30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البدائع السنۃ ھو الاستنجاء بالاشیاء الطاھرۃ من الاحجار والامداد والتراب والخرق البوالی اھ ومثلہ الجدار الاجدار غیرہ کالوقف ونحوہ وللمستأجر الاستنجاء بالحائط ولولدار مسبلۃ[1] اھ ملخصا والله تعالٰی اعلم
بدائع میں فرمایا پاك چیز مثلًا پتھّروں ، ڈھیلوں ، مٹی ، پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجا کرنا سنت ہے اھ دیوار بھی اسی طرح ہے لیکن کسی دوسرے کی دیوار نہ ہو مثلًا وقف شدہ وغیرہ۔ کرایہ دار دیوار سے استنجا کرسکتا ہے اگرچہ دیوار تر ہو۔ اھ تلخیص (ت)
مسئلہ ۲۲۱ : ۲۷ صفر از کھنڈوا ضلع نماڑ ملك متوسط مرسلہ مولوی اللہیار خاں صاحب
ازمکان منشی حبیب اللہتحصیلدار باحسن آداب زانوائے ادب تہ کردہ بعرض مستفیضان باریابان حضور فیض معمور میر ساند دیرنوالا ضرورتے درمسئلہ کتاب منیۃ المصلی واقع ست لہذا بخدمت فیض درجت عالی منقبت محی مراسم شریعت ماحی لوازم بدعت مظہر حسنات ملت بیضا مصدر برکات شریعت غرا عمدہ آداب کے ساتھ زانوائے ادب تَہ کرتے ہوئے آنحضور کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہونے والے حضرات کی ایك عرض جو اس علاقے میں منیۃ المصلی کے ایك مسئلہ کے سلسلے میں ہے فیضدرجت ، عالی مرتبت ، شریعت کے رسوم کو زندہ کرنے والے ، بدعت کے لوازم کو جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ادام اللہفیضہم وظلمہم وبرکاتہم استفتا مع عبارت یکرہ دخول المخرج لمن فی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القراٰن لمافیہ من ترك التعظیم [2] ارسال می نمایند معنی دخول المخرج بتصریح ترجمہ اردو ارشاد فرمایند کہ چہ مراد مؤلف ست ومعنی لغوی واصطلاحی صیغہ مخرج درینجا چیست۔ بینوا توجروا۔
مٹانے والے روشن ملّت کی اچھائیوں کو ظاہر کرنے والے ، چمکتی ہوئی شریعت کی برکات کے منبع حضرت مولانا محمد احمد رضا خان اللہتعالٰی ان کے فیوض ، سایہ عاطفت اور برکات کو ہمیشہ باقی رکھے ، کے حضور عبارت کے ساتھ استفتأ پیش کرتے ہیں ، عبارت یہ ہے “ جس آدمی کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس میں قرآن پاك سے کچھ لکھا ہو اس کا مخرج میں داخل ہونا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تعظیم کو چھوڑنا ہے “ ۔ جوابًا وضاحت کے ساتھ اردو زبان میں دخولِ مخرج کا معنٰی لکھیں اور بتائیں کہ مؤلّف کی کیا مراد ہے اور اس جگہ لفظ مخرج کا لغوی اور اصطلاحی معنٰی کیا ہے ، بیان فرمائیں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم اللہتعالٰی وکرّم السلام علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ ، مخرج جائے خروج واینجا مراد بیت الخلاست کہ محل خروج خارج ست خارج بول وبراز را نامند چنانکہ در ردالمحتار اور آداب استنجا فرمود ویدفن الخارج [3] وحلق مُوئے دُبررا تعلیل نمود وکیلا یتعلق بہ شیئ من الخارج وتواند کہ خلارا مخرج گفتن ازاں عالم باشد کہ بیابان مہلکہ رامفازہ یعنی جائے فوز ونجات خوانند زیراکہ دخول خلامحض بضرورت ست وداخل درعین دخول برقصد تعجیل خروج پس گویا اومدخل نیست مخرج ست فافہم بالجملہ معنی دخول المخرج پاخانے میں جانا وحاصل مسئلہ آنکہ ہرکہ دردست اوخاتمی ست کہ بروچیزے ازقرآن یا ازاسمائے معظمہ مولانا المکرم ، اللہتعالٰی آپ کو عزت بخشے ، السلامُ علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ ، “ مخرج “ نکلنے کی جگہ کو کہتے ہیں یہاں بیت الخلا مراد ہے کہ نجاست خارج کرنے کی جگہ ہے بول وبراز کو خارج کہتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار کے آدابِ استنجاء میں فرمایا : “ اور خارج (پیشاب وپاخانہ) کو (زمین میں) دبادے “ ۔ اور دُبر کے بال مونڈنے کی علّت یہ بیان کی کہ ان کے ساتھ خارج (پیشاب وپاخانہ) نہ لگ جائے اور ممکن ہے کہ خلا کو مخرج کہنا یوں ہو جیسے بیابانِ مہلکہ کو مفازہ یعنی جائے فوزوفلاح کہتے ہیں کیونکہ دخولِ خلا محض ضرورت کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اور داخل ہونے والا دخول کے وقت فورًا نکلنے کے ارادے پر ہوتا ہے تو گویا وہ مدخل مثل نامِ الہی یانام قرآن عظیم یااسما انبیاء یاملائکہ علیہم الصلاۃ والثنا نوشتہ است اومامورست کہ چوںبخلارود خاتم ازدست کشیدہ بیرون نہد افضل ہمین ست واگر خوف ضیاع باشدد رجیب انداز دیا بچیزے دگربپوشد کہ اینہم رواست اگرچہ بے ضرورت احترازو اولٰی ست اگر ازینہا ہیچ نکرد وہمچناں درخلا رفت مکروہ باشد علامہ ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ درغنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی زیرہمیں عبارت مذکور فرماید یکرہ دخول المخرج ای الخلاء وفی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القراٰن اومن اسمائہ تعالٰی لمافیہ من ترك التعظیم وقیل لایکرہ ان جعل فصلہ الی باطن الکف ولوکان مافیہ شیئ من القراٰن اومن اسمائہ تعالٰی فی جیبہ لاباس بہ وکذا لوکان ملفوفا فی شیئ والتحرز اولٰی [4]درمراقی الفلاح ست یکرہ دخول الخلاء ومعہ شیئ مکتوب فیہ اسم الله اوقراٰن [5] علامہ طحطاوی درحاشیہ ش فرمود لماروی ابوداود والترمذی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذادخل الخلاء نزع
نہیں مخرج ہے۔ اسے سمجھو بالجملہ دخول مخرج کا معنی پاخانے نے میں جانا ہے اور حاصل مسئلہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن پاك میں سے کچھ (کلمات) یا متبرك نام جیسے اللہتعالٰی کا اسم مبارك یا قرآن حکیم کا نام یا اسمائے انبیاء وملائکہ علیہم الصّلوۃ والثناء (لکھے) ہوں تو اسے حکم ہے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر باہر رکھ لے بہتر یہی ہے اور اس کے ضائئع ہونے کا خوف ہو تو جیب میں ڈال لے یا کسی دوسری چیز میں لپیٹ لے کہ یہ بھی جائز ہے اگر چہ بے ضرورت اس سے بچنا بہتر ہے اگر ان صورتوں میں کوئی بھی بجانہ لائے اور یوں ہی بیت الخلاء میں چلاجائے تو ایسا کرنا مکروہ ہے علامہ ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں اسی عبارت مذکور کے تحت فرمایا مخرج یعنی بیت الخلا میں داخل ہونا مکروہ ہے جب اسکی انگلی میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن میں سے کچھ (کلمات) یا اللہتعالٰی کا کوئی اسم مبارك (لکھا ہوا) ہو کیونکہ اس میں ترك تعظیم ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرے تو مکروہ نہیں اور اگر اس کی جیب میں کوئی ایسی چیز (کاپی وغیرہ) ہو جس میں قرآن پاك کا کچھ حصہ اللہتعالٰی کا اسم گرامی ہو تو کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر کسی لفافے میں بند ہو تو بھی حرج نہیں لیکن بچنا زیادہ بہتر ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے جس آدمی کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اللہتعالٰی کا نام مبارك یا قرآن پاك کی کوئی آیت لکھی ہو تو اس کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ ہے۔
علامہ طحطاوی نے
خاتمہ ای لان نقشہ محمد رسول الله [6] اھ قلت بل رواہ الاربعۃ وابن حبان والحاکم وبعض اسانیدہ صحیح ثم قال اعنی الطحطاوی قال الطیبی فیہ دلیل علی وجوب تنحیۃ المستنجی اسم الله تعالٰی واسم رسولہ والقراٰن اھ وقال الابھری وکذا سائر الرسل وقال ابن حجر استفید منہ انہ یندب لمرید التبرز ان ینحی کل ماعلیہ معظم من اسم الله تعالٰی اونبی اوملك فان خالف کرہ لترك التعظیم اھ وھوالموافق لمذھبنا کمافی شرح المشکٰوۃ [7]۔
در درمختار ست رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل [8]والله تعالٰی اعلم۔
اس کے حاشیہ میں فرمایا کیونکہ امام ابوداؤد اور ترمذی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بیت الخلاء میں جاتے وقت انگوٹھی اتارلیتے کیونکہ اس میں “ محمد رسول اللہ“ کا منقش تھا اھ میں کہتا ہوں بلکہ اسے چاروں محدثیں (امام ترمذی ، امام ابوداؤد ، امام نسائی ، امام ابن ماجہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی بعض سندیں صحیح ہیں۔ پھر امام طحطاوی نے فرمایا : طیبی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ استنجا کرنے والا اللہتعالٰی اور رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اسم گرامی نیز قرآن پاك کو الگ کردے اھ اور ابہری نے کہا اسی طرح باقی تمام رسولوں کے
[1] ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
[2] منیۃ المصلی قبیل فصل فی التمیم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۵
[3] ردالمحتار آداب استنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳۰
[4] غنیۃ المستملی سنن الغسل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۰
[5] مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۰
[6] حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰
[7] حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع