دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اور متنفر نہ کرو۔ (ت)

مسئلہ ۱۹۰ :               احمد یار خان موضع ٹھریا نجابت خاں ضلع وتحصیل بریلی

علماءِ دین اتباع شرع متین کیا فرماتے ہیں مسئلہ ہذا میں جنبی شخص پیشتر ہاتھ دھوکر ناف سے نیچے ناپاکی دھولے بعد وہ تہبند پاك باندھ کر میدان میں مسنون غسل اداکرے تو اس حالت میں وہ تہبند پاك رہے گا یا ناپاك اور غسل سے وہ آدمی پاك ہوگیا یا ناپاك رہا اور اُس پانی کی چھینٹ دیگر شخص کے واسطے پاك ہے یا ناپاک؟ بینّوا توجّروا۔

الجواب :

تہبند پاك رہے گا غسل کا پانی پاك ہے اُسکی چھینٹ سے کوئی ناپاکی نہ آئے گی رہا غسل ادا ہوجانا اگر تہبند ایسا ہے کہ پانی اس کے نیچے کے تمام بدن پر بھی ذرّہ ذرّہ پر بَہ جائے گا تو غسل ادا ہوجائے گا ورنہ نہیں والله  تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۹۱ : از ضلع گورگانوہ مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ۔

حلوائیوں کی کڑاہیوں کو کُتّے چاٹتے ہیں اُنہی کڑاہیوں میں وہ شیرینی بناتے ہیں اور دُودھ گرم کرتے ہیں اُن کے یہاں کی شیرینی یا دُودھ لے کر کھانا پینا درست ہے یا کہ نہیں؟ بینّوا توجّروا۔

الجواب :

طہارت ونجاست ظاہری میں شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ احتمال سے نجاست ثابت نہیں ہوتی جس خاص شے کی نجاست معلوم ہو وہی خاص نجس وحرام ہے وبس۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ [1]۔

ہم اسی کو اختیار کرینگے جب تك ہمیں کسی خاص چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ (ت)

مسئلہ کی تمامتر تحقیق وتفصیل ہمارے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے والله  تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۹۲ : از کوٹ ضلع بجنور محلہ کوٹرہ مسئولہ امتیاز حسین صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ اگر مٹی کے برتن مثل پیالے وکونڈے وغیرہ میں نجاست غلیظہ مثل پاخانہ وپیشاب لگ جائے اور اس کو پانی سے دھوکر پاك کریں اور دُھوپ میں خشك کردیں اسی طرح تین مرتبہ پاك کرلیا جائے تو وہ عندالشرع پاك قابل استعمال رہا یا نجس ہے۔

الجواب :

ہاں پاك ہوگیا مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی ، وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاك ہوجاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ اُن کو ایك بار دھوکر چھوڑدیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑدیں سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاك ہوجائیگا چینی کا برتن جس میں بال ہو وہ بھی یوں ہی خشك کرکے تین بار دھویا جائے گا اور ثابت ہو تو صرف تین بار دھودینا کافی ہے مگر نجاست اگر جرم دار ہے تو اس کا جرم چھڑا دینا بہرحال لازم ہے خشك کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط درمختار میں ہے:

قدر بتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا [2]  کمامر۔

تین بار خشك کرنا مقرر کیا ہے یعنی جو چیز نچوڑی نہ جاسکتی ہو اور نجاست کو جذب کرلے اس کے قطرے ختم ہوجائیں ورنہ اس کی نجاست کو دُور کیا جائے ، جیسا کہ گزرا۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ انقطاع تقاطر زاد القھستانی وذھاب النداوۃ وفی التاترخانیۃ حد التجفیف ان یصیر بحال لاتبتل منہ الید ولایشترط صیرورتہ یابساجدا [3]۔ والله  تعالٰی  اعلم۔

اس (درمختار) کے قول “ انقطاع تقاطر “ میں قہستانی نے اضافہ کیا ہے کہ رطوبت ختم ہوجائے۔ تاتارخانیہ میں ہے خشك کرنے کی حد یہ ہے کہ اب اس سے ہاتھ تر نہ ہو بالکل خشك ہونا شرط نہیں (ت)

مسئلہ۱۹۳ :                        مسئولہ مولوی سلیم اللہصاحب جنرل سیکریٹری انجمن نعمانیہ لاہور    ۳۰ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ کفار کا استعمال کیا ہوا چرس یا ڈول چرمی یا حقّہ چرمی دھوکر اور صاف کرکے مسلمان استعمال کرسکتا ہے۔

الجواب : دھونے نے صاف کرلینے کے بعد کوئی شبہہ نہیں رہتا ، استعمال بلاشبہہ جائز ہے۔ صحیحین ومسند امام احمد وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی شریف میں ابوثعلبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :

واللفظ للترمذی قال سئل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن قدور المجوس فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا [4]۔ والله تعالٰی اعلم۔

الفاظ امام ترمذی کے ہیں فرماتے ہیں نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : انہیں دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ (ت)

مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۷ : از لکھنؤ چوبداری محلہ متصل کوٹھی قدیم عینك سازان مکان نمبر ۱۰۳ مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب مارہروی ۵ محرم۳ ۱۳۳ھ

(۱) کپڑے یا بدن پر کوئی حصّہ نجس ہوگیا اُس پر پانی پہلی مرتبہ ڈالا پھر ہاتھ سے اس کے قطرے پونچھ ڈالے ، اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالا اور اُسی ہاتھ سے جس سے پہلی مرتبہ قطرے پونچھے تھے اُس کو دھوئے بغیر قطرے پُونچھے تو آیا یہ عضو مغسول اور وہ ہاتھ دونوں پاك ہوجائیں گے بحالیکہ عضو مغسول کو وہ ہاتھ لگا ہے جس نے پہلی اور دوسری تیسری مرتبہ کے غسالہ کو پونچھا تھا اور خود الگ پانی سے دھویا نہ گیا تھا۔

(۲) اگر اس ترکیب سے پاکی نہ ہوسکے تو کیا کِیا جائے؟

(۳) بدن کو دھوکر جھٹك دیا سب قطرے گر گئے ہاں وہ رہ گئے جو بال کی جڑمیں ہیں یا بہت ہی باریك میں جھٹکنے سے بھی نہیں گرتے تو ایسی صورت میں عضو تین بار دھو ڈالے پاك ہوجائیگا یا نہیں ، اگر نہیں تو کیا کرے ، خاص کر اُس صورت میں جب دونوں ہاتھ نجس ہوں۔

(۴) بدن پاك کرنے میں ہر بار کے دھونے میں تقاطر جاتا رہنا ضرور ہے یا مطلقًا ہر قطرہ کا خواہ وہ چھوٹا ہی ہو اور پونچھنے سے صرف بدن پر پھیل کر رہ جاتا ہو اس کا بھی دُور کرنا یعنی وہی پھیلادینا ضرور ہے۔

الجواب :

 



[1]                فتاویٰ ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲

[2]   درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶

[3]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن