30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان ایك جماعت کے درمیان بیٹھ کر کچھ باتیں کرے گا تو وہ اسے بیان کرینگے اور کہیں گے ہم اس کے قائل کو نہیں جانتے پس اس قسم کی بات کو سُننا بھی مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ ملخصا (ت)
سیدی محمد امین الدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت وھوکلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع[1] اھ۔
میں کہتا ہوں یہ اچھّا کلام ہے اور ذخیرہ کا قول کہ “ جب اس سے یقین کا فائدہ حاصل ہو اور وہ ثابت ہوجائے کیونکہ مجرد شائع ہونے سے اس کا تحقق نہیں ہوتا “ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ت)
حلت حرمت طہارت نجاست احکامِ دینیہ ہیں ان میں کافر کی خبر محض عــــہ نامعتبر۔
قال الله تعالٰی
وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠(۱۴۱) [2]
اللہتعالٰی نے فرمایا : اللہتعالٰی ہرگز مسلمانوں پر کافروں کو راہ نہ دے گا۔ (ت )
بلکہ مسلمان فاسق بلکہ مستور الحال کی خبر بھی واجب القبول نہیں چہ جائے کافر۔
قال الله
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا
اللہتعالٰی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو الآیۃ (ت)
عــــہ : یعنی جب ضمن معاملات میں نہ ہو مثلًا کافر گوشت لایا اور کہا مسلمان سے خریدار ہے بات اُس کی مقبول اورگوشت حلال اور جو کہا مجوسی کا ذبیحہ ہے قول اُس کا ماخوذ اور لحم حرام وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا ۱۲ منہ (بہت سی چیزیں ضمنًا ثابت ہوتی ہیں اور قصدًا ثابت نہیں ہوتیں۔ ت)
دُرمختار میں ہے :
شرط العدالۃ فی الدیانات کالخبر عن نجاسۃ الماء فتیمم ولایتوضأ ان اخبربھا مسلم عدل منزجرعما یعتقد حرمتہ ویتحری فی خبر الفاسق والمستور اھ ملخصا [3]۔
وفی العالمگیریۃ عن الکافی لا یقبل قول المستور فی الدیانات فی ظاھر الروایات وھو الصحیح[4] اھ۔
وفی ردالمحتار عن الھدایۃ الفاسق متھم والکافر لایلتزم الحکم فلیس لہ ان یلزم المسلم [5] اھ۔
دیانات (عبادات سے متعلق خبر) میں عدالت شرط ہے جیسے پانی کے ناپاك ہونے کے بارے میں اگر کوئی مسلمان عادل جو حرام امور سے باز رہنے والا ہو ، خبر دے تو تمیم کرے ، وضو نہ کرے۔ اور فاسق ومستور الحال کی خبر کے بارے میں غوروفکر کرے انتہی تلخیص۔
اور عالمگیریہ میں کافی ہے نقل کیا کہ ظاہر روایات کے مطابق دیانات میں مستور الحال کا قول قبول نہ کیا جائے یہی صحیح ہے اھ۔ اور ردالمحتار میں ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ فاسق تہمت زدہ ہے اور کافر حکم کا خود التزام نہیں کرتا پس اسے مسلمان پر لازم کرنے کا حق نہیں۔ اھ (ت)
ہاں فاسق ومستور میں اتنا ہے کہ اُن کی خبر سُن کر تحری واجب اگر دل پر اُن کا صدق جمے تو لحاظ کرے جب تك دلیل اقوی معارض نہ ہو اور کافر میں اس کی بھی حاجت نہیں مثلًا پانی رکھا ہو کافر کہے ناپاك ہے تو مسلمان کو رواکہ اُس سے وضو کرلے یا گوشت خریدا ہو کافر کہے اس میں لحم خنزیر ملا ہے مسلمان کو اُس کا کھانا حلال اگرچہ اس کا صدق ہی غالب ہو اگرچہ اُس کی یہ بات دل پر کچھ عـــہ جمتی ہوئی ہوکہ جو خُدا کو جھٹلاتا ہے اُس سے بڑھ کر جھُوٹا کون پھر ایسے کی بات محض واہیات البتہ احتیاط کرے تو بہتر وہ بھی وہاں جب کچھ حرج نہ ہو۔
فی فتاوٰی الامام قاضی خان ان کان المخبر بنجاسۃ الماء رجلا من اھل الذمۃ لایقبل قولہ فان وقع فی قلبہ انہ صادق فی ھذا الوجہ قال
فتاوائے امام قاضی خان میں ہے اگر پانی کے ناپاك ہونے کی خبر دینے والا ذمّی (کافر) ہو تو اس کی بات قبول نہ کی جائے اگر اس کے دل میں واقع ہوکہ وہ اس
عـــہ : کچھ اس لئے کہ مجرد خبر کافر کا بے ملاخطہ امور دیگر جو اس کے مؤیدات وقرائن ہوں قلب مومن پر ٹھیك ٹھیك جمنا کالمحال ہے ۱۲ منہ (م)
فی الکتاب احب الی ان یریق الماء ثم یتیمم ولوتوضأ وصلی جازت صلاتہ[6] اھ وفی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ رجل اشتری لحما فلما قبضہ فاخبرہ مسلم ثقۃ انہ قدخالطہ لحم الخنزیر لم یسعہ ان یاکلہ[7] اھ۔
قلت ومفھوم المخالفۃ معتبر فی الکتب کماصرح بہ الائمۃ والعلماء وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ انہ فی الفاسق یجب التحری وفی الذمی یستحب [8] اھ۔ وفی شرح التنویر عن شرح النقایۃ والخلاصۃ والخانیۃ اما الکافر اذاغلب صدقہ علی کذبہ فاراقتہ احب [9] اھ
بات میں سچّا ہے تو کتاب میں فرمایا : مجھے زیادہ پسند ہے کہ پانی بہادے اور تمیم کرے اور اگر اس کے ساتھ وضو کرکے نماز پڑھی تو بھی جائز ہے (ت)
اور فتاوٰی ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کیا ہے کہ ایك آدمی نے گوشت خریدا جب اس پر قبضہ کرلیا تو اسے کسی صالح مسلمان نے خبر دی کہ اس میں خنزیر کا گوشت ملا ہوا ہے تو اس کے لئے کھانے کی گنجائش نہیں اھ (ت)
[1] القرآن ۴ / ۱۴۱
[2] القرآن ۴۹ / ۶
[3] درمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۷
[4] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
[5] ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۳
[6] فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یقبل قول الواحد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۷۸۷
[7] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
[8] ردالمحتار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع