دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

فی المنیۃ والحلیۃ م وکذا باللحس اذا اصاب الخمر یدہ فلحسہ بریقہ ثلاث مراۃ یطھر کما یطھر فمہ بریقہ[1] ش فی الفتاوی الخانیۃ اذا قاء ملأ الفم ینبغی ان یغسل فاہ فان توضأ ولم یغسل فاہ حتی صلی جازت صلاتہ لانہ یطھر بالبزاق فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله  تعالٰی عنہما وکذا اذا شرب الخمر ثم صلی بعد زمان وکذا اذااصاب بعض اعضائہ نجاسۃ فطھرھا بلسانہ حتی ذھب اثرھا وکذا السکین اذا تنجس فلحسہ بلسانہ اومسحہ بریقہ وکذا الصبی اذا قاء علی ثدی الامام ثم مص الثدی مرارا یطھر انتھی وکذا فی غیرھا والذی تقتضیہ القواعد المذھبیۃ من تحریر الکلام فی ھذا المقام انہ اذا اصاب بعض اعضائہ نجاسۃ حقیقیۃ فان کانت مرئیۃ ولحسھا ھو اوغیرہ حتی ذھب عینھا واثرھا ان کان لایشق زوالہ یطھر وان کانت غیر مرئیۃ فتطھر باللحس ثلاث مرات کماذکرہ المصنف فی ھذہ المسألۃ اوحتی یغلب علی الظن زوالھا وسیصرح المصنف ان الفتوی علیہ [2]۔                                 

منیہ اور حلیہ میں ہے ماتن نے فرمایا “ اور اسی طرح چاٹنے کے ساتھ (پاك ہوجاتا ہے) جب کسی آدمی کے ہاتھ کو شراب لگ گئی پس اس نے اپنے لعاب کے ساتھ تین بار چاٹا تو پاك ہوجائیگا جیسے اس کا منہ تھوك کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے اس پر شارح نے فرمایا فتاوٰی خانیہ میں ہے جب کسی نے منہ بھر کر قے کی تو چاہے کہ اپنا مُنہ دھولے اگر اس نے وضو کیا لیکن کُلی نہیں کی یہاں تك کہ نماز پڑھ لی تو اس کی نماز جائز ہوجائیگی کیونکہ وہ امام اعظم اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے نزدیك تھوك سے پاك ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب شراب پی پھر کچھ دیر بعد نماز پڑھی یوں ہی جب اس کے بعض اعضا پر نجاست لگی اور اس نے اس کو اپنی زبان سے پاك کردیا یہاں تك کہ اس کا اثر چلاگیا اسی طرح جب چھُری ناپاك ہوگئی پھر اس نے اسے زبان سے چاٹا یا تھوك سے صاف کیا یوں ہی جب بچّے نے ماں کے پستان پر قے کی پھر کئی بار پستان کو چُوسا تو وہ پاك ہوجائے گا انتہی۔ دوسری کتب میں بھی اسی طرح ہے۔ قواعدِ مذہبیہ اس مقام پر جس کلام کے تحریر کے متقاضی ہیں وہ یہ ہیں کہ جب کسی عضو پر نجاستِ حقیقی لگ جائے تو اگر وہ دکھائی دینے والی ہے اور اس نے یا کسی دوسرے نے اس کو چاٹ لیا یہاں تك کہ اصل نجاست اور اس کا اثر زائل ہوگیا۔ اگر اس کو دُور کرنے میں مشقّت نہ ہو تو پاك ہوجائے گا ، اور اگر وہ نجاست دکھائی نہیں دیتی تو تین بار چاٹنے سے پاك ہوجاتی ہے جیسا کہ مصنّف نے اس مسئلہ میں ذکر کیا ہے یا کہ اس وقت جبکہ اس کے زوال کا غالب گمان ہوجائے۔ عنقریب مصنّف اس کی تصریح کریں گے کہ فتوٰی اسی پر ہے۔ (ت)

۶ پچھنے لگائے اور موضع خون کو بھیگے ہوئے پاکیزہ کپڑے کے تین ٹکڑوں سے پونچھ دیا پاك ہوگیا یہ صورت مسئولہ کا خاص جزئیہ ہے کہ محیط رضوی وفتاوٰی ذخیرہ وتتمۃ الفتاوٰی ظہیریہ وحلیہ وغیرہا میں اُس کی تصریح ہے۔

فی الحلیۃ بعدما تقدم اٰنفا اعلم بانھم صرحوا کما فی الخلاصۃ وکما یشیر الیہ مانقلنا اٰنفا من الخانیۃ بان الحکم بالطھارۃ فی ھذہ الفروع تفریع علی ان الطھارۃ للبدن من النجاسۃ الحقیقیۃ یکون بغیر الماء من المائعات الطاھرات وقدعرفت انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف علی اختلاف عن ابی یوسف فی ذلك غیران فی محیط الشیخ رضی الدین ولومسح موضع المحجمۃ بثلاث خرقات رطبات لطائف اجزأہ من الغسل لانہ عمل عمل الغسل وقال ابویوسف لایجزئہ حتی یغسلہ انتھی وعن الاول فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری الی ان الحاکم قال انہ روی عن ابی حفص عن محمد بن الحسن رحمہ الله  تعالٰی ومشی علی الثانی قاضی خان بعد ان حکاہ عن الفقیہ ابی جعفر حیث قال اذاکان علی بدنہ نجاسۃ فمسحھا بخرقۃ مبلولۃ ثلاث مرات حکی عن الفقیہ ابی جعفر انہ قال یطہر اذاکان الماء متقاطرا علی بدنہ ثم قال بعد ذلك ولومسح موضع الجمامۃ بثلاثۃ خرق مبلولۃ قدمر قبل ھذا      

حلیہ میں اس کے بعد جو ابھی گزرا ہے “ جان لو کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور جیسا کہ اس کی طرف وہ بات اشارہ کرتی ہے جسے ہم نے ابھی خانیہ سے نقل کیا ہے کہ ان فروع میں طہارت کا حکم ، اس بات پر تفریع ہے کہ نجاست حقیقیہ سے بدن کی طہارت پانی کے علاوہ دیگر پاك بہنے والی چیزوں سے ہوجاتی ہے اور تم معلوم کرچکے ہوکہ یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول ہے لیکن امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا کچھ اختلاف بھی ہے۔ شیخ رضی الدین کی محیط میں ہے اگر حجامت کی جگہ کو کپڑے کے تین باریك تر ٹکڑوں سے صاف کیا تو دھونے کے قائم مقام ہے کیونکہ اس نے غسل کا عمل کیا امام ابویوسف فرماتے ہیں دھونے کے بغیر کفایت نہ ہوگی (انتہی) اور پہلے کے بارے میں ذخیرہ اور فتاوٰی صغرٰی کے تتمہ میں ہے ، یہاں تك کہ حاکم نے کہا یہ ابوحفص سے اور وہ محمد بن حسن سے روایت کرتے ہیں اور دوسرے کو قاضی خان نے فقیہ ابوجعفر سے حکایت کرنے کے بعد اختیار کیا جب کہا “ اگر اس کے بدن پر نجاست ہو پس وہ اسے کپڑے کے تر ٹکڑے کے ساتھ تین بار صاف کرے تو فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ پاك ہوجائیگا بشرطیکہ اس کے بدن پر پانی کے قطرے گریں اس کے بعد فرمایا اگر تین تر ٹکڑوں کو حجامت کی جگہ پھیرا تو پہلے گزرچکا کہ یہ

انہ یجوز اذاکان متقاطرا والولوالجی حیث قال ولواصاب بعض اعضائہ نجاسۃ قبل یدہ ثلثا ومسحھا علی ذلك الموضع ان کانت البلۃ من یدہ متقاطرۃ جاز والا فلا لانہ یکون غسلا انتھی فقیاس ھذا انہ لایجوز عند ابی یوسف ازالۃ النجاسۃ المذکورۃ فی الفروع الماضیۃ بالبزاق حتی یکون متقاطرا بحیث تسمی الازالۃ غسلا والله  تعالٰی سبحٰنہ اعلم [3] اھ ماافاد واجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد وفی ردالمحتار بقی ممایطھر بالمسح موضع الحجامۃ ففی الظھیریۃ اذامسحھا بثلاث خرق رطبات لطاف اجزأہ عن الغسل واقرہ فی الفتح وقاس علیہ ماحول محل الفصد اذاتلطخ ویخاف من الاسالۃ السریان الی الثقب قال فی البحر وھو یقتضی تقیےد مسئلۃ المحاجم بمااذا خاف من الاسالۃ ضررا والمنقول مطلق اھ اقول وقدنقل فی القنیۃ عن نجم الائمۃ الاکتفاء فیھا بالمسح مرۃ واحدۃ اذازال بھا الدم لکن فی اخانیۃ لومسح موضع الحجامۃ بثلاث خرق مبلولۃ یجوز ان کان الماء متقاطرا اھ والظاھر ان ھذا مبنی علی قول ابی یوسف فی المسئلۃ بلزوم الغسل کمانقلہ عنہ فی                                                                                                                      

جائز ہے جبکہ قطرے گریں اور ولوالجی سے نقل کیا انہوں نے فرمایا اگر کسی عضو پر نجاست لگ جائے پھر وہ اپنے ہاتھ کو تین بار تر کرکے اس جگہ پر ملے تو اگر اس کے ہاتھ کی رطوبت متقاطر ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں کیونکہ یہ دھونا ہوجائے گا (انتہی) اس کا قیاس یہ ہے کہ گزشتہ فروع میں جس نجاست کا ذکر کیا گیا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیك اس کو لعاب سے دور کرنا اس وقت جائز ہے جب لعاب قطروں کی طرح گرے کیونکہ اس ازالے کو دھونا قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے (انتہی)ان پر سخی بادشاہ کی رحمت ہو۔ انہوں نے کیا ہی اچھا فائدہ پہنچایا۔ ردالمحتار میں ہے کہ جو چیزیں پونچھنے سے صاف ہوجاتی ہیں ان میں سے حجامت کی جگہ باقی رہ گئی۔ ظہیریہ میں ہے جب تین تر اور نرم ٹکڑوں سے پُونچھا تو دھونے کے قائم مقام ہوگا۔ فتح القدیر میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے پچھنہ کی جگہ کے ارد گرد کو بھی اس پر قیاس کیا ہے جب وہ وہ آلودہ ہوجائے اور پانی بہانے سے سوراخ میں جانے کا ڈر ہو۔ بحر میں فرمایا اس کا تقاضا یہ ہے کہ حجامت کی جگہوں کے مسئلے کو اس بات سے مقید کیا جائے کہ جب پانی بہانے سے ضرر کا خوف ہے ، اور جو کچھ منقول ہے وہ مطلق ہے (انتہٰی) قنیہ میں نجم الائمہ سے منقول ہے کہ ایك مرتبہ پونچھنے پر اکتفا اس وقت ہوگا جب اس سے خون نکلنا بند ہوجائے۔ لیکن خانیہ میں ہے کہ حجامت کی جگہ کو تین تر ٹکڑوں کے ساتھ پونچھا تو جائز ہے

الحلیۃ عن المحیط [4] الخ۔

شرطیکہ پانی کے قطرے گریں (انتہٰی) اور ظاہر یہ ہے کہ یہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے اس قول پر مبنی ہے کہ دھونا ضروری ہے جیسا کہ آپ سے حلیہ میں محیط کے حوالے سے نقل کیا۔ (ت)

ان عبارات سے واضح ہوا کہ تطہیر نجاست حقیقیہ میں شیخین مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیك پانی شرط نہیں مگر امام محمد مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی مائے مطلق ضرور جانتے ہیں ولہذا لعابِ دہن کے پانچوں مسائل گزشتہ میں خلاف فرماتے ہیں اور طرفین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیك تطہیر بدن میں تقاطر بھی شرط نہیں صرف زوالِ نجاست درکار ہے جس طرح ہو۔

وعلیہ تبتنی المسائل المذکورۃ وعلیہ مشی الذخیرۃ والتتمۃ والظھیریۃ والمحیط الرضوی وغیرھا۔

اور مسائل مذکورہ اسی پر مبنی ہیں اور ذخیرۃ ، تتمہ ، ظہیریۃ اور محیط رضوی وغیرہ میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)

مگر امام ابویوسف مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی اسالہ لازم مانتے ہیں۔

وھو الذی مشی علیہ فی الخانیۃ والولوالجیۃ واختارہ الفقیہ ابوجعفر والیہ یمیل کلام الفتح ویرد علیہ وفاقہ الامام فی مسائل البزاق الا ان یحمل علی کون البزاق کثیرا یسمی مرورہ سیلانا کما تقدم عن الحلیۃ۔

اقول :  وقد لا یساعدہ التعبیر باللحس والاطلاقات او یقال ان امرار الریق باللسان بمنزلۃ الصب کما ابداہ عذرا عنہ فی الغنیۃ۔

اقول :  وفیہ نظرظاھر فالظاھر ان وفاقہ ھھنا لاجل الضرورۃ کمامشی علیہ فی الغنیۃ اولًا والله  تعالٰی اعلم۔

 



[1]   منیۃ المصلی فصل فی الاسآر مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۴۷

[2]   حلیہ

[3]     حلیہ

[4]      ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن