30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمان اسے خُوب سمجھ لیں اور ڈاکٹری علاج میں ان ناپاکیوں نجاستوں سے بچیں خصوصًا سخت آفت اس وقت ہے کہ ان علاجوں میں قضا آجائے اور مسلمان اس حالت میں مرے کہ معاذاللہاس کے پیٹ میں شراب ہو والعیاذ بالله رب العٰلمین (دو جہانوں کا پروردگار اللہبچائے۔ ت) اسی طرح بیشك اس شکر کا ہڈیوں سے صاف کیا جانا ایسا یقینی جس کے انکار کی گنجائش نہیں مگر اوّلًا غور واجب کہ اس تصفیہ میں ہڈیوں پر شکّر کا صرف مروروعبور ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اُن کے کُچھ اجزا شکّر میں رہ جاتے ہوں جس طرح پانی کو کوئلوں اور ہڈیوں سے متقاطر کرکے صاف کرتے ہیں کہ برتن میں نتھرا پانی شفاف آجاتا ہے اور انکشف واستخواں کا کوئی جُز اس میں شریك نہیں ہونے پاتا جب تو اس شکّر کی حلّت کو صرف اُن ہڈیوں کی طہارت درکار ہے اگرچہ حلال وماکول نہ ہوں۔
کمالایخفی علی عاقل وذٰلك لانہ لم یختلط بالحرام فیتمحض فی الاکل والمرورعلی طاھر ولوحراما لایورث منعًا۔
جیسا کہ یہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں اور یہ اس لئے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہیں پس اس کا کھانا واضح ہے اور پاك چیز پر گرنے سے اگرچہ وہ حرام ہو ممانعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اور درصورت مرور ظاہر یہی ہے کہ منافذ کو تنگ کرتے اور بطور تقاطر رس کو عبور دیتے ہوں کہ ازالہ کثافت کی ظاہرًا یہی صورت ہڈیوں پر صرف بہاؤ میں نکل جانا غالبًا باعثِ تصفیہ نہ ہوگا تو اس تقدیر پر درصورت نجاست استخوان نجاست عصیر وحرمت شکّر میں شك نہیں ورنہ عـــہ بلاریب طیب وحلال۔
اور اگر اجزائے استخوان پیس کر رس میں ملاتے اور وہ مخلوط وغیر متمیز ہوکر اس میں رہ جاتے ہیں تو حلّتِ شکّر کو ان ہڈیوں کی حلت بھی ضرورصرف طہارت کفایت نہ کریگی کہ اگر غیر ماکول یا مردار کے استخواں ہُوئے تو اس تقدیر پر شکّر کے ساتھ اُن کے اجزاء بھی کھانے میں آئیں گے للاختلاط وعدم الامتیاز (اختلاط اور عدمِ امتیاز کی وجہ سے۔ ت) (اور ان کا کھانا گو طاہر ہوں حرام ، تو شکّر بھی حرام ہوجائے گی فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ [1] اھ (درمختار وغیرہ بڑی کتب میں ہے اگر اس پانی میں مینڈك وغیرہ پھُول جائیں تو اس سے وضو جائز ہوگا لیکن اس کا پینا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے۔ ت)روسر کی جس شکّر کا حال تحقیقًا معلوم ہوکہ یہ بالخصوص کیونکر بنی ہے اُس کے تفاصیل احکام ہماری اس تقریر سے ظاہر اور استخواں کی طہارت نجاست حلت حرمت کا حکم پہلے معلوم ہوچکا (دیکھو مقدمہ۱)
ثانیًا : کیف ماکان ان خیالات پر مطلق شکر روسر کو نجس وحرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت وحلّت ہی پر فتوٰی دیا جائیگا تاوقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہوکہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست وحرمت پر یقین نہیں صرف ظنون وخیالات ہیں جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی (دیکھو مقدمہ ۲)
مانا کہ بنانے والے بے احتیاط ہیں مانا کہ اُنہیں نجس وطاہر وحرام وحلال کی پرواہ نہیں مانا کہ ہڈیوں میں وہ بھی
عــہ : یعنی اگر ہڈیاں ناپاك نہ ہوں یا رس اپنے بہاؤ میں اُن پر گزر جاتا ہو ۱۲ منہ (م)
پائی جاتی ہیں جن کے اختلاط سے شے حرام یا نجس ہوجائے مگر نہ سب ہڈیاں ایسی ہی ہیں بلکہ حلال وطاہر بھی بکثرت نہ بنانے والوں کو خواہی نخواہی التزام کہ خاص ایسے ہی طریقہ سے صاف کریں جو موجب تحریم وتنجیس ہو نہ کچھ ناپاك یا حرام ہڈیوں میں کوئی خصوصیت کہ انہیں تصفیہ میں زیادہ دخل ہو جس کے سبب وہ لوگ اُنہیں کو اختیار کریں اور جب ایسا نہیں تو صرف اس قدر پر یقین حاصل ہوا کہ ہڈیوں سے صاف کرتے ہیں کیا ممکن نہیں کہ وہ ہڈیاں طاہر وحلال ہوں دیکھو اگر آدمی کو جنگل میں ایك چھوٹا سا گڑھا پانی سے بھراملے اور اس کے کنارے پر اقدامِ وحوش کا پتا چلے اور پانی بھی جانور کے پینے سے کنارہ پر گرا دیکھے بلکہ فرض کیجئے کہ جانور بھی جاتا ہوا نظر پڑے مگر بوجہ بُعد یا ظلمتِ شب پہچان میں نہ آئے تو اس سے خواہی نخواہی یہ ٹھہرا لینا کہ کوئی درندہ یا خاص خنزیر ہی تھا اور پانی کو ناپاك جان کر ا س سے احتراز کرنا ہرگز حکم شرع نہیں بلکہ وسوسہ ہے۔ مانا کہ جنگل میں سباع وخنزیر بھی ہیں ، مانا کہ وہ بھی انہیں پانیوں سے پیتے ہیں ، مانا کہ یہ جانور جو جاتے دیکھا ممکن کہ سوئر ہو مگر کیا ممکن نہیں کہ کوئی ماکول اللحم جانور ہو۔
قال فی الحدیقۃ بعدنقل ماقدمنا عنھا عن جامع الفتاوٰی اول المقدمۃ العاشرۃ من ان بمجرد الظن لایمنع التوضئ الخ (مقولۃ قال ۱۲) لکن نقل قبل ذٰلك قال ولورأی (یعنی صاحب المجمع ۱۲ ) اقدام الوحوش عندالماء القلیل لایتوضأ بہ انتھی وینبغی تقیيد ذلك بما اذاغلب علی ظنہ انھا اقدام الوحوش والا فیحتمل انھا اقدام ماکول اللحم فلا یحکم بالنجاسۃ بالشك ویقید ایضا بانہ رأی رشاش الماء حول ذلك الماء القلیل ونحو ذلك من القرائن الدالۃ علی ان الوحوش شربت منہ و الافلا نجاسۃ بالشك [2] اھ۔
قلت فقدسبقہ بھذا الحمل
ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں بحوالہ حدیقۃ الندیۃ جامع الفتاوٰی سے نقل کیا کہ محض گمان وضو میں رکاوٹ نہیں بنتا الخ اسے نقل کرنے کے بعد صاحب حدیقہ فرماتے ہیں لیکن صاحب مجمع نے اس سے پہلے نقل کیا کہ کوئی شخص تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدم دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے انتہی ، اسے اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ درندوں کے قدم ہیں ورنہ یہ بھی احتمال ہوگاکہ ان جانوروں کے قدم ہوں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے لہذا شك کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور یہ قید بھی ہونی چاہے کہ جب وہ اس قلیل پانی کے گرد پانی کے چھینٹے دیکھے اور اس طرح کے دُوسرے قرائن جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں کہ درندوں نے اس سے پیا ہے ورنہ محض شك کی بنیاد پر نجاست ثابت نہ ہوگی اھ (ت) قلت اس بات پر (کہ پانی تھوڑا ہو) محمول
البحر فی البحر حیث قال وفی المبتغٰی بالغین المعجمۃ وبرؤیۃ اثر اقدام الوحوش عند الماء القلیل لایتوضأ بہ سبع مر بالرکیۃ وغلب علی ظنہ شربہ منھا تنجس والافلا اھ وینبغی ان یحمل الاول علی مااذا غلب علی ظنہ ان الوحوش شربت منہ بدلیل الفرع الثانی والا فمجرد الشك لایمنع الوضوء بہ بدلیل ماقدمنا عــہ نقلہ عن الاصل [3] الخ۔
کرنے میں بحرالرائق کے مصنّف نے ان سے سبقت کرتے ہوئے بحر میں کہا المبتغٰی میں ہے کہ تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدموں کے نشانات دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے۔ ایك درندہ کُنویں کے پاس سے گزرا ، اگر غالب گمان ہو کہ اس نے اس سے پیا ہے تو وہ ناپاك ہوجائے گا ورنہ نہیں اھ اور مناسب ہے کہ پہلے کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ جب اسے گمان غالب ہوکہ درندوں نے اس سے پیا ہے کیونکہ اس (مفہوم) پر فرع ثانی (درندے کا گزرنا) دلیل ہے ورنہ محض شك اس کے ساتھ وضو کو منع نہیں کرتا اس کی دلیل وہ ہے جسے ہم (صاحبِ بحرالرائق) نے اس سے پہلے اصل (مبسوط) سے نقل کیا ہے الخ (کہ اس حوض سے وضو کیا جاسکتا ہے جس میں نجاست گرنے کا خوف ہو لیکن یقین نہ ہو)۔ (ت)
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ بے پرواہ ہیں پھر نفس شکر میں سوا ظنون کے کیا حاصل اس سے بدر جہا زیادہ ہیں وہ بے احتیاطیاں اور خیالات جو بعض مسائل سابقۃ الذکر میں متحقق (دیکھو مقدمہ ۶) بلکہ جہاں بوجہ غلبہ وکثرت وفور وشدت بے احتیاطی غلبہ ظن غیر ملتحق بالیقین حاصل ہو وہاں بھی علما تنجیس وتحریم کا حکم نہیں دیتے صرف کراہت تنزیہی فرماتے ہیں (دیکھو مقدمہ ۷) پھر ما نحن فیہ تو اس حالت کا وجود بھی محل نظر کون کہہ سکتا ہے کہ اکثر ناپاك وحرام ہڈیاں ہی ڈالتے ہوں گے اور طیب وطاہر شاذونادر۔
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ اپنی بے پرواہی کو وقوع میں لاتے اور ہرطرح کی ہڈیاں ڈالتے ہی ہیں پھر یہ تو نہیں کہ دائمًا صرف وہی طریقہ برتتے ہیں جو نجس وحرام کردے اور جب یوں بھی ہے اور یوں بھی تو ہر شکّر میں احتمال محفوظی تو ہرگز حکم نجاست وحرمت نہیں دے سکتے (دیکھو مقدمہ ۸) بلکہ جب تك کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ رَیب وشبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں بلکہ جہاں تحقیق پر کوئی فتنہ یا ایذائے اہل ایمان یا ترك ادب بزرگان یا پردہ دری مسلمان یا اور کوئی محذور سمجھے وہاں تو ہرگز ان خیالات وظنون کی پابندی نہ کرے (دیکھو مقدمہ ۱۰)
عـــہ ھو ماقدمناہ عنہ عن الخلاصۃ عن الاصل اول المقدمۃ العاشرۃ ۱۲ منہ (م)
یہ وہ ہے جو ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں اصل سے خلاصہ سے البحرالرائق سے بیان کیا ہے ۱۲ م نہ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع