30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البتہ یقین نوعی اجمالی یہاں بھی بکار آمد نہیں کہ جب علٰی وجہ العموم والالتزام تیقن نہیں تو ہر فرد کی محفوظی محتمل جب تك کسی جزئی خاص کا حال تحقیق نہ ہوکہ اس وقت یہ یقین یقین شخصی کی طرف رجوع کرجائے گا وھومانع کماذکرنا (جیسا کہ ہم نے ذکر کیا وہ مانع ہے۔ ت)
بالجملہ خلاصہ ضابطہ یہ ہے کہ مامنہ محذور میں ہر قسم کا یقین بکار آمد نہیں جب تك وہ ماہومحذور کی طرف رجوع نہ کرے اور ماہو محذور میں ہر قسم کا یقین کافی مگر صرف نوعی اجمالی کہ ساقط وغیر مثبت ممانعت ہے جب تك یقین شخصی کی طرف مائل نہ ہو یہ نفیس ضابطہ قابلِ حفظ ہے کہ شاید اس رسالہ عجالہ کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اگرچہ جو کچھ ہے کلمات علماء سے مستنبطا اور انہی کی کفش برداری کا تصدق والحمدالله ربّ العٰلمین۔
الشروع فی الجواب بتوفیق الوھاب
(وہاب (الله تعالٰی) کی توفیق سے جواب کا آغاز ہے۔ ت)
کل کی برف میں شراب ملنے کی خبر قابل غور و واجب النظر اب مقدمہ ۴ و ۵ کی تقریر پیشِ نگاہ رکھ کر لحاظ درکار اگر یہ اخبار افواہ بازار یا منتہائے سند بعض مشرکین وکفار تو بالکل مردود ومحض بے اعتبار ہاں صورت اخیرہ میں اگر ان کا صدق دل پر جمے تو احتیاط بہتر تاہم گناہ نہیں اور اتنا بھی نہ ہو تو اصلًا پرواہ نہیں اور اگر فساق بداعمال یا مستور نامعلوم الحال کی خبر تو شہادت قلب کی طرف رجوع معتبر اگر دل اس امر میں اُن کے کذب کی طرف جھُکے تو کُچھ باك نہیں مگر احتراز افضل کہ آخر مسلمان ہیں عجب کیا کہ سچ کہتے ہوں خصوصًا مستور کہ اُس کی عدالت معلوم نہیں تو فسق بھی تو ثابت نہیں اور اگر قلب اُن کے صدق پر گواہی دے تو بیشك احتراز چاہئے کہ ایسے مقام پر تحری حجتِ شرعیہ ہے اگرچہ وہ خبر بنفسہ حجت نہ تھی مگر یہاں ممانعت کا درجہ حرمت قطعیہ تك تجاوز نہ کرے گا۔
لان التحری محتمل للخطاء کمافی الھدایۃ والظنون ربما تکذب کمافی الحدیث۔
کیونکہ سوچ وبچار میں خطاء کا بھی احتمال ہوتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور گمان بعض اوقات جھوٹے ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (ت)
اور وہ بھی اُسی کے حق میں جس کا دل اُن کے صدق کی طرف جائے۔
فان شھادۃ قلبك لیست حجۃ الاعلیك وذٰلك فی القاطع کالوجدان فکیف بالظنون۔
کیونکہ تمہارے دل کی گواہی تو تمہارے خلاف ہی جائیگی اور وہ قطعی چیز وجدان کی طرح ہے تو گمان کی صورت میں کیا کیفیت ہوگی۔ (ت)
پس اگر دوسرے کے دل پر اُن کا کذب جمے اُس کے حق میں وہی پہلا حکم ہے کہ احتراز بہتر ورنہ اجازت۔
فی صلاۃ ردالمحتار استفید مماذکر انہ بعد العجز عن الادلۃ المارۃ علیہ ان یتحری ولایقلد مثلہ لان المجتھد لایقلد مجتھدا[1] الخ
ردالمحتار میں نماز کی بحث میں ہے مذکورہ کلام سے مستفید ہوا کہ گزشتہ دلائل سے عجز کے بعد اس پر لازم ہے کہ غوروفکر کرے اور اپنے جیسے کی تقلید نہ کرے کیونکہ مجتہد ، مجتہد کی تقلید نہیں کرتا الخ (ت)
ہاں اگر اس قدر جماعت کثیر کی خبر ہو جن کا کذب پر اتفاق عقل تجویز نہ کرے تو بیشك علی الاطلاق حرمت قطعی کا حکم دیا جائیگا اور اس کے سوا کسی امر پر لحاظ نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ سب مخبر فساق وفجار بلکہ مشرکین وکفار ہوں۔
فان العدالۃ بل والاسلام ایضا لایشترط فی
کیونکہ جمہور کے نزدیك تواتر میں عدالت بلکہ اسلام کی شرط
التواتر عند الجمھور خلافا للامام فخرالاسلام علٰی مااشتھر مع ان کلامہ قدس سرہ ، ایضا غیر نص فی الاشتراط [2] کماافادہ المولی بحرالعلوم فی الفواتح والله اعلم۔
بھی نہیں البتہ اس میں امام فخرالاسلام کا اختلاف ہے جیسا کہ مشہور ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کلام بھی شرط رکھنے میں صریح نہیں جیسا کہ بحرالعلوم نے فواتح میں اس بات کا فائدہ دیا والله تعالٰی اعلم (ت)
اسی طرح اگر منتہائے سند مسلمان عادل اگرچہ ایك ہی ہو جب بھی احتراز واجب اور برف حرام ونجس۔
فان فی الدیانات لایشترط العدد ویقبل خبر الواحد العدل بلاتردد۔
کیونکہ دیانتوں میں گنتی شرط نہیں اور ایك عادل آدمی کی خبر کسی تردّد کے بغیر قبول کی جاتی ہے۔ (ت)
مگر یہ ضرور ہے کہ وہ خود اپنے معاینہ سے خبر دے ورنہ سُنی سنائی کہنے میں اُس کا قول خود اُس کا قول نہیں یہاں تك کہ جب اکابر علما نے دیبائے فارسی کی نسبت لکھا اس میں پیشاب پڑتا ہے۔ امام علّامہ ملك العلماء ابوبکر بن مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی وغیرہ ائمہ نے فرمایا : اگر یہ بات تحقیق ہوجائے تو اُس سے نماز ناجائز ہوگی تو کیا وجہ کہ اُن علماء کا خود مشاہدہ نہ تھا لہذا ہنوز معاملہ تحقیق طلب رہا۔
فی البدائع ثم الحلیۃ بعدذکر مانقلنا عنھما فی المقدمۃ الثامنۃ فان صح انھم یفعلون ذلك فلاشك انہ لاتجوز الصلاۃ معہ [3] اھ وفی ردالمحتار علی ما اثرنا عن الدرالمختار ثمہ ان کان کذلك لاشك انہ نجس تاترخانیۃ [4] اھ
بدائع پھر حلیہ میں اس کے بعد جس کو ہم نے ان دونوں سے آٹھویں مقدمہ میں نقل کیا ہے کہا ہے کہ “ اگر صحیح طور پر ثابت ہوجائے کہ وہ ایسا کرتے ہیں تو اس میں شك نہیں کہ اس کے ساتھ نماز جائز نہیں (انتہی) اور ردالمحتار میں اس بات پر جو ہم نے وہاں درمختار سے نقل کی ہے ، یہ ہے کہ اگر اسی طرح ہے تو اس کے نجس ہونے میں کوئی شك نہیں ، تاترخانیہ اھ (ت)
اسی طرح تواتر کے یہ معنی کہ اس قدر جماعت کثیر خاص اپنے معاینہ سے بیان کرے نہ یہ کہ کہنے واے تو ہزار ہے مگر جس سے پوچھی سننا بیان کرتا ہے کہ اس صورت میں اگ اصل مخبر کا پتا نہیں تو وہ ہی افواہ بازاری ہے ورنہ انتہائے خبر اُس مخبر پر رہے گی اور ناقلین درمیان سے ساقط ہوجائیں گے صرف نظر اُس اصل کے حال پر اقتصار کرے گی یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر اس قسم کی خبریں عوام یا کم علموں کے نزدیك متواترات سے ملتبس ہوجاتی ہیں حالانکہ عندالتحقیق تواتر کی بو نہیں۔
قال المولی الناصح سیدی عبدالغنی قدس سرہ فی مبحث اٰفۃ الرقص من شرح الطریقۃ اماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذلك عــہ فھو ممنوع لاستناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم عن رویۃ ذلك ومعاینۃ لقال لم اعاینہ وانما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ وربما اذتأملت وتفحصت وجدت خبر ذلك التواتر الذی تزعمہ کلہ مستندا فی الاصل الٰی خبر واحد اواثنین [5] الٰی اٰخر مااطال واطاب رحمہ الله تعالٰی۔
[1] ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
[2] فواتح الرحموت بحث العلم بالتواتر حق مطبوعہ المطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۲ / ۱۱۸
[3] بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیربہ المحل نجسا الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۱
[4] ردالمحتار قبیل کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۷
[5] الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع فی آفات البدن الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۵۲۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع