دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

جو اپنی ذات کو ذلّت بخوشی بغیراکراہ کے دے دے وہ ہم میں سے نہیں۱۲منہ غفرلہ (ت)

یہ کلام میرے ذہن میں آیا تھا پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شرنبلالی اس فرق کی طرف اشارہ فرماچکے ہیں جیسا کہ قول سوم کی عبارتوں میں ابھی آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

اقول :   لیس (۱)کمثلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم غیرہ فی شیئ من الصفات ومنھاالغیرۃ فھو صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اغیرخلق الله والله تعالٰی اغیرمنہ ومحال من نفس کریمۃ غیراء ان تتعرض لشیئ ممایعد ذلافثبت ان من سؤال الحاجۃ مالیس بذل والالماوقع منہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولادخل (۲) فی ھذا لافتراض البذل وعدمہ وقد یفترض(۳) فی حق غیرہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایضا کاطعام(۴) ذی مخمصۃ فھذا قد ینتفع بہ لمافی المبسوط۔

وانا اقول :  انما(۵)الجواب فی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اولی بالمؤمنین من انفسھم علی منزع اٰخر دقیق وھو ان (۶) املاکہم املاکہ اذھم انفسھم املاکہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولااحتمال لذل فی سؤال المولٰی بعض عبیدہ ممافی یدہ فانہ وما

اپنی ضرورت کی کچھ چیزیں دوسرے سے مانگیں قابل استدراك ہے اس لئے کہ حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ اختیار ہے تو حضور پر کسی اور کا قیاس نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ جب طلب کریں تو جس سے طلب فرمایا اس پر دینا فرض ہوگیا۔ یہ حال کسی اور کا نہیں اھ (ت)

اقول : کسی بھی صفت میں حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مثل دوسرا شخص نہیں۔ حضور کی ایك صفت “ غیرت “ بھی ہے تو حضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم خلقِ خدا میں سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور خدائے برتران سے بڑھ کر غیرت والا ہے ، اور کسی بھی باعزّت طبیعت سے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی ایسے فعل سے تعرض کرے جو ذلّت شمار ہوتا ہو۔ اس سے ثابت ہُوا کہ ضرورت کی چیز مانگنا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جس کا ذلّت میں شمار نہیں ہوتا ورنہ حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے واقع ہی نہ ہوتا __اور اس میں دینا فرض ہونے نہ ہونے کا کوئی دخل نہیں فرض تو کبھی غیرحضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حق میں بھی ہوجاتا ہے ، جیسے بھُوك کی شدّت والے کو کھانا دینا اس گفتگو سے کلام مبسوط کی حمایت میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ (ت)

اور میں کہتا ہوں(اس بات کا جواب کہ “ حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہیں “ ایك دوسرے دقیق انداز پر ہے۔ وہ یہ کہ مومنوں کی ملکیتیں خود حضور کی مِلك ہیں اس لئے کہ خود مومنین کی جانیں حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مِلك ہیں اور اس میں کسی ذلّت کا احتمال نہیں کہ آقا اپنے غلام سے اس کے ہاتھ کی کوئی چیز طلب کرے اس لئے کہ خود غلام اور جو کچھ

فی یدہ ملك مولاہ فلیس من السؤال فی شیئ بل استخدام فبھذا یتجہ مرامہ ویتضح کلامہ ثم قال لکن عدم وجوب الطلب من الرفیق نسبہ صاحب الھدایۃ وصاحب الایضاح الٰی ابی حنیفۃ کماتقدم واماشمس الائمۃ فی المبسوط فانہ نسبہ الی الحسن بن زیاد فانہ یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وربمایوفق بان الحسن رواہ عن ابی حنیفۃ فی غیرظاھرالروایۃ واخذھوبہ فاعتمد فی المبسوط ظاھرالروایۃ واعتبرصاحب الھدایۃ والایضاح روایۃ الحسن لکونھا انسب بمذھب ابی حنیفۃ فی عدم اعتبار القدرۃ بالغیروفی اعتبار العجز للحال والله سبحنہ تعالی اعلم [1] اھ۔

اس کے ہاتھ میں ہے سب اس کے آقا کی ملکیت ہے تو دراصل یہ مانگنا ہے ہی نہیں بلکہ یہ خدمت لیناہے۔ اس بیان سے صاحبِ غنیہ کے مقصد کی توجیہ اور ان کے کلام کی توضیح ہوجاتی ہے۔ پھر لکھتے ہیں : “ لیکن رفیق سے مانگنا واجب نہ ہونے کو صاحبِ ہدایہ اور صاحبِ ایضاح نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ لیکن شمس الائمہ نے مبسوط میں اسے حسن بن زیاد کی طرف منسوب کیاہے کہ وہی یہ کہتے ہیں کہ مانگنے میں ذلّت ہے اور اس میں کچھ حرج ہے تطبیق یُوں دی جاسکتی ہے کہ حسن نے اسے امام ابوحنیفہ سے غیرظاہر الروایۃ میں روایت کیااور خود حسن نے اسی کو لیا۔ تو مبسوط میں ظاہر الروایۃ پر اعتماد کیا اور صاحبِ ہدایہ وصاحبِ ایضاح نے روایت حسن کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ اس بارے میں امام ابوحنیفہ کے مذہب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے کہ قدرت کااعتبار دوسرے کے لحاظ سے نہیں ہوتا اور اس بارے میں کہ فی الحال جو عجز ہے اسی کا اعتبار ہے۔ اور خدائے پاك ہی خُوب جاننے والا ہے اھ (ت)

اقول :  ولی(۱) فیہ کلام سیاتی (اس میں مجھے کلام ہے جو عنقریب آرہا ہے۔ ت) حلیہ میں ہے :

فی الاختیار جاز(ای التیمم قبل الطلب)عند ابی حنیفۃ وعند ابی یوسف لایجوز ولم یذکر عــہ محمدا وانما ذکران قیاس قولہ

اختیار میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك (مانگنے سے پہلے تیمم) جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز نہیں۔ امام محمد کا ذکر نہ کیا صرف یہ ذکر کیا کہ ان کے

 

عــہ ای صاحب الاختیار

(یعنی صاحبِ اختیار نے ۱۲۔ ت)

ان غلب علی ظنہ انہ یعطیہ لایجوز والا یجوز [2] اھ

اقول :   ھکذاجری القیل والقال٭ولاحاجۃالٰی استکثارالاقوال٭بل نأتی علی المقامین لفصل المقال٭بتوفیق ربنا المھیمن المتعال٭

المقام الاول :  تظافرت ھھناکلمات العلماء علٰی ثلٰثۃ مسالک :  

اولھا :  لایجب الطلب مطلقاوانہ قول سیدنا الامام خلافالصاجیہ اوقول الطرفین خلافا للثانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔

ودخل فی قولی مطلقامن صرح بالاطلاق کمافی جامع الرموزعن التجریدیصح قبل الطلب من الرفیق وان ظن الاعطاء کماقال ابوحنیفۃ خلافا لابی یوسف [3] اھ۔

ویقرب منہ قول الاختیار المارحیث اطلق الجوازعند الامام وقابلہ بالتفصیل علی قیاس قول محمد ومثلھا عبارۃ الجوھرۃ الاٰتیۃ ومن

قول کے قیاس کا اقتضایہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اھ (ت)

اقول :  اسی طرح قیل وقال جاری ہے۔ اور زیادہ اقوال لانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم اپنے برتر نگہبان پروردگار کی توفیق سے تفصیل کلام کیلئے اُن دو۲ مقاموں پر آتے ہیں :

مقامِ اوّل : یہاں کلماتِ علما ء تین مسالك پر کثرت سے وارد ہوئے ہیں : مسلك اوّل : مطلقًا مانگنا واجب نہیں۔ اور یہ ہمارے امام صاحب کا قول ہے بخلاف صاحبین۔ یا یہ طرفین کاقول ہے بخلاف امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔

میرے “ مطلقًا “ کہنے میں اطلاق کی تصریح کرنے والے اور اس حکم کو بلاقید ذکر کرنے والے سبھی لوگ داخل ہیں۔ اطلاق کی تصریح جیسے جامع الرموز میں تجرید کے حوالہ سے ہے کہ رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم صحیح ہے اگرچہ دینے کا گمان رکھتا ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف “ ۔ اھ اس سے قریب “ اختیار “ کی گزشتہ عبارت ہے کہ اس میں امام صاحب کے جواز کو مطلق ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں قول امام محمد کے قیاس پر تفصیل بیان کی ہے اور اسی کے مثل جوہرہ کی عبارت ہے جو آرہی ہے

ارسلوا ارسالا وھم الاکثرون ففی الوقایۃ قبل طلبہ جاز خلافالھما [4]اھ وفی النقایۃ یصح قبل الطلب [5] اھ ومرعن الھدایۃ تیمم قبل الطلب اجزأہ عندا بیحنیفۃ[6] ،  وفی بدائع ملك العلماء لوکان مع رفیقہ ماء ولم یعلم بہ لایجب الطلب عندناوان علم بہ ولکن لاثمن لہ فکذلك عندا بی حنیفۃ وقال ابویوسف علیہ السؤال وجہ قولہ ان الماء مبذول عادۃ ولابی حنیفۃ ان العجز متحقق والقدرۃ موھومۃ لان الماء من اعزا لاشیاء فی السفر [7]اھ

 



[1]         غنیۃ المستملی  باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹

[2]   الاختیار لتعلیل المختار ، باب التیمم ، درفراس للنشر والتوزیع بیروت ۱ /

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن