30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تحریمہ صغائر سے ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے ذکر میں بحرالرائق سے نقل کیا صاحب البحرالرائق نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے اس مقام پر دوسروں کے کلمات سے بھی اسی بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماءِ عصر میں سے بعض مشہور حضرات (مثلًا
عـــہ ۱ : یعنی المولوی عبدالحی اللکنوی فی رسالۃ فی شرب الدخان ۱۲ منہ (م)
یعنی مولوی عبدالحی لکھنوی سے اپنے رسالہ فی شرب الدخان میں لغزش ہوئی۔ (ت)
یکون کبیرۃ کما نص علیہ فی رسالۃ لہ وقد استوفینا الکلام علی ھذا المرام فی رسالۃ عـــہ۲ اخری والله الموفق۔
مولانا عبدالحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) سے لغزش ہوئی۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ مکروہ تنزیہی صغیرہ گناہ ہے جو بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے رسالے (شرب الدخان) میں لکھا ہے ہم نے ایك دوسرے رسالے میں اس مقصد پر پُورا کلام کیا ہے۔ اور اللہتعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
کسی شے کی نوع وصنف میں بوجہ ملاقات نجس یا اختلاط حرام نجاست وحرمت کا تیقن اُس کے ہر فرد سے منع واحتراز کا موجب اُسی وقت ہوسکتا ہے جب معلوم ومحقق ہوکر یہ ملاقات واختلاط بروجہ عموم وشمول ہے مثلًا جس شے کی نسبت ثابت ہوکہ اس میں شراب یا شحم خنزیر پڑتی ہے اور بنانے والوں کو اس کا التزام ہے تو اس کا استعمال کلیۃً ناجائز وحرام ہے اور وہاں اس احتمال کو گنجائش نہ دیں گے کہ ہم نے یہ فرد خاص مثلًا خود بنتے ہوئے نہ دیکھی نہ خاص اس کی نسبت معتبر خبر پائی ممکن کہ اس میں نہ ڈالی گئی ہوکہ جب علی العموم التزام معلوم تو یہ احتمال اُسی قبیل سے ہے جسے قلب قابل قبول والتفات نہیں جانتا اور بالکل متضائل ومضمحل مانتا ہے اور ہم پہلے کہہ چکے کہ ایسا احتمال کچھ کارآمد نہیں نہ وہ ظن غالب کو مساوات یقین سے نازل کرے تو اصل طہارت کا یقین اس غلبہ ظن سے ذاہب وزائل ہوگیا مگر یہ کہ اس فرد خاص کی محفوظی کسی ایسے ہی یقین سے واضح ہوجائے تو البتہ اس کے جواز کا حکم دیا جائے گا ولہذا علماء نے فرمایا دیبائے فارسی ناپاك اور اُس سے نماز محض ناجائز کہ وہ اس کی چمك بھڑك زیادہ کرنے کو پیشاب کا خلط کرتے ہیں اور پھر دھوتے یوں نہیں کہ رنگ کٹ جائے گا۔
فی الدرالمختار دیباج اھل فارس نجس لجعلھم فیہ البول لبریقہ [1] اھ وفی الحلیۃ عن
دُرمختار میں ہے کہ اہل فارس کا دیباج (ریشمی کپڑا) ناپاك ہے کیونکہ وہ اس میں چمك پیدا کرنے کیلئے پیشاب
عـــہ ۲ : ثم الفنا فیہ بتوفیق الله تعالٰی رسالۃ مستقلۃ سمیناھا جمل مجلّیہ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیہ ۱۲ منہ (م)
اللہتعالٰی کی توفیق سے پھر ہم نے اس مسئلہ کے بارے ایك مستقل رسالہ لکھا جس کا نام جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیہ رکھا ہے ۱۲ منہ (ت)
البدائع قالوا فی الدیباج الذی ینسجہ اھل فارس لا تجوز الصلاۃ فیہ لانھم یستعملون فیہ البول عند النسج ویزعمون انہ یزید فی تزینہ ثم لایغسلونہ فان الغسل یفسدہ [2] الخ
استعمال کرتے ہیں اھ ، اور حلیہ میں بدائع سے منقول ہے انہوں نے کہا اہل فارس جو دیباج بُنتے ہیں اُس میں نماز جائز نہیں کیونکہ وہ بُنتے وقت اُس میں پیشاب استعمال کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے اس کی زینت میں اضافہ ہوتا ہے پھر وہ اسے دھوتے نہیں کیونکہ دھونے سے وہ خراب ہوجاتا ہے الخ (ت)
اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف اتنا محقق کہ ایسا بھی ہوتا ہے نہ کہ خاص ناپاك وحرام میں کوئی خصوصیت ہے جس کے باعث قصدًا اس کا التزام کرتے ہیں تو اس بنا پر ہرگز ہرگز حکم تحریم وتنجےیس علی الاطلاق روا نہیں اور یہاں وہ احتمالات قطعًا مسموع ہوں گے کہ جب عموم نہیں تو جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ممکن کہ افراد محفوظ سے ہو اور اصل متیقن طہارت وحُلّت تو شکوك وظنون ناقابلِ عبرت۔ دیکھو کیا ہم کو مطعوم وملبوس وظروف کفار کی نسبت یقینِ کامل نہیں کہ بے شُبہہ اُ ن میں ناپاك بھی ہیں پھر اس یقین نے کیا کام دیا اور اُن اشیاء کا استعمال مطلق حرام کیوں نہ ہُوا تو وجہ وہی ہے کہ اُن کے طعام ولباس وظروف پر عموم نجاست معلوم نہیں اور جب اُن میں طاہر بھی ہیں اگرچہ کم ہوں تو کیا معلوم کہ جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں اُن میں سے نہیں۔
فی الاحیاء الغالب الذی لایستند الی علامۃ تتعلق بعین مافیہ النظر مطرح [3] اھ۔
احیاء العلوم میں ہے وہ غالب چھوڑ دیا جائے جو کسی ایسی علامت کی طرف منسوب نہ ہو جس کا اس معین چیز کے ساتھ تعلق ہے جس میں غور کیا جارہا ہے اھ (ت)
واضح تر سُنیے مجمع الفتاوٰی وغیرہ میں تصریح کی کہ ہمارے ملك میں جو کھالیں پکائی جاتی ہیں نہ اُن کے گلوں سے خُون دھوئیں نہ پکانے میں نجاستوں سے بچیں پھر ویسے ہی ناپاك زمینوں پر ڈال دیتے ہیں اور بعد کو دھوتے بھی نہیں (دیکھو نوع کی نسبت کس درجہ وضاحت وصراحت کے ساتھ وقوع نجاست بیان فرمایا) بااینہمہ حکم ناطق دیا کہ وہ بے دغدغہ پاك ہیں ان کے خشك وتر سے موزے بناؤ کتابوں کی جلدیں بناؤ پانی پینے کو مشك ڈول بناؤ کچھ مضائقہ نہیں۔
فی الطریقۃ عنہ وفیھا فی الغنیۃ وغیرھا عن القنیۃ الجلود التی تدبغ فی بلادنا ولایغسل مذبحھا ولا تتوقی النجاسات
الطریقۃ المحمدیۃ میں اس (مجموعۃ الفتاوٰی) سے منقول ہے اور اسی میں ہے کہ غنیہ وغیرہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ ہمارے شہروں جن چمڑوں کو دباغت
فی دبغھا ویلقونھا علی الارض النجسۃ ولایغلسونھا بعد تمام الدبغ فھی طاھرۃ یجوز اتخاذ الخفاف منھا وغلاف الکتب والقرب والدلاء رطبا ویابسا [4] اھ
دی جاتی ہے اور ان کے مذبح کو دھویا نہیں جاتا اور نہ ہی دباغت کے دوران نجاستوں سے اجتناب کیا جاتا ہے ب لکہ وہ اسے ناپاك زمین پر ڈالتے ہیں اور دباغت مکمل ہونے کے بعد بھی نہیں دھوتے تو وہ پاك ہیں ان سے جُوتا بنانا ، کتابوں کی جلدیں مشك اور ڈول بنانا جائز ہے چاہے تر ہوں یا خشك اھ (ت)
بس ایسی صورت میں ائمہ نے یہی حکم عطا فرمایا کہ ہر فرد خاص کو ملاحظہ کریں گے اور نوع کی نسبت جو اجمالی یقین ہو اسے تمام افراد میں مساوی نہ مانیں گے مثلًا کفار خصوصًا اہل حرب کو ہم یقینا جانتے ہیں کہ انہیں پروائے نجاسات نہیں اور بیشك وہ جیسی چیز پاتے ہیں استعمال میں لاتے ہیں پھر وہ پوستین کہ دار الحرب سے پك کر آئے علما فرماتے ہیں اسے دیکھا چاہے کہ اس کا پکنا نجس چیز سے تحقیق ہو تو بے دھوئے نماز ناجائز اور طاہر سے ثابت ہو تو قطعًا جائز اور شك رہے تو دھونا افضل نہ کہ استعمال گناہ وممنوع ٹھہرے۔
فی الدرالمختار مایخرج من دارالحرب کسنجاب ان علم دبغہ بطاھر فطاھر اوبنجس فنجس وان شك فغسلہ افضل اھ ومثلہ فی المنیۃ وغیرھا [5]۔
درمختار میں ہے جو کچھ دار الحرب سے نکلے جیسے سنجاب اگر معہوم ہوکہ پاك چیز کے ساتھ اس کی دباغت ہوئی ہے تو پاك ہے اور ناپاك کے ساتھ ہوئی ہے تو ناپاك ہے اگر شك ہو تو دھونا افضل ہے اھ منیہ وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔ (ت)
[1] درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
[2] بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیر بہ المحل نجسًا الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۱
[3] احیاء علوم الدین المثار الثانی للشبہۃ مطبوعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ / ۱۰۶
[4] الطریقۃ المحمدیۃ مع الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۲
[5] دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع