30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمختار شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا وعصبھا وحافرھا وقرنھا الخالیۃ عن الدسومۃ [1] (قید للجمیع کما فی القھستانی فخرج الشعر المنتوف ومابعدہ اذا کان فیہ دسومۃ[2] ) ودم سمك طاھر [3] انتھت ملخصۃ۔
تنویر الابصار ، درمختار اور ردالمحتار میں ہے “ خنزیر کے علاوہ ہر مردار کے بال ، ہڈّی ، پٹھّے ، کُھر اور سینگ جو چربی سے خالی ہوں (یہ قید سب کے ساتھ ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے۔ پس اکھاڑے ہُوئے بال اور جو کچھ اس کے بعد ہے اگر اس میں چربی ہو تو وہ اس حکم سے خارج ہیں) اور مچھلی کا خُون پاك ہے ، انتہت تلخیص (ت)
مگر حلال وجائز الاکل صرف جانور ماکول اللحم مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی عـــہ مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائیہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارتِ مستلزم وحلت نہیں جیسے سنکھےیا بقدر مضرت اور انسان کا دودھ بعد عمر رضاعت اور مچھلی کے سوا جانورانِ دریائی کا گوشت وغیرذلك کہ سب پاك ہیں اور باوجود پاکی حرام۔
عـــہ : یعنی بشرطیکہ محتاج ذکاۃ ہونہ سمك وجراد کہ ان کا استشنا معلوم ومعروف ۱۲ منہ (م)
فی الحاشیۃ الشامیۃ اذاکان جلد حیوان میت ماکول اللحم لایجوز اکلہ وھو الصحیح لقولہ تعالٰی حرمت علیکم المیتۃ وھذا جزء منھا وقال عـــہ۱ ١ علیہ الصلاۃ والسلام انما یحرم من المیتۃ اکلہا امااذاکان جلد مالایوکل فانہ لایجوز اکلہ اجماعا بحرعن السراج[4] اھ ملخصا۔ وفی الغنیۃ شرح المنیۃ عن القنیۃ حیوان البحرطاھر وان لم یؤکل حتی خنزالبحر ولوکان میتتۃ [5] اھ۔
وفیھا تحت قولہ والمسك طاھر حلال زاد قولہ حلال لانہ لایلزم من الطھارۃ الحل کما فی التراب منح [6]اھ۔
حاشیہ شامیہ میں ہے جب ایسے مردار حیوان کا چمڑا ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللہتعالٰی کا ارشاد ہے تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور یہ اس کا جز ہے۔ اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ مردار سے صرف اس کا کھانا حرام ہوتا ہے “ ۔ اور اگر ایسے جانور کا چمڑا ہو جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو بالاجماع اس کا کھانا جائز نہیں۔ البحرالرائق نے سراج سے نقل کیا (انتہی) تلخیص۔ اور اسی میں ہے “ مشك (کستوری) پاك حلال ہے “ کے تحت ہے حلال کا لفظ زیادہ کیا کیونکہ طہارت سے حلال ہونا لازم نہیں آتا ہے جیسا کہ مٹّی میں ہے (منح) اھ۔ اور غنیہ شرح منیہ میں قنیہ سے نقل کیا ہے کہ دریائی جانور پاك ہیں اگرچہ انہیں کھایا نہ جاتا ہو۔ یہاں تك کہ دریائی خنزیر بھی ، اگرچہ مردار ہو۔ اھ (ت)
شریعتِ مطہرہ میں طہارت وحلّت عــــہ۲ اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوك وظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ
عــــہ۱ : اقول : اخرجہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی والترمذی بالفاظ متقاربۃ کلھم عن ابن عباس وابن ماجۃ عن ام المومنین میمونۃ رضی الله تعالٰی عنھم ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : یعنی سوا بعض اشیاء کے جن میں حرمت اصل ہے جیسے دماء وفروج ومضار ۱۲ منہ (ت)
اقول : اس کو احمد ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی سب نے متقارب الفاظ سے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے ام المومنین میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع ، یہاں تك کہ کہتے ہیں تین چوتھائی فقہ سے زائد اس پر مبتنی اور فی الواقع جس نے اس قاعدہ کو سمجھ لیا وہ صدہا وساوس ہائلہ وفتنہ پردازی اوہام باطلہ ودست اندازی ظنون عاطلہ سے امان میں رہا۔ حدیث صحیح میں حضور اقدس سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث[7] رواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اسے ائمہ حدیث امام مالک ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوھریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور یہ نفیس ضابطہ نہ صرف اسی قسم کے مسائل میں بلکہ ہزارہا جگہ کام دیتا ہے جب کسی کو کسی شے پر منع وانکار کرتے اور اُسے حرام یا مکروہ یا ناجائز کہتے سنو جان لو کہ بار ثبوت اُس کے ذمّہ ہے جب تك دلیل واضح شرعی سے ثابت نہ کرے اُس کا دعوٰی اُسی پر مردود اور جائز ومباح کہنے والا بالکل سبکدوش کہ اس کے لئے تمسك باصل موجود ، علماء فرماتے ہیں یہ قاعدہ نصوص علیہ احادیث نبویہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ والتحیۃ وتصریحات جلیہ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم عامہ علما وائمہ سے ثابت یہاں تك کہ کسی عالم کو اس میں خلاف نظر نہیں آتا۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا الحدیقۃ الندیۃ للعلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی الاصل فی الاشیاء الطھارۃ لقولہ سبحٰنہ وتعالٰی ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا والیقین لایزول الشك والظن بل یزول بیقین مثلہ وھذا اصل مقرر فی الشرع منصوص علیہ فی الاحادیث مصرح بہ فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شك اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام
علّامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی کی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے اشیا کی اصل طہارت ہے ، کیونکہ اللہتعالٰی کا ارشاد ہے : “ اللہنے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا فرمایا ، اور یقین ، شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا بلکہ اپنے جیسے یقین کے ساتھ یقین زائل ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ شریعت میں مقرر ہے احادیث میں اس کی تصریح ہے اور حنفی ، شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی ، کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں
وغیرذلك ممالیس بنجس العین فذلك الشےیئ طاھر فی حق الوضوء وحل الاکل وسائر التصرفات وکذا اذاغلب الظن علی نجاستہ الخ اھ ملتقطا [8]۔ وفی الاشباہ والنظائر شك فی وجود النجس فالاصل بقاء الطھارۃ [9] الخ وفی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لامع الشك والظن لان الاصل فی الاشیاء الحل [10] الخ وفی غمزالعیون للعلامۃ السید الحموی تحت قاعدۃ الیقین لا یزول بالشك قیل ھذہ القاعدۃ تدخل فی جمیع ابواب الفقہ والمسائل المخرجۃ علیھا تبلغ ثلثۃ ارباع الفقہ [11] واکثر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع