دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اگر (طہارت سے) مانع نجاست مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب اور نماز سے مانع نجاست کے اندازے کا اعتبار اس نجاست سے ہوگا جو جائے استنجا کے علاوہ ہے۔ (ت)

ایسی حالت میں اگر پانی پر کسی طرح کسی ہاتھ سے سے قدرت نہ پائے تو اُس کی اپنی نماز ہوجائے گی ، درمختار میں ہے : لوشَلّتا سقط اصلا [1](اگر دونوں ہاتھ شَل ہوجائیں تو طہارت بالکل ساقط ہوجائیگی۔ ت) مگر امامت نہیں کرسکتا کمالایخفی والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ مخفی نہیں ، اللہتعالیٰ خوب جانتا ہے۔ ت)

مسئلہ ۲۱۹ : ۴ جمادی الاخرٰی ۱۳۱۲ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت رسول مقبول  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اور اصحابوں نے پیشاب کے بعد اکثر مرتبہ استنجا پانی سے کیا یا ڈھیلوں سے؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

صحابہ رضی اللہتعالیٰ عنہم کی عادت اس باب میں مختلف تھی امیر المومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاکثر مٹّی سے استنجا فرماتے اور حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپانی سے۔ کشف الغمہ میں ہے :

کان عمر بن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ یبول کثیرا ثم یمسح بالتراب اوالحائط ثم یقول ھکذا علمنا ولم یبلغنا انہ کان یغسلہ بالماء بعد وکان حذیفۃ لایجمع بین الماء والحجر اذابال وکذلك عائشۃ رضی الله تعالٰی عنھما فکانا یغسلان بالماء فقط[2]۔                    

حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت زیادہ پیشاب کرتے پھر مٹّی یا دیوار سے خشك کرتے اس کے بعد فرماتے “ ہمیں اس طرح معلوم ہے “ ۔ اور ہم تك یہ بات نہیں پہنچی کہ اس کے بعد وہ پانی کے ساتھ دھوتے ہوں۔ حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپیشاب کرتے تو پانی اور پتھّر کو جمع نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بھی یہی طریقہ تھا یہ دونوں صرف پانی سے دھوتے تھے۔ (ت)

اور حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے دونوں صورتیں ثابت ہیں ام المومنین صدیقہ رضی اللہتعالیٰ عنہا نے روایت کی کہ سید عالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پیشاب کے بعد پانی سے استنجا فرماتے۔

احمد والترمذی وصححہ والنسائی عنھا رضی الله تعالٰی عنھا قالت مرن ازواجکن ان یغسلوا اثر الغائط والبول فان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان یفعلہ[3]۔

امام احمد ، ترمذی اور نسائی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیام المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضائے حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھوڈالیں کیونکہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بھی یونہی کرتے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)

اور وہی (عائشہ صدیقہ رضی اللہعنہا) روایت فرماتی ہیں کہ ایك بار حضور پُرنور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پیشاب فرمایا امیر المومنین فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپانی لیکر کھڑے ہوئے۔ فرمایا : کیا ہے؟ عرض کی :

استنجے کے لئے پانی۔ فرمایا : مجھ پر واجب نہیں کیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد پانی سے طہارت کروں۔

ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالٰی عنھا قالت بال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقام عمر خلفہ بکوزمن ماء فقال ماھذا یاعمر فقال ماء تتوضؤ بہ قال ماامرت کلما بلت ان اتوضأ ولوفعلت لکانت سنۃ[4]۔             

امام ابوداؤد اور ابن ماجہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے سندِ حسن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا کہ رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پیشاب فرمایا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے پیچھے پانی کا لوٹا لے کر کھڑے ہوگئے ، حضور علیہ السلام نے فرمایا : اے عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا : یہ پانی ہے آپ اس سے وضو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں ، اگر ایسا کروں تو سنّت بن جائے گا۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

المراد بالوضوء ھنا الاستنجاء بالماء کماذکرہ النووی [5]۔

یہاں وضو سے استنجا کرنا مراد ہے جیسا کہ امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر کیا ہے (ت)

اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈھیلے اور پانی دونوں سے استنجا جائز ہے جس سے کرے گا کافی ہوگا اور افضل یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرے فی الھندیۃ عن التبیین الافضل ان یجمع بینھما [6] (فتاویٰ عالمگیری میں التبیين سے منقول ہے کہ دونوں کو جمع کرنا افضل ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اللہتعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم مکمل ومحکم ہے۔ ت)

مسئلہ ۲۲۰ : از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ                  ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر کسی جگہ پُرانا کپڑا یا مٹّی کا ڈھیلا یا ریت نہ ہو تو وہاں پتھر سے استنجا سُکھانا کیسا ہے اور اگر تھوڑی دُور پر ہر شَے موجود ہے اور یہ کوتاہی کرگیا اور پتھّر سے سُکھایا تو کیسا ہے بینوا توجروا۔

الجواب :

استنجا خشك کرنے میں ہر بے قیمت بیکار پاك چیز کہ رطوبت کو جذب کرکے موضع کو صاف کردے ڈھیلا ہویا  پتھّر مٹّی ہویا پُرانا کپڑا زمین ہو یا دیوار سب برابر ہے ہاں ہڈی يا کوئلہ یا پکی اینٹ یا ٹھیکری یا چُونا نہ ہو ، دُرمختار میں ہے :

(الاستنجاء سنۃ مؤکدۃ بنحوحجر) مما ھو عین طاھرۃ قالعۃ لاقیمۃ لھاکمدر (منق وکرہ بعظم وورث واٰجر وخزف وزجاج وفحم) وحق غیر وکل ماینتفع بہ [7]۔

پتھّر جیسی چیز کے ساتھ استنجا سنّتِ مؤکدہ ہے یعنی وہ چیز جو پاك ہو نجاست کو دُور کرنے والی ہو اور قیمتی نہ ہو جیسا کہ صاف کرنے والا ڈھیلا ہڈّی ، گوبر ، پکّی اینٹ ، ٹھیکری ، گچ اور کوئلے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نیز غیر کی ملکیت اور نفی بخش چیز کے ساتھ بھی مکروہ ہے (ت)

نورالایضاح میں ہے :

یکرہ الاستنجاء بجص [8] اھ ملخصین۔

چُونے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے اھ تلخیص (ت)

 



[1]   درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶

[2]                 کشف الغمہ فصل فی کیفیۃ الاستنجاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ، لبنان ۱ / ۴۸

[3]   جامع الترمذی باب الاستنجاء بالماء مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱<

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن