30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو نجس عین نہیں ہے شك پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاك ہے اور اس کا کھانا بھی جائز ، نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز ، اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاك ہے الخ اھ ملتقطا۔ (ت)اور الاشباہ والنظائر میں ہے وجود نجاست میں شك ہو تو اصل طہارت باقی رہتی ہے الخ
اور حدیقہ میں ہے حرمت ، علم (یقین) کے ساتھ ہے شك اور گمان کے ساتھ نہیں کیونکہ اشیاء کی اصل حلّت ہے الخ علّامہ سید حموی کی غمزالعیون میں ایك قاعدے “ یقین ، شك سے زائل نہیں ہوتا “ کے تحت ہے کہا گیا ہے کہ یہ قاعدہ فقہ کے تمام ابواب میں داخل ہے اور اس کے تحت نکالے جانے والے مسائل ، فقہ کی تین چوتھائی بلکہ اس سے زیادہ تك پہنچتے ہیں۔ (ت)
احتیاط اس میں نہیں کہ بے تحقیق بالغ وثبوت کامل کسی شے کو حرام ومکروہ کہہ کر شریعتِ مطہرہ پر افترا کیجئے بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے کہ وہی اصل متیقن اور بے حاجت مُبین سیدی عبدالغنی بن سیدی اسمٰعیل قدس سرہما الجلیل فرماتے ہیں :
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالٰی باثبات
احتیاط اس بات میں نہیں کہ حرمت یا کراہت جن کے لئے
الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل وقد توقف النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مع انہ ھوالمشرع فی تحریم الخمر امّ الخبائث حتی نزل علیہ النص القطعی [1] وآثرہ ابن عابدین فی الاشربۃ مقررا۔
دلیل کی ضرورت ہے ، کو ثابت کرنے کے ذریعے اللہتعالٰی پر افترا باندھا جائے بلکہ اباحت کے قول میں احتیاط ہے کیونکہ اباحت اصل ہے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے شارع ہونے کے باوجود ، تمام خباثتوں کی جڑ شراب کو حرام قرار دینے میں اس وقت تك توقف کیا جب تك آپ پر نص قطعی نازل نہیں ہوئی اھ ابن عابدین نے مشروبات کے باب میں اسے ثابت رکھتے ہوئے ترجیح دی ہے۔ (ت)
بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکامِ شرع کی مناط ومدار نہیں ہوسکتی بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہوجاتی ہیں جن کی کچھ اصل نہیں یا ہے تو بہزار۱۰۰۰ تفاوتِ اکثر دیکھا ہے ایك خبر نے شہر میں شہرت پائی اور قائلوں سے تحقیق کیا تو یہی جواب ملاکر سُنا ہے نہ کوئی اپنا دیکھا بیان کرے نہ اُس کی سند کا پتا چلے کہ اصل قائل کون تھا ج س سے سُن کر شدہ شدہ اس اشتہار کی نوبت آئی یا ثابت ہُوا تو یہ کہ فلاں کا فرمایا فاسق منتہائے اسناد تھا پھر معلوم ومشاہد کہ جس قدر سلسلہ بڑھتا جاتا ہے خبر میں نئے نئے شگُوفے نکلتے آتے ہیں زید سے ایك واقعہ سُنیے کہ مجھ سے عمرو نے کہا تھا عمرو سے پُوچھیے تو وہ کچھ اور بیان کرے گا۔ بکر سے دریافت ہوا تو اور تفاوت نکلا۔ علی ھذا القیاس۔ الخ
وماھذا الالما اخبر الصادق المصدوق صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من فشوِ الکذب بعد قرون الخیر لاسیما ھذا الزمان الابعد الاخر وقد قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لایأتی علیکم زمان الّا الذی بعدہ شرمنہ حتی تلقوا ربکم[2] اخرجہ احمد ومحمد بن اسمعیل والترمذی والنسائی
اور یہ بات حضور علیہ السلام کی اس خبر کی بنیاد پر ہے جو آپ نے بھلائی کے زمانوں کے بعد جھوٹ کے عام ہونے سے متعلق دی ہے بالخصوص اس نہایت ہی بعید اور پچھلے زمانہ میں نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا “ تم پر جو آئندہ زمانہ آئے گا بد سے بدتر ہوگا یہاں تك کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو “ ۔ اسے امام احمد ،
عن انس رضی الله تعالٰی عنہ۔ واخرج الطبرانی بسند صحیح عن ابن مسعود عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم : امس خیر من الیوم خیر من غدوکذلك حتی تقوم الساعۃ[3]۔
محمد بن اسمٰعیل (بخاری) ، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداللہابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے انہوں نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : “ کل گُزرا ہوا آج سے بہتر تھا اور آج کا دن آنے والے کل سے بہتر ہے ، تاقیامت اسی طرح ہوگا “ ۔ (ت)
حدیث موقوف میں ہے شیطان آدمی کی شکل بن کر لوگوں میں جھُوٹی بات مشہور کردیتا ہے سُننے والا اوروں سے بیان کرتا اور کہتا ہے مجھ سے ایك شخص نے ذکر کیا جس کی صورت پہچانتا ہوں نام نہیں جانتا۔
مسلم فی مقدمۃ الصحیح عن عامر بن عبدۃ قال قال عبدالله ان الشيٰطین لیتمثَّل فی صورۃ الرجل فیأتی القوم فیحدثھم بالحدیث من الکذب فیتفرقون فیقول الرجل منھم سمعت رجلا اعرف وجھہ ولاادری مااسمہ یحدث[4]۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں جناب عامر بن عبدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ حضرت عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : شیطان آدمی کی شکل میں ایك قوم کے پاس آتا ہے اور ان سے جھُوٹی بات بیان کرتا ہے پھر وہ منتشر ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ایك آدمی کہتا ہے میں نے ایك آدمی کو بیان کرتے ہوئے سُنا میں اس کو چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں افواہی خبر اگرچہ تمام شہر بیان کرے سننے کے قابل نہیں نہ کہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے۔
الفاضل المصطفی الرحمتی فی صوم حاشیۃ الدر المختار لامجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعَھا کماورد عـــہ ان فی اٰخر الزمان یجلس الشیطٰن بین الجماعۃ فیتکلم
دُرمختار کے حاشیہ (ردالمحتار) میں (استفاضہ کے معنی کے بارے میں) فاضل مصطفی رحمتی کا قول منقول ہے کہ محض خبر پھیلنا کہ شائع کرنے والے کا علم نہ ہو (استفاضہ نہیں ہے) جیسے بعض بے بیناد خبریں لوگوں کی زبان پر عام ہوجاتی ہیں لیکن شائع کرنے والے کا علم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث شریف
عـــہ : قدمنا تخریجہ آنفا منہ (م)
(ہماری طرف سے ابھی اس کی تخریج گزرچکی ہے۔ (ت)
بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذا لاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم[5] اھ ملخصا۔
[1] ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۶
[2] بخاری شریف باب لایأتی زمانٌ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۴۷
[3] مجمع الزوائد باب فیما مضی من الزمان الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۷ / ۲۸۶
[4] مقدمۃ الصحیح لمسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
[5] ردالمحتار کتاب الصوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع