دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

وفی الخانیۃ لورأی مع رفیقہ ماء فتیمم قبل ان یسأل وصلی جاز [1] اھ وفی الخلاصۃ وفی الاصل لوکان مع رفیقہ ماء فانہ یسأل قال فی التجرید السؤال لیس بواجب عندا بی حنیفۃ وقال ابویوسف واجب [2] اھ ولفظ البنایۃ عن التجرید لایجب الطلب من الرفیق عند ابی حنیفۃ و                                     

بلاقید ذکر کرنے والے حضرات زیادہ ہیں۔ وقایہ میں ہے : “ مانگنے سے پہلے جائز ہے بخلاف صاحبین اھ “ ۔  نقایہ میں ہے : “ قبل طلب صحیح ہے “ اھ۔ اور ہدایہ کی عبارت گزر چکی : “ مانگنے سے پہلے تیمم کیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك ہوگیا“ ۔

بدائع ملك العلماء میں ہے : “ اگر اس کے رفیق سفر کے پاس پانی تھا اور اسے علم نہ ہوا تو ہمارے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور اگر اسے علم ہوا لیکن اس کا دام نہیں رکھتا تو بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہی ہے اور امام ابویوسف کا قول ہے کہ اس پر مانگنا ہے۔ ان کے قول کی وجہ یہ ہے کہ پانی عادۃً دے دیا جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عجز متحقق ہے اور قدرت موہوم ہے اس لئے کہ سفر میں پانی سب سے کم یاب شَے ہے اھ۔

خانیہ میں ہے : “ اگر اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا پھرمانگنے سے پہلے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو جائز ہے “ اھ خلاصہ میں ہے : “ اصل (مبسوط) میں ہے : اگر رفیق سفر کے پاس پانی ہو تو مانگے گا۔ تجرید میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور امام ابویوسف کا

محمد خلافا لابی یوسف رحمھم الله تعالٰی [3] اھ وفی ملتقی الابحران تیمم قبل الطلب اجزأہ [4] اھ وفی الاصلاح ویصح قبل طلبہ من رفیق لہ ماء خلافالھما [5] اھ قال ش وبقول الامام جزم فی المجمع والملتقی والوقایۃ وابن الکمال اھ وقال العلامۃ الوزیرفی الایضاح ھذا علی وفق مافی الھدایۃ والایضاح والتقریب وغیرھا(ای کشرح الاقطع کماتقدم عن العنایۃ والبنایۃ والبحرقال) وفی التجرید ذکر محمدا مع ابی حنیفۃ [6] اھ ثم ذکر توفیق الجصاص ثم کلام المبسوط المارفی عبارۃ العنایۃ والبحر ثم اعقبہ بکلام البدائع المار۔

اقول :  (۱) وبھذہ النصوص ظھر مافی قول النھایۃ لم یذکر الخلاف الا فی الایضاح وکذ لك یقال للعلامۃ البحر ھٰوُلاء المتون والعمائد البدایۃ و الوقایۃ والاصلاح والمجمع والتجرید والایضاح والتقریب و     

قول ہے کہ واجب ہے “ اھ

تجرید کا حوالہ دیتے ہُوئے بنایہ کے الفاظ یہ ہیں : “ رفیق سے مانگنا امام ابوحنیفہ وامام محمد کے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام ابویوسف- رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاھ۔ ملتقی الابحر میں ہے : “ اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو ہوگیا “ اھ۔ اصلاح میں ہے : “ اپنے کسی رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم کرلیناصحیح ہے بخلاف صاحبین “ اھ۔ علّامہ شامی لکھتے ہیں : “ امام صاحب ہی کے قول پر مجمع ، ملتقی ، وقایہ اور ابن الکمال کا جزم ہے “ اھ علامہ وزیرایضاح میں رقمطراز ہیں : “ یہ اس کے مطابق ہے جو ہدایہ ، ایضاح ، تقریب اور ان کے علاوہ (یعنی جیسے شرح اقطع جیسا کہ عنایہ ، بنایہ اور بحر کے حوالوں سے گزرا) میں ہے۔ اور تجرید میں امام محمد کو امام ابوحنیفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے “ اھ پھر امام جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے پھر مبسوط کاکلام جو عنایہ وبحر کی عبارتوں میں گزرااس کے بعد بدائع کی عبارت لکھی ہے جو ابھی گزری۔ (ت)

اقول : ان ہی نصوص سے نہایہ کے اس قول کی خامی ظاہر ہوگئی کہ “ صرف ایضاح میں اختلاف کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح علامہ بحر سے بھی عرض کیا جائے گا کہ یہ متون وعمائد بدایہ ، وقایہ ، اصلاح ، مجمع ، تجرید ، ایضاح ، تقریب ،

شرح الاقطع والبدائع والخلاصۃ والفتح والاختیار والجوھرۃ کلھم ناصون بالخلاف بین الامام وصاحبیہ والامام الاجل ابوبکر الجصاص یوفق بین قول الامام وصاحبیہ وقال فی البرھان شرح مواھب الرحمٰن الاظھر قولھما ثم ذکر توفیق الجصاص وایدہ بقولہ ولھذا لم یحك الکافی خلافا [7] اھ نقلہ العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام کیف یرد قولھم جمیعا بمجرد ان فی المبسوط لم ینسب الخلاف الا الی الحسن الیس المثبتون وھم عصبۃ مقدمین علی ناف واحد الیس ان ظاھر (۱) الروایۃ ربما (۲) تتعدد فی مسألۃ واحدۃ وقولی ھذا اولی من توفیق الغنیۃ المار فی عبارتھا ان ھؤلاء اعتبروا الروایۃ النادرۃ لکونھا انسب بمذھب الامام فاعتبارھا لھذا شیئ وجعلھا قول الامام ونصب الخلاف بینہ وبین صاحبیہ فی المذھب شیئ اٰخروان(۳) اقرہ فی ردالمحتار ومنحۃ الخالق والله سبحٰنہ الموفق۔

وثانیھا :  یجب مطلقا وانہ ظاھر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم وذلك مامر عن المبسوط              شرح اقطع ، بدائع ، خلاصہ ، فتح ، اختیار ، جوہرہ سب کے سب اس پر نص کررہے ہیں کہ امام اعظم اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے۔ اور امام اجل ابوبکر جصاص امام صاحب اور صاحبین کے قول میں تطبیق دے رہے۔ اور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا : زیادہ ظاہر قولِ صاحبین ہے ، پھر جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے اور اپنے اس قول سے اس کی تائید کی ہے کہ اسی لئے “ کافی “ نے کسی اختلاف کی حکایت نہ کی اھ ، اسے علامہ شرنبلالی نے غنیۃ ذوی الاحکام میں نقل کیا۔ ان تمام حضرات کا قول صرف اس وجہ سے کےسے رد کردیا جائے گا کہ “ مبسوط نے محض حسن کی طرف اختلاف کی نسبت کی ہے “ کیا اثبات کرنے والے جبکہ وہ طاقتور بھی ہیں ایك نفی کرنے والے پر مقدم نہیں؟ کیا ایسا نہیں کہ بارہا ایك مسئلہ میں ظاہر الروایۃ متعدد بھی ہوتی ہے۔ میرا یہ قول (تعدد ظاہر الروایۃ) غنیہ کی اس تطبیق سے بہتر ہے جو اس کی عبارت میں گزری کہ “ ان حضرات نے روایت نادرہ کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ مذہب امام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے “ ۔ اس وجہ سے اس کا اعتبار کرنا اور چیز ہے۔ اور اسے امام کا قول قرار دینااور ان کے اور صاحبین کے درمیان مذہب میں اختلاف قائم کرنا اور چیز ہے۔ اگرچہ غنیہ کی تطبیق کو علامہ شامی نے بھی ردالمحتار اور منحۃ الخالق میں برقرار رکھا ہے ، اور خدائے پاك ہی توفیق بخشنے والا ہے۔ (ت)

مسلك دوم : مانگنا مطلقًا واجب ہے اور یہ کہ یہ ہمارے تینوں ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے ظاہر الروایۃ ہے۔ اور یہی وہ ہے جو مبسوط کے حوالہ سے

واعتمدہ تبعا لشیخہ فی التنویر فقال قبل طلبہ لاتیمم علی الظاھر  اھ قال فی المدرای ظاھر الروایۃ عن اصحابنا لانہ مبذول عادۃ وعلیہ الفتوٰی [8] اھ۔

اقول :  ولم ارھذہ اللفظۃ لغیرہ ولاعزاہ محشوہ لاحد وفی التبیین لوعلم بہ خارج الصلاۃ وصلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ [9] اھ ثم ذکر روایۃ الحسن ثم توفیق الجصاص ، و فی جواھر الاخلاطی مع رفیقہ ماء  وشرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز  وقیل یجوز علی قیاس قول الامام  خلافا للقاضی   [10] اھ۔

 



[1]   فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ  ۱ / ۲۶

[2]   خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فے التیمم   مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲

[3]   عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷

[4]   ملتقی الابحر  باب التیمم مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت  ۱ / ۳۲

[5]   اصلاح ایضاح

[6]   ردالمحتار   باب التیمم  مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳

[7]   غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع احمد کامل الکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۳۲

[8]                درمختار ، باب التیمم ، مطبع دہلی ،  ۱ / ۴۴

[9]   تبیین الحقائق باب التیمم  مطبع الازہریہ مصر ۱ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن