دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اقول : (میں کہتا ہوں) یہاں اس بات پر آگاہی مناسب ہے کہ ان کے گزشتہ قول یعنی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے منقول نہیں کہ وہ غنیمتوں کے برتن اور پیالے دھوتے تھے ، ان سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نہیں دھوتے تھے اور نہ اس کا التزام کرتے تھے ورنہ صحیح حدیث میں نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ان کے دھونے کا حکم ثابت ہے۔ اس حدیث کو امام احمد ، امام بخاری ومسلم ، ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوثعلبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہصلی اللہعلیہ وسلم) ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ پاؤ تو ان کو دھوکر ان میں کھالو۔ ابوداؤد کے الفاظ میں ہے کہ وہ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے ساتھ کیا کریں (الحدیث)

ابوعیسٰی کی دو۲ روایتوں میں سے ایك میں ہے کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مجوسیوں کی

فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا[1]۔

وعند احمد عن ابن عمر ان اباثعلبۃ رضی الله تعالٰی عنھم سأل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم افتنا فی اٰنیۃ المجوس اذا اضطررنا الیھا قال اذا اضطررتم الیھا فاغسلوھا بالماء واطبخوا فیھا[2]۔ فاذاثبت الامر فقدثبت الغسل وان لم ینقل بخصوصہ اذ ما کانوا لیخالفوا امر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یأتمروا بہ ابدا ھذا ومن نظر فی الدلائل التی اسلفنا ایقن ان الامر فی ھذا الحدیث للندب والنھی للتنزیہ والله تعالٰی اعلم۔

وفی نصاب الاحتساب بعد نقل ما فی الذخیرۃ بالاختصار قال العبد اصلحہ الله تعالٰی وماابتلینا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اوانیھم وان نساء ھم لایتوقین عن السرقین وکذا یأکلون لحم ماقتلوہ      

ہانڈیوں کے بارے میں پُوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان کو دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ امام احمد نے حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ ابوثعلبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا : ہمیں مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں حکم بتائیے جب ہم ان کے استعمال پر مجبور ہوں۔ آپ نے فرمایا : جب تم ان کے استعمال پر مجبور ہو تو ان کو پانی سے دھوکر اِن میں پکاؤ۔ جب حکم ثابت ہوا تو عملًا دھونا بھی ثابت ہوگیا اگرچہ وہ خاص طور پر منقول نہیں کیونکہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنہ تو نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حکم کی مخالفت کرتے تھے اور نہ ہمیشہ ہمیشہ بجالاتے اسے اختیار کیجئے۔ اور جو شخص ہمارے گزشتہ دلائل پر غور کرے گا اسے اس بات کا یقین ہوجائیگا کہ امر ، استحباب کے لئے ہے اور نہی تنزیہ کے لئے ، اللہتعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)

نصاب الاحتساب میں ذخیرہ کی بحث بالاختصار نقل کرنے کے بعد فرمایا بندہ عرض کرتا ہے اللہتعالٰی اس کی اصلاح کرے اور جو ہم گھی ، سرہ ، دُودھ ، پنیر اور دیگر مائع چیزیں ہندؤں سے خریدنے کے سلسلے میں مبتلا ہیں حالانکہ ان کے برتنوں کے (نجاست سے) ملوث ہونے کا احتمال ہے ان کی عورتیں گوبر سے اجتناب نہیں کرتیں اور اسی طرح وہ اپنے مقتول کا گوشت

وذلك میتۃ فالاباحۃ فتوٰی والتحرز تقوٰی [3] اھ ملخصا اقول :  واراد بالاباحۃ ما لا اثم فیہ وبالتقوی الرعۃ فافھم۔

فائدۃ جلیلۃ :  یقول العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف اعلم ان ھذا الذی جزمنا بہ وعولنا علیہ فیما مرمن ان المکروہ تنزیھا لیس من الاثم فی شی لاکبیرۃ ولاصغیرۃ ولایستحق العبد بہ معاقبۃ مالا کثیرۃ ولایسیرۃ ھو الحق الناصع الذی لامحید منہ وبہ صرح غیر واحد من العلماء ففی حظر ردالمحتار تحت قولہ اما المکروہ کراھۃ تنزیہ فالی الحل اقرب اتفاقا بمعنی انہ لایعاقب فاعلہ اصلا لکن یثاب تارکہ ادنی ثواب تلویح [4]  اھ۔

اقول  : والی الحل اقرب یعنی الاباحۃ والافالحل المقابل للحرمۃ ثابت لاشك وفیہ اٰخر الاشربۃ عن العلامۃ ابی السعود المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ [5] اھ

اقول  :  یعنی الاساغۃ وعدم الحظر ونفی الحرج وسلب الحجر والا فاستواء الطرفین یباین ترجح احد الجانبین ولو                         

کھاتے ہیں اور یہ مردار ہوتا ہے پس فتوٰی کے اعتبار سے وہ مباح ہے لیکن تقوٰی یہ ہے کہ اجتناب کرے اھ ملخصا اقول اباحت سے مراد وہ ہے جس میں گناہ نہ ہو اور تقوٰی سے مراد شبہات سے بچنا ہے پس سمجھ لو۔ (ت)

عظیم فائدہ : بندہ ضعیف ، اس پر لُطف وکرم کا مالك رحم فرمائے ، کہتا ہے جان لو جو کچھ پہلے گزرچکا ہے اور اس پر ہم نے جزم اور بھروسا کیا وہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی پر صغیرہ ، کبیرہ کوئی گناہ نہیں اور اس سے بندہ کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا نہ زیادہ کا اور نہ ہی کم کا ، یہی واضح حق ہے جس سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی اور معتمدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے ردالمحتار کے باب الحظرمیں اما المکروہ کراھۃ تنزیۃ کے تحت ہے کہ بالاتفاق حلّت کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کے مرتکب کو بالکل عذاب نہیں ہوگا۔ لیکن تارك کو کچھ نہ کچھ ثواب ملے گا ، تلویح اھ۔ (ت)

اقول : حلت کے زیادہ قریب ہونے سے مراد اباحت ہے ورنہ وہ حُلّت جو حُرمت کے مقابلے میں ہے ثابت ہے اس میں کوئی شك نہیں ، اور اس میں اشربہ کے آخر میں علامہ ابوالسعود سے نقل کیا ہے کہ مکروہ تنزیہی اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اھ (ت)

اقول : اس سے جائز ، غیر ممنوع ، حرج کی نفی اور رکاوٹ کا سلب مراد ہے ورنہ دونوں طرفوں کا برابر ہونا ایك جانب کی ترجیح کے خلاف ہے اگرچہ

دون عزم وفیہ من الصلاۃ الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینا فی کراھۃ التنزیہ[6]  اھ  ،

وفی شرح الطوالع من بحث العصمۃ ترك الاولی لیس بذنب فالاولی ومایقابلہ یشترکان فی اباحۃ الفعل [7] اھ  ، اقول :  والمعنی ماذکرنا اعنی الرخصہ وعدم التشدید المعبر عنہ بنفی البأس وانت تعلم ان لوکان اثما لماجامع الاباحۃ اذلاشیئ من الاثم بمباح ولکان مما یمنع فان کل اثم ولوصغیرۃ محظور ولما جاز التعبیر عنہ بلا بأس بہ اذ ما من اثم اِلَّا وفیہ بأس ولماساغ الجزم بنفی العقاب علیہ فقد ثبت فی العقائد تجویز العقاب علی الصغائر نعم قد افصح العلماء ان کل مکروہ تحریما من الصغائر [8]۔  کمافی صلاۃ ردالمحتار عن البحر صاحب البحر فی بعض رسائلہ وھو المستفاد من کلمات غیرہ فی ھذا المقام۔ وقدزلت قدم بعض عــہ۱ المشاھیر من ابناء العصر فزعم ان المکروہ تنزیھا صغیرۃ فاذا اصر

قصدًا نہ ہو۔ اور اسی میں نماز کی بحث میں ہے “ ظاہر یہ ہے کہ مباح سے مراد وہ ہے جو منع نہ ہو پس وہ راہتِ تنزیہی کے منافی نہ ہوگا “ اھ۔ شرح الطوالع کی بحث عصمۃ میں ہے کہ اولٰی کا چھوڑنا گناہ نہیں پس اولٰی اور اس کا مقابل فعل کے مباح ہونے میں برابر ہیں اھ ،

اقول : جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کا مطلب رخصت اور عدمِ تشدید ہے جس کو “ لاباس بہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور تُو جانتا ہے کہ اگر وہ گناہ ہوتا تو مباح کے ساتھ جمع نہ ہوتا کیونکہ کوئی گناہ مباح نہیں ، اور وہ ان میں سے ہوتا جو ممنوع ہیں کیونکہ ہر گناہ چاہے وہ چھوٹا ہی ہو ممنوع ہے اور “ لاباس بہ “ کے ساتھ اس کی تعبیر نہ ہوتی کیونکہ ہر گناہ میں حرج ہے اور وہ عذاب کی نفی کا جزم نہ کرتے کیونکہ عقائد میں صغیرہ گناہوں پر عذاب کا جائز ہونا ثابت ہے۔ ہاں علماء نے واضح کیا ہے کہ ہر مکروہِ



[1]   ترمذی شریف باب جاء فی الاکل فی اٰنیۃ الکفار آفتاب عالم پریس مطبع مجتبائی لاہور ۲ / ۲

[2]   مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۱۸۴

[3]   نصاب الاحتساب

[4]   ردالمحتار کتاب الحظرو بالاحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۱۴

[5]   ردالمحتار آخر باب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۷

[6]   ردالمحتار آخر باب الاشربۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۵ / ۳۲۷

[7]   شرح الطوالع

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن