30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے اپنے کھانے سے کھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب سے پلائے تو پی لے اور اس کے بارے میں کچھ نہ پُوچھے۔ (ت)
امیر المومنین عـــہ۱ عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایك حوض پر گزرے عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُساتھ تھے حوض والے سے پُوچھنے لگے کیا تیرے حوض میں درندے بھی پانی پیتے ہیں؟ امیر المومنین نے فرمایا : اے حوض والے! ہمیں نہ بتا ،
مالك فی مؤطاہ عن یحيٰی بن عبدالرحمٰن ان عمر رضی الله تعالٰی عنہ خرج فی رکب فیھم عمرو بن العاص رضی الله تعالٰی عنہ حتی وردوا حوضا فقال عمرو یاصاحب الحوض ھل ترد حوضک
امام مالك رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے مؤطا میں حضرت یحیٰی بن عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسواروں کے ایك دستہ میں تشریف لائے ان میں حضرت عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ایك حوض پر پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص
عـــہ۱ : ویروی مثل ذلك عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من حدیث ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما قال خرج رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فسار لیلا فمروا علی رجل عند مقراۃلہ عـــہ۲ فقال عمر یا صاحب المقراۃ اولغت السباع اللیلۃ فی مقراتك فقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یا صاحب المقراۃ لاتخبرہ ھذا مکلف لھا احملت فی بطونھا ولنا ما بقی شراب وطھور [1] ۱۲منہ۔
عـــہ۲ : المقراۃ بالکسر مجتمع الماء ١٢ (م)
اسی طرح کی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے وہ حدیث مروی ہے جو ابن عمر نے روایت کی ہے فرمایا : رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے بعض سفروں میں تشریف لے گئے ایك دفعہ رات کو سفر شروع کیا تو ایك ایسے شخص پر گزر ہوا جس کے پاس اس کا اپنا تالاب تھا تو حضرت عمر نے کہا اے تالاب والے! کیا رات کو تیرے تالاب سے درندوں نے پانی پیا ہے؟ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اے تالاب والے! اسے اس بات کی خبر نہ دو یہ مکلف ہے جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لئے ہے اور باقی ہے وہ ہمارے پینے اور طہارت کے لئے ہے۔ (ت) “ المقراۃ “ کسرہ کے ساتھ وہ جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہو۔ (ت)
السباع فقال عمربن الخطاب یاصاحب الحوض لاتخبرنا فانا نرد علی السباع وترد علینا [2]
قال سیدی عبدالغنی ولعلہ کان حوضًا صغیرا والا لما سأل [3] اھ ملخصًا وقال تحت قولہ لاتخبرنا ای ولوکنت تعلم انہ تردد السباع لانانحن لانعلم ذلك فالماء طاھر عندنا فلواستعملناہ لاستعملنا ماء طاھرا عــہ ولایکلف الله نفسًا الّا وسعھا [4] اھ
یقول العبد الضعیف غفرلہ القوی اللطیف جل وعلا قد حمل المولی الفاضل رحمہ الله تعالٰی ھذا الحدیث کما تری علی ماقدمنا من ان المطلوب عدم العلم بالنجاسۃ لا العلم بعدم النجاسۃ ولیس علینا ان نبحث فان الشیئ وان کان متنجسا فی الواقع فانہ طاھرلنا مالم نعلم بذٰلك ولذاحمل الحوض علی حوض صغیر یحمل الخبث وقد سبقہ الی ھذا الحمل علّامۃ عصرہ سیدی زین بن نجیم المصری رحمہ الله تعالٰی
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : اے حوض والے! کیا تیرے حوض میں درندے بھی آتے ہیں؟ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : اے صاحبِ حوض! ہمیں نہ بتانا کیوں کہ ہم درندوں کے پاس اور وہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں۔ سیدی عبدالغنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : شاید وہ چھوٹا حوض تھا ورنہ وہ نہ پُوچھتے ، انتہی تلخیص۔ وہ “ لاتخیرنا “ (ہمیں نہ بتانا) کے تحت فرماتے ہیں یعنی اگرچہ تو جانتا بھی ہو کہ درندے آتے ہیں ، کیونکہ ہم اس بات کو نہیں جانتے ، پس ہمارے نزدیك پانی پاك ہے پس اگر ہم اسے استعمال کریں گے تو پاك پانی استعمال کریں گے۔ اور ہر نفس کو اللہتعالٰی اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دیتا ہے۔ (ت)بندہ ضعیف “ قوی ومہربان اور بلندو بالا ذاتِ باری اس کی بخشش فرمائے “ کہتا ہے کہ فاضل مولانا نے اس حدیث کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اس بات پر محمول کیا ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی مطلوب ، نجاست کا علم نہ ہونا ہے نہ کہ عدمِ نجاست کا علم ہونا ہے اور ہم پر لازم نہیں کہ ہم بحث کریں کیونکہ کوئی چیز اگرچہ فی الواقع ناپاك بھی ہو تو ہمارے نزدیك پاك ہوگی جب تك ہمیں اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو۔ اسی لئے حوض کو چھوٹے حوض پر محمول کیا گیا ہے جو نجس ہوجاتا ہے۔ اپنے زمانے کے علّامہ سیدی زین بن نجیم مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے البحرالرائق
عـــہ ۱ : ای فی حقنا وان کان علٰی خلاف ذلك فی الواقع ۱۲ منہ (م)
یعنی ہمارے حق میں پاك ہے اگرچہ وہ حقیقۃً اس کے خلاف ہو ۱۲ منہ (ت)
فی البحر حیث قال (فروع) فی الخلاصۃ معزیا الی الاصل یتوضأ من الحوض الذی یخاف فیہ قذر ولایتیقنہ ولایجب ان یسأل اذا لحاجۃ الیہ عند عدم الدلیل والاصل دلیل یطلق الاستعمال وقال عمر رضی الله تعالٰی عنہ[5] الخ فذکر الحدیث المذکور بمعناہ وانت تعلم ان کلامہ انما ھو فی الحوض الصغیر کمالا یخفی وقد استشھد بالحدیث علی عدم وجوب السؤال والتفتیش عنہ وان خشی التنجس بناء علی اصابۃ الطھارۃ۔ فالعبد الضعیف تمسك بہ فی ھذا المقام تبعًا لھما لکن الحدیث ذو وجوہ وشجون فقد قیل یعنی ان الماء کثیر فلایحتمل التنجس بولوغ السباع وعلیہ درج الشیخ المحقق الدھلوی رحمہ الله تعالٰی فی شرح المشکوٰۃ ویکدرہ سؤال عمروبن العاص رضی الله تعالٰی عنہ کما اشار الیہ علی القاری وقال العارف النابلسی لوکان کثیرا مقدار العشر لما سأل لانہ لایتنجس ح الابظھور اثر النجاسۃ فیہ اجماعا وظھور الاثر یعرف بالحس فلایحتاج
میں اس حمل کی طرف سبقت کی ہے جب انہوں نے فرمایا : (فروع) خلاصہ میں مبسوط کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حوض سے وضو کرسکتا ہے جس کے گندہ ہونے کا گمان ہو لیکن اس کا یقین نہ ہو اور اس پر سوال کرنا واجب نہیں کیونکہ اس کی ضرورت دلیل نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے اور اصل (طہارت) دلیل ہے جو استعمال کا اطلاق کرتی ہے اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا (آخر تک) انہوں نے حدیث مذکور کو معنوی طور پر ذکر کیا اور تم جانتے ہو کہ ان کا کلام چھوٹے حوض کے بارے میں ہے جیسا کہ مخفی نہیں اور انہوں نے حدیث شریف سے شہادت پیش کی ہے کہ اس کے بارے میں پوچھنا اور تفتیش کرنا واجب نہیں اگرچہ اس کے ناپاك ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ طہارت اصل ہے۔ پس اس ضعیف بندے نے اس مقام پر ان دونوں کی اتباع میں اسی بات کو اختیار کیا لیکن حدیث کی کئی وجوہ اور مفاہیم ہیں کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پانی زیادہ ہے تو درندوں کے منہ ڈالنے سے ناپاك نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مشکوٰۃ شریف کی شرح میں یہی بات درج فرمائی لیکن حضرت عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا سوال اس بات کو مکدر کردیتا ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اشارہ فرمایا۔ عارف نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا اگر وہ زیادہ دہ در دہ کی مقدار ہوتا تو آپ اس کی نجاست کا سوال نہ فرماتے کیونکہ اس صورت میں
الی السؤال[6] اھ وماکان عمرو لیخفی علیہ حکم الماء الکثیر ولا کان من الموسوسین فسؤالہ ادل دلیل علی ان الماء کان قلیلا یحمل الخبث وقدکان فی فلاۃ فکان مظنۃ ورود السباع فعن ھذا نشأ السؤال وردہ عمر بطرح الاحتمال ولیتنبہ ان نقلہ الاجماع انما ھو ناظر الی الماء الکثیر مع قطع النظر عن خصوص التفسیر لا الی مقدار العشر بالتخصیص کمالایخفی ھذا تقریر کلامہ علی حسب مرامہ۔
اقول : ویظھر لی ان ھٰھنا مجال سؤال بوجھین۔ اما اولا فلما قدالقینا علیك ان الاجماع انما ھو علی ان الکثیر لا یتنجس الا بتغییر اما تحدید الکثیر ففیہ نزاع شھیر واختلاف کبیر فی الکتب سطیر فرب کثیر عند قوم قلیل عند اٰخرین وبالعکس واذالامرکما وصفنالك فما یدریك لعل الماء کان قلیلا عند عمرو فبحث وکثیرا عند عمر فمااکتثرت والامر اظھر علی قول
[1] سنن دار قطنی کتاب الطھارۃ ، ۱ / ۲۶
[2] المؤطا امام مالك الطہور للوضوء مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۷
[3] الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
[4] الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع