30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتب میں مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لکھنے والے کی طرف سے اضافہ ہے کیونکہ ہم نے تیل کو پاك کرنے کیلئے جوش دینے کی شرط نہیں دیکھی حالانکہ یہ مسئلہ بہت زیادہ منقول ہے اور اس کی چھان بین بھی بہت زیادہ کی گئی البتہ یہ کہ اس “ جوش دینے “ سے مجازًا حرکت دینا مراد لیا جائے ، مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی کہ اس پر اُتنا ہی پانی ڈالا جائے اور حرکت دی جائے ، پس غور کرو اھ یا اسے اس صورت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ ناپاك ہونے کے بعد جم جائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ شارح نے الخزائن میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا بہنے والے تیل میں پانی ڈالا جائے اور جمے ہوئے کو جوش دیا جائے یہاں تك کہ وہ اُوپر آجائے الخ (ت)
دوم : ناپاك گی جس برتن میں ہے اگر جمنے کی طرف مائل ہوگیا ہو آگ پر پگھلالیں اور ویسا ہی پگھلا ہوا پاك گھی اُس برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ گھی سے بھر کر اُبل جائے سب گھی پاك ہوجائیگا۔ جامع الرموز میں ہے :
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطًا بہ [1]۔
بہنے والی چیز جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کے ہم جنس کے ساتھ ملاکر جاری کیا جائے تو پاك ہوجاتی ہے۔ (ت)
سوم : دوسرا گھی پاك لیں اور مثلًا تخت پر بیٹھ کر نیچے ایك خالی برتن رکھیں اور پر نالے کی مثل کسی چیز میں وہ پاك گھی ڈالیں اُس کے بعد یہ ناپاك گھی اُسی پر نالے میں ڈالیں یوں کہ دونوں کی دھاریں برتن میں گریں اس طرح پاك وناپاك دونوں گھی ملا کر ڈالیں یہاں تك کہ سب ناپاك گھی پاك گھی سے ایك دھار ہوکر برتن میں پہنچ جائے سب پاك ہوگیا ، خزانہ میں ہے :
اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء
دو۲ برتنوں میں سے ایك کا پانی پاك اور دوسرے کا ناپاك ہو تو ان کو بلند مقام سے گرایا جائے اور وہ
ثم نزلاطھر کلہ [2]
فضا میں مل کر اُتریں تو تمام پانی پاك ہوجائیگا۔ (ت)
پہلے طریقہ میں پانی سے گھی کو تین بار دھونے میں گھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسرے طریقہ میں اُبل کر تھوڑا گھی ضائع جائے گا۔ تیسرا طریقہ بالکل صاف ہے مگر اس میں احتیاط بہت درکار ہے کہ برتن میں ناپاك گھی کی کوئی بوند نہ پاك گھی سے پہلے نہ بعد کو گرے نہ پرنالے میں بہاتے وقت اُس کی کوئی چھینٹ اُڑ کر پاك گھی سے جدا برتن میں گرے ورنہ جتنا برتن میں پہنچا یا اب پہنچے گا سب ناپاك ہوجائے گا والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰ : از کٹك بخشی بازار متصل مسجد مولوی صاحب مرسلہ داور علی خان صاحب سہاوری ۸۔ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ
اُنگلی پر نجاست لگ جائے اور اُسے چاٹ لیا جائے تو انگلی پاك ہوجائے اور مُنہ بھی پاك رہے۔
الجواب : انگلی کی نجاست چاٹ کر پاك کرنا کسی سخت گندی ناپاك رُوح کا کام ہے اور اسے جائز جاننا شریعت پر افترا واتہام اور تحلیل حرام اور قاطع اسلام ہے اور یہ کہنا محض جھُوٹ ہے کہ منہ بھی پاك رہے گا نجاست چاٹنے سے قطعًا ناپاك ہوجائے گا اگرچہ بار بار وہ نجس ناپاك تھوك یہاں تك نگلنے سے کہ اثر نجاست کا مُنہ سے دُھل کر سب پیٹ میں چلاجائےگا پاك ہوجائےگا مگر اس چاٹنے نگلنے کو وہی جائز رکھے گا جو نجس کھانے والا ہے۔
اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ-اُولٰٓىٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَؕ-والله تعالٰی اعلم۔
ناپاك عورتیں ناپاك مردوں کے لئے ، اور ناپاك مرد ناپاك عورتوں کیلئے۔ پاك عورتیں پاك مردوں کے لئے اور پاك مرد پاك عورتوں کے لئے۔ وہ ان باتوں سے پاك ہیں جو لوگ کہتے ہیں (ت)
مسئلہ ۲۰۱ : از بنگلور بازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب مورخہ ۱۱ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ
ہنود سے اشیاء خوردنی جیسے دُودھ دہی گھی ترکاری شیرینی وغیرہ تر یا خشك کا استعمال اہل سنت کے نزدیك درست ہے یا حرام ، اور آیہ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ [3] (بے شك مشرکین نجس ہیں۔ ت ، (سے اہل تشیع کا اشیاء مذکورہ میں کیا خیال ہے اور مجدد صاحب کا اس امر میں کیا فتویٰ ہے؟
الجواب :
آیہ کریمہ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ اُن کے نجاست قلب ونجاست دین کے بارے میں ہے اجسام اگر ملوّث بہ نجاست ہیں نجس ہیں ورنہ نہیں تمام کتب فقہ متون وشروح وفتاوٰی اس کی تصریحات سے مالامال ہیں ان کے یہاں کا گوشت تو ضرور حرام ہے مگر اُس حالت میں کہ مسلمان نے اللہعزّوجل کے لئے ذبح کیا اور بنانے پکانے لانے کے وقت مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا کوئی نہ کوئی مسلمان اُسے دیکھتا رہا تو اُس وقت حلال ہے ورنہ حرام اور باقی اشیا جن میں نجاست یا حرمت متحقق وثابت ہو نجس وحرام ہیں اور نہ طاہر وحلال کہ اصل اشیا میں طہارت وحلت ہے قال تعالیٰ :
خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ- [4]۔
زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے فائدے کے لئے پیدا فرمایا۔ (ت)
جب تك کسی عارض سے اس اصل کا زوال ثابت نہ ہو حکم اصل ہی کیلئے رہے گا۔ محرر المذہب سیدنا امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرامًا بعینہ [5]۔
ہم اسی پر عمل کرینگے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے۔ (ت)
مگر اس میں شك نہیں کہ ہنود بلکہ تمام کفار اکثر ملوث بہ نجاست رہتے ہیں بلکہ اکثر نجاستیں اُن کے نزدیك پاك ہیں بلکہ بعض نجاستیں ہنود کے خیال میں پاك کنندہ ہیں تو جہاں تك دشواری نہ ہو اُن سے بچنا اولیٰ ہے غرض فتویٰ جواز اور تقوی احتراز روافض کا خیال ضلال ہے اور اس مسئلہ میں حضرت مجدد کا کوئی خیال مجھے اس وقت یاد نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۲ : از ڈاکخانہ رامو چکما کول ضلع چٹا گانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمان صاحب ۹۔ جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ۔
جو زمین ناپاك دھوپ کی وجہ سے پاك ہوگئی ہو اب اُس زمین پر اگر کوئی گِیلا پَیر رکھ دے اور مٹّی لگ جائے تو کیا پَیر ناپاك ہوگا؟
الجواب :
جب زمین کو زوال اثر کے بعد حکم طہارت دے دیا گیا اب وہ پانی پڑنے سے ناپاك نہ ہوگی تر پاؤں اس پر رکھ دينے سے ناپاك نہ ہوگا ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳ ، ۲۰۴ : از شہر کہنہ ۱۲۔ رمضان ۱۳۳۶ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع