دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

وہ بالاجماع اسی وقت ناپاك ہوتا ہے جب اس میں نجاست کا اثر ظاہر ہو اور اثر کا ظاہر ہونا حِس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے پس وہ سوال کا محتاج نہ ہوگا اھ یعنی حضرت عمروبن عاص رضی اللہتعالٰی کی یہ شان نہ تھی کہ آپ پر زیادہ پانی کا حکم مخفی رہتا اور نہ ہی آپ وسوسہ کرنے والوں میں سے تھے لہذا آپ کا سوال اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ پانی تھوڑا تھا جو ناپاك ہوجاتا ہے اور وہ جنگل میں تھا لہذا وہاں درندوں کے آنے کا گمان ہوسکتا تھا اس بنیاد پر سوال پیدا ہوا جسے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ترك احتمال کے ساتھ رَد کردیا۔ آگاہ رہنا چاہئے کہ ان کا اجماع نقل کرنا خاص تفسیر سے قطع نظر محض زیادہ پانی کی بنیاد پر تھا دس۱۰ کی مقدار سے تخصیص کرتے ہوئے نہیں جیسا کہ مخفی نہیں یہ ان کے مقصد کے مطابق ان کے کلام کی تقریر ہے۔ (ت)

اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہاں دو طرح سے سوال ہوسکتا ہے۔ اوّل : جب ہم نے تمہیں بتایا کہ اجماع اس بات پر ہے کہ کثیر پانی تبدیلی کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا لیکن کثیر کی حدبندی میں اختلاف مشہور ہے اور بہت بڑا اختلاف جو کتب میں تحریر ہے اکثر ایك چیز کسی قوم کے نزدیك کثیر ہوتی ہے اور دوسروں کے نزدیك قلیل اور کبھی اس کے خلاف ہوتا ہے اور جب معاملہ ایسا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو تمہیں کیا خبر کہ حضرت عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك پانی تھوڑا ہو لہذا انہوں نے

اصحابنا ان الکثیر فی حق کل مایستکثرہ۔

ویترا أی لی فی الجواب عنہ ان المجتہد لیس لہ ان یحمل المجتھد الاٰخر علی تقلید نفسہ ویصدہ عن العمل بمذھبہ ولذا انکر عالم المدینۃ علی ھارون الرشید اذاستأذنہ ان یعلق المؤطا علی الکعبۃ ویحمل الناس علی مافیہ فقال لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اختلفوا فی الفروع وتفرقوا فی البلدان وکل مصیب ابونعیم عنہ فی الحلیۃ وعلی المنصور اذ ھم ان یبعث بکتبہ الی الامصار ویأمر المسلمین ان لایتعدوھا فقال لا تفعل ھذا فان الناس قد سبقت الیھم الاقاویل وسمعوا احادیث و رووا روایات واخذ کل قوم بما سبق الیھم ودانوا بہ فدع الناس وما اختار کل اھل بلد منھم لانفسھم ابن سعد عنہ فی الطبقات ففکذا لایجبر مجتھد بل عامی علی تقلید ظن الغیر فیما یفوض الی رأی المبتلی کما نص علیہ فی البحر وغیرہ فعلی ھذا قول                                      

بحث کی اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك زیادہ ہو لہذا انہوں نے اس کی پروانہ کی۔ ہمارے اصحاب کے قول پر بات ظاہر ہے کہ ہر ایك کے حق میں وہی کثیر ہے جس کو وہ کثیر سمجھے۔ اس کا جواب مجھ پر یوں ظاہر ہوا کہ کسی مجتہد کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے مجتہد کو اپنی تقلید کی ترغیب دے اور اسے اس کے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے عالم نے ہارون الرشید کی بات ماننے سے انکار کردیا جب اس نے مؤطا کو کعبۃ اللہکی دیوار پر لٹکانے اور لوگوں کو اس پر عمل کی ترغیب دینے کی اجازت طلب کی۔ عالم نے فرمایا : ایسا نہ کرو رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صحابہ نے فروع میں اختلاف کیا اور مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ہر ایك حق پر ہے۔ یہ بات حلیہ میں ابونعیم سے مروی ہے۔ اورجب منصور نے مختلف شہروں میں انکی کتابیں بھیجنے اور مسلمانوں کو حکم دینے کا ارادہ کیا کہ وہ ان سے تجاوز نہ کریں ، تو اس کا انکار کرتے ہوئے عالمِ مدینہ نے فرمایا : “ ایسا مت کرو لوگوں تك باتیں پہنچ چکی ہیں انہوں نے احادیث سُنی ہیں روایات نقل کی ہیں اور جس قوم تك جو پہنچا انہوں نے اسے اختیار کرکے اس پر عمل پیرا ہوگئے پس لوگوں کو اسی چیز پر چھوڑ دیجئے جو ہر شہر والوں نے اپنے لئے اختیار کرلی “ ۔ اسے ابنِ سعد نے طبقات میں نقل کیا۔ اسی طرح کسی مجتہد اور کسی عامی کو بھی اس چیز میں جو مبتلا کی رائے پر چھوڑی گئی ہے دوسرے کے گمان کی تقلید پر مجبور نہ کیا جائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ اس بنیاد پرحضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول “ لاتخبرنا “ (ہمیں خبر نہ دینا) کو اس بات پر محمول کرنا مناسب نہیں کہ میرے نزدیك پانی زیادہ ہے اگر تمہارے نزدیك تھوڑا بھی ہو تب بھی تم میری رائے پر عمل کرو اور سوال نہ کرو ، بلالکہ اس بنیاد پر

عمر لاتخبرنا لاینبغی حملہ علی ان الماء کثیر عندی وان کان قلیلا عندك فبرأیی فاعمل ولاتسأل بل المعنی علی ھذا ایضًا ھو المنع عن اتباع الظنون ای ان الماء وان تستقلہ لکن لست علی یقین من نجاستہ فانصرف الکلام الی مااردنا۔

واما ثانیًا  :  فلانا لانسلم ان الکثیر لایحتاج فیہ الی السؤال فلربما ینتن الماء فیتغیر لونہ فیحتمل انہ لطول المکث اوحلول الخبث فیتحقق مثارللسؤال فعلم ان القلیل والکثیر سواء فی حاجۃ السؤال لکشف الحال عند المظنۃ والاحتمال بیدان الکثیر فی الاشربۃ المظنۃ کالامر الحسی اعنی تغیر احد الاوصاف بخلاف القلیل وبھذا القدر لا یستند العلم الی مجرد الحسن لان الذی یدرك بالحس لا یکفی لبتین الامر وزوال اللبس کما لا یخفی۔

وافاض الله الجواب عنہ بان ھذا مضر یعود نفعا محضًا فلئن قلتم بہ فی قصۃ الحدیث عـــہ فقد ترکتم                                      

بھی مفہوم یہ ہوگا کہ گمان کی اتباع سے روکا گیا مطلب یہ کہ اگرچہ تم پانی کو تھوڑا سمجھتے ہو لیکن تمہیں اس کی نجاست کا یقین نہیں پس ان کے کلام کو اس کی طرف پھیرا جائے گا جو ہماری مراد ہے۔

دوم : ہم نہیں مانتے کہ زیادہ پانی کے بارے میں سوال کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ بعض اوقات وہ بدبُودار ہوجاتا ہے یا اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ پس اس بات کا احتمال ہے کہ زیادہ دیر ٹھہرنے یا نجاست داخل ہونے کے باعث ایسا ہوا ہو لہذا اس کا مقام سوال ہونا ثابت ہوگیا۔ پس معلوم ہوا کہ جب گمان واحتمال والی صورت ہو تو کشفِ حال کے لئے سوال کی ضرورت میں قلیل وکثیر برابر ہیں۔ علاوہ ازیں کثیر میں (نجاست کا) گمان محض امر حسی کی بنیاد پر ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی وصف بدلتا ہے بخلاف قلیل کے۔ اور محض اتنی سی بات سے علم ، مجرد حس کی طرف منسوب نہیں ہوگا کیونکہ حس کے ساتھ جس چیز کا ادراك ہوتا ہے وہ بات کو واضح کرنے اور شك کو دُور کرنے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔

فیضانِ الہی : اللہتعالٰی نے اس کے جواب کا فیضان عطا فرمایا اگرچہ یہ ضرر ہے اللہتعالٰی اسے نفع بخش فرمائے کہ اگر تم اس حدیث کے ضمن یہ بات کرتے ہو

 

عـــہ :  فان قلت لامساغ لھذا فی

اگر تو کہے کہ حدیث کے اس واقعہ سے(باقی برصفحہ آئندہ)

ما قصدتم واعترفتم بما نرید اذکان مثار سؤال عمرو ح ھواحتمال الخبث ومبنی جواب عمر ھواتباع الاصل وذلك ماکنا نبغ وانما کنتم تذھبون بالحدیث الی ان الماء کثیر لایحمل الخبث فلا تخبرنا ای اخبارك وعدمہ سواء وعلی ھذا التقریر یصیر الکثیر نظیر الیسیر کما اعترفتم فلم تغن عنکم کثرتکم شیئا والله الموفق ھذا۔

وقیل عـــہ بل ذھب عمر رضی الله تعالٰی عنہ الی طھارۃ سؤر السباع کما تقولہ الائمۃ الثلثۃ علی خلاف بینھم فی الکلب والخنزیر فقولہ لا تخبرنا ای سواء علینا اخبرتنا اولم تخبرنا فانا نطھر ما تفضل السباع۔           

تو تم نے اپنا مقصود چھوڑ کر ہماری مراد کا اعتراف کرلیا کیونکہ اس وقت حضرت عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سوال کا دارومدار ، نجاست کو برداشت کرنے پر ہے اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے جواب کی بنیاد ، اصل کی اتباع ہے اور ہم اسی کی تلاش میں ہیں۔ حدیث کی روشنی میں تمہارا موقف یہ ہے کہ (چونکہ) زیادہ پانی نجاست سے ناپاك نہیں ہوتا لہذا تو ہمیں خبر نہ دے یعنی تیرا خبر دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہیں اس تقریر کی بنیاد پر زیادہ ، تھوڑے کی مثل ہوجائے گا جیسا کہ تم نے اعتراف کیا۔ پس تمہاری کثرت نے تم کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اللہتعالٰی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)

اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدرندوں کے جھُوٹے کو پاك سمجھتے ہیں جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کتّے اور خنزیر کے (جھُوٹے کے) بارے میں اس کے قائل ہیں اگرچہ ان میں کچھ اختلاف بھی ہے پس ان کا قول کہ “ ہمیں خبر نہ دینا “ کا مطلب یہ ہے کہ خبر دو یا نہ دو ہمارے لئے برابر ہے کیونکہ ہم درندوں کے جھُوٹے کو پاك سمجھتے ہیں (ت)      (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

قصۃ الحدیث اصلا اذالماء الکثیر لایتغیر بمجرد ولوغ السباع وشرب الماء قلت بلٰی فان لفظ الحدیث ھل ترد لاھل تلغ ویمکن ان ترد جماعات منھن وتقع فی الماء وتبول فیہ وتقضی الحاجۃ فتغلب النجاسۃ علی بعض اوصاف الماء ۱۲ منہ (م)

عــہ :   معطوف علی قیل السابق منہ (م)              

اس کا جواز ہر جگہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ کثیر پانی محض درندوں کے چاٹنے اور پینے سے متغیر نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ہاں کیونکہ حدیث کا لفظ “ ھل ترد “ ہے “ ھل تلغ “ نہیں اور ممکن ہے کہ درندوں کے کئی گروہ پانی پر وارد ہوتے ہوں اور پانی میں جاکر بَول وبراز کرتے ہوں تو پانی کے بعض اوصاف پر نجاست غالب آجائے۔ (ت)

پہلے گزرے ہوئے قیل پر معطوف ہے ۱۲ منہ (ت)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن