30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جس بات سے عذر پیش کرنا پڑے اس سے بچو۔ ت) وحدیث ایاك ومایسوء الاذن [1] (جو بات کان کو اچھی نہ لگے اس سے بچو۔ ت) وحدیث من کان یؤمن بالله والیوم الاٰخر فلایقفن مواقف التھم الی غیر ذلك من النصوص [2] (جو شخص اللہتعالٰی اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمتوں کی جگہ پر کھڑا نہ ہوا اسکے علاوہ دیگر نصوص ہیں ، ت) تو اپنا کھتا چونہ دینا اپنے پانی سے پان بھگونا ساری احتیاط کرنا مگر پان عیسائی کے ہاتھ کا ہونا اس میں سوا اس کے کیا نفع ہے کہ مسلمان نفرت کھائیں بدنام کریں متہم جانیں غیبت میں پڑیں اسی طرح جب اُس کے یہاں کی شیرینی ان مفاسد کا دروازہ کھولتی ہو تو اُس سے بھی احتراز شرعًا درکار والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۴ : ۲۹ صفر ۱۳۱۷ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے کہا کہ تم مٹی کے برتن کو اب پاك کرکے رکھو تو میں تمہارے چاقو مار دُوں ، اب زید کے لئے کیا حکم ہے بموجب شرع شریف کے ، بنیوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید نے تین۳ گناہ کئے : مسلمان۱ کو ناحق تہدید ، مال۲ کو ضائع رکھنے کی تاکید ، مسئلہ۳ شرعیہ پر انکار شدید۔ زید پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور عمرو سے بھی اپنا قصور معاف کرائے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از پیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ
اگر کپڑا بقدر درم کے یا اس سے کم پیشاب سے پلید ہوگیا اور پھر وہ کپڑا تہہ توڑ کر سب میں اثر پلیدی سرایت کرگیا تو وہ کپڑا پاك رہے گا یا نہیں۔
الجواب :
جب کپڑے کو نجاست پہنچے اور ایك تہہ سے دوسری تہہ تك سرایت کرے تو ہر تہہ کی نجاست جدا شمار میں آئیگی اگر سب مل کر قدر درم سے زائد ہو نماز فاسد ہو خواہ وہ تہیں ایك ہی کپڑے کی ہوں جیسے دو ہرے لباس یا چند کپڑے تہہ بتہہ بدن پر ہوں جیسے شعار ووثار۔
فی ردالمحتار فی البحر وغیرہ لایعتبر نفوذ المقدار الی الوجہ الاٰخر لوالثوب واحدا بخلاف مااذاکان ذاطاقین کدرھم متنجس الوجھین[3] اھ الخ والله تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے کہ مقدار کا دوسری طرف سرایت کرنا معتبر نہ ہوگا اگر کپڑا ایك ہو ، بخلاف اس کے جب دو تہوں والا ہو جس طرح درھم کی دونوں طرفیں ناپاك ہوں الخ والله تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۸۶ : از بزریہ عنایت گنج بریلی شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ : شِیر خوار بچّے کا پیشاب پاك یا ناپاک؟
الجواب :
آدمی کا بچّہ اگرچہ ایك دن کا ہو اُس کا پیشاب ناپاك ہے اگرچہ لڑکا ہو والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا (یہ مسئلہ متن وشرح کی کتب میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷ : از اٹاوہ کچہری کلکٹری مکان منشی عنایت اللہ۱۲ شعبان ۱۳۱۸ھ
جسم پر اگر کوئی نجاست بالتحقیق لگ چکی ہو اور وہاں ورم ہو مثلًا شکم پر ہو یا رانوں تك ورم پہنچا ہو تو نجاست دھوئیں یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر پانی بہانا ضرر کرے تو کسی عرق مثلًا عرق مکوہ وغیرہ سے گُنگنا کرکے دھوئے نجاست حقیقی ان چیزوں سے بھی پاك ہوجاتی ہے ، ہاں نہانے یا وضو میں پانی کے سوا دوسری چیز کام نہیں دیتی اور اگر ان سے بھی ضرر ہو تو کپڑا پانی یا عرق میں خوب بھگو کر اس سے موضعِ نجاست کو ملے دوبارہ دوسرا کپڑا سہ بارہ تیسرا بھگوکر ملے طہارت ہوجائے گی اور اگر یہ بھی نقصان دے تو جب تك حالت ضرر کی رہے ویسے ہی نماز پڑھے ، معاف ہے ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸ : از فراشی محلہ ۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحاف تو شك وغیرہ رُوئی دار کپڑے ناپاك ہوجائیں تو وہ مع روئی کے دُھل کر پاك ہوسکتے ہیں یا روئڑ علیحدہ ہوکر کپڑا الگ اور روئڑ الگ دھونے سے پاك ہوگا اور اگر روئڑ کا سُوت کات لیا جائے تو وہ سُوت بغیر اسی کے کہ دری وغیر بنوائی جائے دھونے سے پاك ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
جو کپڑے نچوڑنے میں آسکیں جیسے ہلکی تو شك رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاك ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا اُن پر پانی بہائیں یہاں تك کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے۔
فی الدرالمختار یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار [4] اھ باختصار۔
درمختار میں ہے (نجاست) نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھوکر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑنے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقًا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے اھ تلخیص (ت)
ناپاك روئڑ کا سُوت دھونے سے بخوبی پاك ہوسکتا ہے بلکہ دری بناکر پاك کرنے سے سُوت کی تطہیر آسان ہے کہ وہ نچوڑنے میں سہل آسکتا ہے کمالایخفی والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ : از شہرکہنہ ۲۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ : غسل خانہ کے چہ بچہ کا پانی گھڑے سے نکالنا اور پھر اس کو دھوکر استعمال میں لانا مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب :
مکروہ نہیں مگر بے ضرورت پینے یا وضو یا کھانا پکانے کے گھڑے سے یہ کام نہ لیا جائے۔
لان الطباع تتنفر عن ھذا وقد قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بشروا
کیونکہ طبیعتیں اس سے نفرت کرتی ہیں اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : خوشخبری دو
ولاتنفروا[5]۔ والله تعالٰی اعلم۔
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث ابو الفادیہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۴ / ۸۶ ، مجمع الزوائد باب فیما یجنب من الکلام مطبوعہ دارالکتاب بیروت لبنان ۸ / ۹۵
[2] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
[3] ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع