30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وابوحنیفۃ ھوالامام اقول : یہ ترك سوال میں صریح یا صریح کی طرح ہے جیسا کہ دیکھ رہے ہو اور اگر اس کا زیادہ مال حرام (کی کمائی) سے ہوتو وہ چوری ، ڈاکے ، غصب اور سود میں مشہور لوگوں کا ذکر کرے لیکن تفصیل میں مطلقًا نہ جائے ، امام حجۃ الاسلام کا میلان حرام مال زیادہ ہونے کی صورت میں وجوب سوال کی طرف ہے انہوں نے فرمایا ہم نے اس صورت میں سوال کرنا واجب قرار دیا ہے جب ثابت ہوجائے کہ اس کا زیادہ مال حرام ہے اس حالت میں اس کے غصّہ وغیرہ کی پروانہ کی جائے بلکہ ظالم کو اس سے بھی زیادہ ایذا پہنچانا واجب ہے اور غالب یہ ہے کہ اس قسم کا آدمی ایسے سوال پر غصہ نہیں کرتا اھ (ت)
قلت اس کی بنیاد یہ ہے کہ جس کا اکثر مال حرام ہو اس کے ہاں کھانا حرام ہے ، یہ پہلی قسم میں داخل ہوگا جس کا ہم نے ذکر کیا کہ اس سلسلے میں کسی کی ناراضگی کی پروانہ کرے اور نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرے ہمارے مشایخ کے نزدیك یہ زیادہ مناسب ہے فقیہ سمرقندی وغیرہ نے اسی پر فتوٰی دیا ہے ذخیرہ میں اسے صحیح قرار دیا اور قابل اعتماد مذہب اور مفتی بہ قول میں صحیح اور مختار بات مطلق رخصت ہے جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو ابراہیم نخعی ، امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا یہی مذہب ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں پس ابواللیث کا فتوٰی امام ابوحنیفہ کے فتوی کا اور تصحیحِ ذخیرہ امام محمد کی ترجیح کا معارض کیسے ہوگا حالانکہ امام ابوحنیفہ جو امام اعظم ہیں۔
الاعظم ومحمد ھو المحرر للمذھب فلذا اطلق العلامۃ البرکلی القول وتبعناہ فی ذلك لکن یظھرلی ان التورع محمود فی نفسہ وقدمدح فی احادیث متواترۃ المعنی فصلنا جملۃ منھا فی کتابنا المبارك ان شاء الله تعالٰی مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ وانما یترك حیث یترك لاجل عارضۃ اقوی مالی اقول یترك کلا لایترك ولکن ح یکون الورع فی ترك مایظنہ المتقشف ورعًا فحیث لا توجد العوارض کالایذاء وھتك الستر واثارۃ الفتنۃ کماوصفنا لك من شان ذاك الجرئ المجاھر فلامعنی لترك الرعۃ ح مع وجود المقتضی وعدم المانع فلذا ذھبنا الی استثنائہ والله الموفق ھذا وفی عین العلم والاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ وصار معتادا فی عصرھم حسن وان کان بدعۃ [1] اھ ای حسنۃ اوفی العادات کمایفیدہ التقیید بمالم ینہ عنہ ومثلہ فی الاحیاء والله تعالٰی اعلم۔
اور امام محمد ان کے مذہب کو تحریر کرنے والے ہیں اسی لئے علامہ برکلی کا قول مطلق ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اس کی اتباع کی لیکن مجھ پر ظاہر ہوا کہ ذاتی طور پر پرہیزگاری قابلِ تعریف ہے احادیث متواتر المعنی میں اس کی تعریف آئی ہے ہم ان میں سے کچھ (احادیث) اپنی مبارك کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ میں تفصیل سے نقل کریں گے اِن شاء الله تعالٰی ، جہاں چھوڑا جاتا ہے وہاں کسی نہایت مضبوط عارضہ کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے ، مجھے کیا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑا جائے ، ہرگز نہیں چھوڑا جائے لیکن اس وقت پرہیزگاری اس چیز کو چھوڑنے میں ہوگی جس کو حقیقتِ حال معلوم کرنے والا پرہیزگاری خیال کرتا ہے پس جہاں ایذاء رسانی ، پردہ دری اور فتنہ پروری جیسے عوارض نہیں پائے جائیں گے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے اس جرأت مند اعلانیہ روکنے والے کی شان بیان کی وہاں پرہیزگاری چھوڑنے کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ وہاں اس سے (پُوچھ گچھ) کا مقتضٰی بھی موجود ہے اور کوئی مانع بھی نہیں اسی لئے ہم نے اس کے استشناء کا راستہ اپنایا ہے واللہالموفق ہذا۔ اور “ عین العلم والاسرار بالمساعدۃ “ میں ہے کہ جس چیز سے روکا نہیں گیا اور وہ ان کے زمانے میں عادت بن گئی ہو وہ اچھی چیز ہے اگرچہ وہ بدعتِ حسنہ ہی ہو یا وہ عادات ہوں جیسا کہ “ اس سے نہ روکا گیا ہو “ کی قید سے فائدہ حاصل ہوتا ہے احیاء العلوم میں بھی اسی کی مثل ہے و الله تعالٰی اعلم۔ (ت)
___________________
تمّت المقدمات
(مقدمات پورے ہوگئے۔ت)
وضع ضابطہ کلیہ دریں باب وتفرقہ درحکم عظام وشراب
اس باب میں ضابطہ کلیہ کا بیان اور شراب اور ہڈیوں کے حکم میں فرق کا بیان
اقول : وبالله التوفیق
واضح ہوکہ کسی شے حرام خواہ نجس کے دوسری چیز میں خلط ہونے پر یقین دو۲ قسم ہے :
(۱) شخصی یعنی ایك فرد خاص کی نسبت تیقن مثلًا آنکھوں سے دیکھا کہ اس کنویں میں نجاست گری ہے۔
(۲) اورنوعی یعنی عـــہ مطلق نوع کی نسبت یقین۔ اور اس کی پھر دو۲ قسمیں ہیں :
ایك اجمالی یعنی اس قدر ثابت کہ اس نوع میں اختلاط واقع ہوتا ہے نہ یہ کہ علی العموم اُس کے ہر فرد کی نسبت علم ہو جیسے کفار کے برتن ، کپڑے ، کنویں۔ دوسرا کلی یعنی نوع کی نسبت بروجہ شمول وعموم ودوام والتزام اس معنی کا ثبوت ہو مثلًا تحقیق پائے کہ فلاں نجس یا حرام چیز اس ترکیب کا جزوخاص ہے کہ جب بناتے ہیں اُسے شریك کرتے ہیں اور یہ وہیں ہوگا کہ بنانے والوں کو بالخصوص اس کے ڈالنے سے کوئی غرض خاص مقصود ہو ورنہ بلاوجہ التزام متیقن نہیں ہوسکتا جیسے پانی وغیرہ کسی شے کو ہڈیوں سے صاف کریں کہ تصفیہ میں ناپاك یا حرام استخواں کی کوئی خصوصیت نہیں جو مقصود ان سے حاصل پا ك و حلا ل ہڈیوں سے بھی قطعًا متیسر کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)
اور وہ اشیاء بھی جن کا کسی ماکول ومشروب یا اور استعمالی چیزوں میں خلط سُنا جانا موجب تردّد وتشویش وباعثِ سوال وتفتیش ہو دو۲ قسم ہیں :
ایك مامنہ محذور یعنی وہ جن میں ہر قسم کے افراد موجود بعض اُن میں حرام ونجس بھی ہیں اور بعض حلال وطاہر جیسے عظام یہاں منشاء تو ہم صرف اُن لوگوں کا بیباك ونامحتاط ہونا ہے جن کے اہتمام سے وہ چیز بنتی ہے کہ جب ان اشیاء میں حرام ونجس بھی موجود اور اُن کو پرواہ واحتیاط مفقود تو کیا خبر کہ یہاں کس قسم کی چیز ڈالی گئی ہے اسی لئے جب وہ کارخانہ ثقہ مسلمانوں کے تعلق ہو تو خاطر پر اصلًا تردّد نہ آئے گا اور صدور محذور کی طرف ذہن سلیم نہ جائے گا۔
عـــہ : اراد بالنوع مالیس بشخص بدلیل المقابلۃ فیعم الصنف والجنس ۱۲ منہ (م)
نوع سے مراد وہ ہے جو شخصی نہ ہو کیونکہ یہاں نوعی ، شخصی کے مقابل ہے تو یہ نوع اور جنس دونوں کو عام ہوگی ۱۲ منہ (ت)
دوسرے ماہو محذور یعنی وہ کہ حرام مطلق یا نجس محض ہیں جن کا کوئی فرد حلال وطاہر نہیں جیسے شراب بجمیع اقسامھا علی مذھب محمد الماخوذ للفتوی (اپنی تمام اقسام کے ساتھ ، امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے مذہب کے مطابق اسی پر فتوی ہے۔ ت) یہاں باعث احتراز وتنزہ خود اُس شے کی نفس حالت ہے نہ بنانے والوں کو جرأت وجسارت یہاں تك کہ ابتداءً اہل کارخانہ کی وثاقت وعدالت معلوم ہونا اس مقام پر علاج اندیشہ نہ ہوگی بلکہ یہ سُن کر ان کی وثاقت واحتیاط میں شك آسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان دو۲ صورتوں میں ہنگامِ نظر وتنقیح حکم بوجہ فرق واقع ہوتا ہے۔
صُورت اولٰی میں مجرد اُس شَے مثلًا استخواں کے پڑنے پر تیقن عام ازاں کہ شخصی ہو یا نوعی اجمالی ہو یا کلی خواہی نخواہی اس جزئی یا نوع میں مخالطت حرام یا نجس کا یقین نہیں دلاتا۔ ممکن کہ صرف افراد طیبہ ومباحہ استعمال میں آئے ہوں۔ اسی طرح خاص افراد محرمہ ونجسہ کے استعمال پر یقین نوعی اجمالی بھی علی الاطلاق تحریم وتنجیس کا مورث نہیں کہ ہر جزئی خاص میں استعمال فرد طاہر وحلال کا احتمال قائم ولہذا افراد قسمین کا بازار میں اختلاط مانع اشترا وتناول نہیں کہ کسی معین پر حکم بالجزم نہیں کرسکتے کماحققنا کل ذٰلك فی المقدمۃ الثامنۃ والتاسعۃ (جیسا کہ ہم نے آٹھویں اور نویں مقدمہ میں ان تمام باتوں کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف صورتِ ثانیہ کہ وہاں صرف اس کے پڑنے کا یقین شخصی خواہ نوعی کلی اُس جزئی خاص یا تمام نوع کی تنجیس وتحریم میں بس ہے جس کے بعد کچھ کلام باقی نہیں رہتا اور وہ احتمالات کی بوجہ تنوع افراد صورتِ اولٰی میں متحقق ہوتے تھے یہاں قطعًا منقطع کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اسی طرح صورتِ اولٰی میں اگر بالخصوص افراد حرام وناپاك ہی پڑنے کا ایسا ہی یقین یعنی شخص یا نوعی کلی ہو تو اس کا بھی یہی حکم کہ اس تقدیر پر صورتِ اولٰی صورت ثانیہ کی طرف رجوع کر آئی۔
لانتفاء التنوع فی الافراد فان الیقین تعلق بخصوص الافراد المحرمۃ والنجسۃ وھی لاتتنوع الی محذور وغیر محذور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع