دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

ہاں بے شك جو شخص اپنی آنکھ سے دیکھ لے کہ خاص مردار یا حرام ہڈیاں لی گئیں اور اس کے سامنے شکّر میں اس طور پر ملادی گئیں کہ اب جُدا نہیں ہوسکتیں یا بچشم خود معاینہ کرے کہ بالخصوص ناپاك استخواں لائے گئے اور اس کے رُوبرو اس میں بے حالت جریان شامل ہُوئے اور وہی رس منعقد ہوکر شکّر بناتو بالخصوص یہی شکّر جو اس کے پیشِ نظر یوں بنی اس پر حرام جس کا کھانا جائز نہ کھلانا جائز نہ لینا جائز نہ دینا جائز۔ یوہیں جس خاص شکّر کی نسبت خبر معتبر شرعی سے جس کا بیان مقدمہ ۵ میں گزرا ایسا برتاؤ درجہ ثبوت کو پہنچے اور معتمد بیان کرنے والا کہے میں پہچانتا ہوں یہ خاص وہی شکّر ہے جس میں ایسا عمل کیا گیا تو اس کا استعمال بھی روانہ رہے گا بغیر ان صورتوں کے ہرگز ممانعت نہیں اور اگر اس نے خود دیکھا یا معتبر سے سنا مگر جب بازار میں شکر بِکنے آئی مخلوط ہوگئی اور کچھ تمیز نہ رہی تو پھر حکمِ جواز سے اور خریداری واستعمال میں مضائقہ نہیں جب تك کسی خاص شکّر پر پھر دلیل شرعی قائم نہ ہو (دیکھئے مقدمہ ۹) یہ ہے حکمِ شرع اور حکم نہیں مگر شرع کے لئے ، صلی اللہتعالٰی علی صاحبہ وبارك وسلم آمین!

خاتمہ:

رزقنا الله حسنھا آمین

بحمداللہتعالٰی ہم نے اس شکّر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح وبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکمِ شرع مخفی نہ رہا اب اہلِ اسلام نظر کریں اگر یہاں اُن صورتوں میں سے کوئی شکل موجود جن پر ہم نے حکمِ حرمت ونجاست دیا تو وہی حکم ہے ورنہ مجرد ظنون واوہام کی پابندی محض تشدّد وناواقفی نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام وممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط بلکہ احتیاط اباحت ہی ماننے میں ہے جب تك دلیل خلاف واضح نہ ہو (دیکھو مقدمہ ۳) ہم یقین کرتے ہیں کہ ان خیالات وتصوّرات کا دروازہ کھولا جائے گا تو مبتدیوں پر دائرہ نہایت تنگ ہوجائے گا ایك روسرکی شکّر کیا ہزارہا چیزیں چھوڑنی پڑیں گی گھوسیوں کا گھی ، تیلیوں کا تیل ، حلوائیوں کا دُودھ ، ہرقسم کی مٹھائی ، کافر عطاروں کا عرق شربت کیا بلا ہے اور اُن کی طہارت پر بے تمسك باصل کونسا بینہ قاطعہ ملا ہے اس دائرہ کی توسیع میں امت پر تضییق اور ہزاروں مسلمانوں کی تاثیم وتفسیق جسے شرع مطہر کہ کمال یسروسماحت ہے ہرگز گوارا نہیں فرماتی صلی اللہتعالٰی علٰی صاحبہ وبارك وسلم۔

فی الحاشیۃ الشامیۃ فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ[1] اھ و فیھا ھو ارفق باھل ھذا الزمان

حاشیہ شامی میں ہے کہ اس میں بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس میں اُمت کی طرف گناہ کی نسبت لازم آتی ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اس میں موجودہ دور کے

لئلا یقعوافی الفسق والعصیان[2] اھ وقد قالت العلماء من کل مذھب کلماضاق امرا تسع [3] ومن القواعد المسلّمۃ المشقّۃ تجلب التیسیر[4]۔

لوگوں کے لئے زیادہ نرمی ہے تاکہ وہ نافرمانی اور گناہ میں نہ پڑیں اھ۔ ہر مذہب کے علماء فرماتے ہیں جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے اور مسلّمہ قواعد سے ہے کہ مشقت آسانی کو لاتی ہے۔ (ت)

علماء تصریح فرماتے ہیں ہمارا زمانہ اتقائے شبہات کا نہیں غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچے۔

فی فتاوی الامام قاضی خان قالوا لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات وانما علی المسلم ان یتقی الحرام المعاین[5] اھ۔ و فی تجنیس الامام ھان الدین عن ابی بکر ابراھیم لیس ھذا زمان الشبھات ان الحرام اغنانا یعنی ان اجتنبت الحرام کفاك[6] اھ ملخصًا وعنھما فی الاشباھ نحوذلك۔ و فی الطریقۃ وشرحھا بعد النقل علی الامامین المعاصرین رحمھماالله تعالٰی زمانھما ای زمان قاضی خان وصاحب الھدایۃ رحمھماالله تعالٰی قبل ستمائۃ سنۃ من الھجرۃ النبویۃ وقدبلغ التاریخ الیوم ای فی زمان المصنف لھذا الکتاب رحمہ الله تعالٰی تسعمائۃ فتاوٰی قاضی خان میں ہے فقہاء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے اجتناب کا زمانہ نہیں مسلمان پر لازم ہے کہ آنکھوں دیکھے حرام سے بچے اھ امام برہان الدین کی تجنیس میں ابوبکر بن ابراہیم سے منقول ہے کہ یہ شبہات کا زمانہ نہیں ہے بیشك حرام نے ہمیں مستغنی کردیا یعنی اگر تو حرام سے بچے تو کافی ہے اھ۔ (تلخیص) اور ان دونوں سے الاشباہ میں اسی کی مثل ہے۔ الطریقۃ المحمدیہ اور اس کی شرح میں دو معاصر ائمہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ان دونوں یعنی قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ کا زمانہ سن ہجری کے اعتبار سے چھ سو۶۰۰  سال پہلے کا ہے اور آج اس مصنف کے زمانے میں ۹۸۰ھ ہوگئی ہے اور آج (شرح لکھتے وقت) ۱۰۹۳ھ ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ عہدِ نبوت

وثمانین سنۃ من الھجرۃ وبلغ التاریخ الیوم الی الف وثلث وتسعین سنۃ من الھجرۃ ولاخفاء ان الفساد والتغیر یزیدان بزیادۃ الزمان لبعدہ عن عھد النبوۃ[7] اھ ملخصا وفی العٰلمگیریۃ عن جواھر الفتاوٰی عن بعض مشایخہ علیك بترك الحرام المحض فی ھذا الزمان فانك لاتجد شیأ لاشبھۃ فیہ [8] اھ۔        

سے دُوری کی وجہ سے جُوں جُوں زمانہ بڑھتا جاتا ہے فساد وتغیر میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اھ ملخصًا۔ فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ جواہر الفتاوٰی بعض مشائخ سے نقل کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں تم پر محض حرام کا چھوڑنا واجب ہے کیونکہ آج تم کوئی ایسی چیز نہیں پاؤ گے جس میں شبہہ نہ ہو۔ (ت)

سبحٰن الله جبکہ چھٹی صدی بلکہ اُس سے پہلے سے ائمہ دین یوں ارشاد فرماتے آئے تو ہم پسماندوں کو اس چودھویں صدی میں کیا اُمید ہے فاناللہوانّا الیہ راجعون ایسی ہی وجوہ ہیں کہ حدیث میں آیا :

انکم فی زمان من ترك منکم عشرما امربہ ھلك ثمّ یاتی زمان من عمل منھم بعشر ماامربہ نجا [9] اخرجہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔

تم (اے صحابہ کرام) اس زمانے میں ہوکہ تم میں سے جو شخص اس چیز کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ہلاك ہوگا پھر ایك زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو آدمی اس چیز کے دسویں حصّے پر بھی عمل کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پائے گا۔ ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ، انہوں نے نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا۔ (ت)

 ہاں جو شخص بحکم

قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کیف وقدقیل اخرجہ[10] خ وغیرہ عن عقبۃ بن الحارث النوفلی۔  وقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم

رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشاد جسے امام بخاری وغیرہ نے عقبہ بن حارث نوفلی سے روایت کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے (کہ تو اس سے مباشرت کرے) جبکہ کہا گیا ہے (تو اس کا بھائی ہے)

 



[1]            ردالمحتار مطلب فیمن وطء من زفت الیہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۲۶

[2]   ردالمحتار فصل فی اللبس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۳۵۳

[3]   الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۱۷

[4]   الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۰۵

[5]               فتاوی قاضی خان الحظر و الاباحۃ نولکشور لکنھؤ ۴ / ۷۷

[6]   غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب الحظرو الاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۰۸

[7]   الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ مطبع نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن