دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اذاوقعت الفارۃ فی السمن فان کان جامدا فا لقوھا وماحولھا [1]۔ والله  تعالٰی  اعلم۔

اگر جمے ہوئے گھی میں چُوہا گرجائے تو چوہا اور اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینك دو۔

______________

بابُ الاِسْتِنْجَاء
(یہ بات استنجا کے بیان میں ہے)

مسئلہ ۲۱۷ : کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے لوٹے سے وضو کیا اس میں پانی بچ رہا ، اُس بچے ہوئے پانی سے چھوٹا بڑا استنجا یا وضو کرنا کیسا ہے اور اُسے پھینك دینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

پھینك دینا تو تضیعِ مال ہے کہ شرع میں قطعًا ممنوع اور وضو کرنا بیشك جائز ، مگر یہ کہ اُس میں مائے مستعمل اس قدر گرگیا ہوکر غیر مستعمل پر غالب ہوگیا۔ رہا استنجا ، جواز میں تو اُس کے بھی شُبہہ نہیں ، نہ کسی کتاب میں اُس کی ممانعت نظیر فقیر سے گزری۔ ہاں اس قدر ہے کہ بقیہ وضو کیلئے شرعًا عظمت واحترام ہے اور نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت کہ حضور نے وضو فرماکر بقیہ آب کو کھڑے ہوکر نوش فرمایا اور ایك حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستر۷۰ مرض سے شفا ہے۔ تو وہ ان امور میں آبِ زمزم سے مشابہت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔ تنویر کے آدابِ وضو میں ہے :

وان یشرب بعدہ من فضل وضوئہ مستقبل القبلۃ قائما [2]۔

وضو کے بعد وضو کا پسماندہ (پانی) قبلہ رُخ کھڑے ہوکر پئے۔ (ت)

درمختار میں ہے : کماء زمزم [3](آبِ زمزم کی طرح۔ ت)جامع ترمذی میں سیدنا علی کرم اللہتعالیٰ وجہہ سے مروی کہ انہوں نے کھڑے ہوکر بقیہ وضو پیا پھر فرمایا :

احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم [4]۔

میں نے چاہا کہ تمہیں دکھادُوں نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا طریقہ وضو کیونکر تھا۔

ردالمحتار میں ہے :

ماء زمزم شفاء وکذا فضل الوضوء وفی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی ومما جربتہ انی اذااصابنی مرض اقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فحصل لی الشفاء وھذا دابی اعتمادًا علی قول الصادق صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی ھذا الطب النبوی الصحیح [5] اھ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔                                            

آبِ زمزم شفا ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی۔ ہدیۃ ابن العماد کی شرح میں علّامہ عبدالغنی نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وضو کے بقیہ پانی سے شفا حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں پس مجھے شفا حاصل ہوجاتی ہے نبی صادق  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اس صحیح طب نبوی میں پائے جانے والے ارشاد گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے اھ والله سبحٰنہ و تعالٰی  اعلم بالصواب (ت)

مسئلہ ۲۱۸ :                       حاجی اللہیار خان صاحب                              ۲۲ رمضان مبارك ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصلی کے بائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگ گئی ہے کہ حرکت نہیں کرسکتا پانی سے استنجا کرنے سے معذور ہے البتہ داہنے ہاتھ سے ڈھیلوں سے صاف کرسکتا ہے ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے اور امامت اس کی جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

دہنے ہاتھ سے استنجا اگرچہ ممنوع وگناہ ہے صحیح حدیث میں حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس سے نہی فرمائی کمااخرجہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالٰی عنہ (جیسا کہ امام احمد اور شیخان (امام بخاری ومسلم) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیتعالیٰ نے حضرت ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ت) مگر جب عذر ہے تو کچھ مواخذہ نہیں فان الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔ ت) درمختار میں ہے :

کرہ تحریما بیمین ولاعذر بیسارہ[6] اھ ملخصا۔

بائیں ہاتھ میں کوئی عذر نہ ہو تو دائیں ہاتھ سے (استنجا) مکروہِ تحریمہ ہے اھ ملخصا (ت)

اور نجاست جب مخرج بَول وبراز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں اُن کے بعد پانی لینا فقط سنّت ہے درمختار میں ہے :

الغسل بالماء بعد الحجر سنۃ [7] اھ ملخصا۔

پتھر (استعمال کرنے) کے بعد پانی سے دھونا سنّت ہے اھ ملخصا

 یہ سنّت بھی اگرچہ باقی سننِ مؤکدہ کے مثل ہے جس کا ترك بیشك باعثِ کراہت ،

علی ماحققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وتبعہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج فی الحلیۃ۔

جیسا کہ محقق علی الاطلاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فتح القدیر میں اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)

مگر حالتِ عذر ہمیشہ مستشنیٰ ہوتی ہے اور ترك سنت صحتِ نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اُس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدردرم سے زیادہ ہوتو اُس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے :

یجب ای غسلہ ان جاوز المخرج نجس مانع ویعتبر القدر مانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء [8]۔

 



[1]       سنن ابی داؤد شریف باب فی الفارۃ تقع فی السمن مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۸۱

[2]   درمختار مع تنویر الابصار باب مستحبات الوضوء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳

[3]   درمختار مع التنویر ، باب مستحبات الوضوء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳

[4]          جامع الترمذی باب وضوء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف کان مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۸

[5]   ردالمحتار مطلب فی مباحث الشرب قائما مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن