۔ حدیث میں خروج مذی پر غسلِ مذاکیر کے حکم کو علماء نے اسی پر حکمت پر محمول کیا ہے کماافادہ الامام الطحاوی فی شرح معافی الاثار (جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں بتایا۔ ت) اور بحال برودتِ مثانہ نزولِ قطرہ کا اور مؤید ہوتا ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۲۳ : ۲ رجب مرجب ۱۳۲۱ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراك جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراك جِن کی ہے تو اُن کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

 قوم جِنْ کے وفد جوبارگاہِ اقدس حضور پُرنور سید العالمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراك طلب کی اُن سے ارشاد ہوا :

لکم کل عظم ذکر اسم الله یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم [1]۔

تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہعزوجل کا نام پاك لیا جائے یعنی حلال مذکّٰی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اُس حال پر ہوگی جیسی اُس وقت تھی جب اُس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھُڑائی ہُوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ (م)

پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا :

فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم[2] رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی الله تعالٰی عنہ۔ والله تعالٰی اعلم۔

ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراك ہے۔ (م) اسے امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ اور اللہتعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)

مسئلہ ۲۲۴ :             مسئولہ سید شاہ مہدی حسن میاں صاحب ازسرکار مارَہرہ شریف        ۳ شعبان معظم ۱۳۲۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشید احمد گنگوہی کا ایك مرید کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں وہ حدیث سے ثابت ہے اس باب میں جو حکم ہو حدیث وفقہ سے بیان فرمائیں واجرکم علی اللہتعالٰی (تمہارے لئے اس کا اجر اللہتعالٰی کے ذمہ کرم پر ہے۔ ت)

الجواب :

اقول : کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار۴ حرج ہیں : اوّل : بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم ولباس بلاضرورت شرعیہ ناپاك کرنا اور یہ حرام ہے بحرالرائق میں بدائع سے ہے :

اما تنجیس الطاھر فحرام [3] اھ ذکرہ فی بحث الماء المستعمل۔

پاك چیز کو ناپاك کرنا حرام ہے اھ اسے مستعمل پانی کی بحث میں ذکر کیا ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

مافی شرح المنیۃ فی الانجاس من ان التلوث بالنجاسۃ مکروہ فالظاھر حملہ علی مااذاکان بلاعذر والوط[4] عذر۔

شرح منیۃ المصلی میں انجاس کی بحث میں ہے کہ نجاست سے ملوث ہونا مکروہ ہے ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر عذر کی صورت پر محمول کیا جائے گا اور وطی عذر ہے۔ (ت)

اُسی میں ہے :

افتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ الا اذاکان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظھر انہ عندنا کذلك لمافیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلاضرورۃ لامکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل [5]۔                                                 

بعض شوافع نے فتوٰی دیا ہے کہ جس آدمی کا آلہ تناسل ناپاك ہو اس کے لئے اسے دھونے سے پہلے جماع کرنا حرام ہے مگر یہ کہ سلسل البول کا مریض ہوتو جائز ہے جیسے مستحاضہ سے خُون جاری ہونے کے باوجود جماع کرنا جائز ہے ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بھی اسی طرح ہے کیونکہ اس میں بلاضرورت نجاست سے ملوث ہونا ہے اس لئے کہ دھونا ممکن ہے بخلاف مستحاضہ اور سلسل البول والے کی وطی کرنے کے۔ غور کرو۔ (ت)

دوم : ان چھینٹوں کے باعث عذابِ قبر کا استحقاق اپنے سر پر لینا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ [6]رواہ الدارقطنی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ بسند صحیح وللحاکم بلفظ استنزھوا وقال صحیح علی شرطھما[7]۔

 



[1]            الصحیح لمسلم باب الجہر بالقرأۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۴

[2]           الصحیح لمسلم باب الجہر بالقرأۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۴

[3]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۴

[4]   ردالمحتار ، مطلب الفرق بین الفرض العملی والقطعی والواجب مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸

[5]   ردالمحتار فی حکم وطء المستحاضۃ ومن بذکرہ نجاسۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن