دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

پہلی چار (کتب) میں الفاظ تقریبًا ایك جیسے ہیں اور معنے بھی ، اور وجیز (بزازیہ) کے الفاظ یوں ہی کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس ایسا زندہ حیوان تھا جس کے جھُوٹے سے وضو جائز ہے مثلًا چُوہا ، تو نماز جائز ہوگی لیکن گناہ گار ہوگا اور اگر اس کا جھوٹا ناپاك ہو جیسے کتے کا بچہ ، تو نماز ناجائز نہیں ہوگی۔ اور نصاب میں ہے اگر کتّے کے بچّے کا منہ بندھا ہوا ہو تو جائز ہوگی انتہی۔

حلیہ میں بحوالہ ذخیرہ ، منتقٰی سے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول نقل کیا کہ کسی شخص نے نماز پڑھی اور اس کے پاس سانپ یا بلّی یا چوہا تھا تو نماز جائز ہے۔ لیکن اس نے گناہ کیا۔ اور اگر لومڑی یا کتّے کا بچّہ ہو تو نماز جائز نہ ہوگی اور اس قسم کے مسائل کے بارے میں قاعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا : “ جب اس کے جھُوٹے سے وضو جائز ہو تو اس کے ساتھ نماز بھی جائز ہوگی اور جس کے جھُوٹے سے وضو جائز نہ ہو اس کے ساتھ نماز جائز نہ ہوگی انتہی۔ اسے نقل کرنے کے بعد حلیہ میں فرمایا لیکن یہ غور وفکر سے خالی نہیں اور ہم عنقریب اس کی وضاحت کرینگے الخ ، جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے یہ وہی ہے جو ہم

بخلاف جروالکلب[1] اھ۔

 وفی الغنیۃ لایقال النجاسۃ التی فی محلھا غیر معتبرۃ ولایعطی لھا حکم النجاسۃ لانا نقول سلمنا ولکن اللعاب قد انتقل عن محلہ الذی تولہ فیہ واتصل بالفم الذی لہ حکم الظاھر بالنظر الی ما یخرج من الباطل فاعتبر نجاسۃ وقد تنجس بھالسانہ وسائر فمہ فکان مانعا اھ[2] ملخصا۔                                              

نے اس سے پہلے ان سے نقل کی ہے یعنی منہ باندھنے اور کھُلا چھوڑنے کی تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جو اس شان کا ہو اور مطلق جواز اس کے غیر میں ہے انہوں نے تحقیق کے بعد فرمایا اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قاعدے میں نظر ہے پس اس سے آگاہی حاصل کرو (انتہٰی)منیہ میں ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلّی یا سانپ ہو تو جائز ہوگی بخلاف کتّے کے بچّے کے انتہی۔ غنیہ میں ہے یہ نہ کہا جائے کہ جو نجاست اپنے محل میں ہے غیر معتبر ہے اور اس کو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا کیونکہ ہم کہتے ہیں ہم نے مان لیا لیکن لعاب اپنے اس مقام سے جہاں وہ پیدا ہوا منتقل ہو کر منہ سے مل جاتا ہے جسے باطن سے باہر آنے والی چیز کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہر کا حکم دیا جاتا ہے لہذا اس کی نجاست کا اعتبار ہوگا اور اس سے اس کی زبان اور تمام منہ ناپاك ہوگیا پس وہ مانع ہوگا انتہٰی تلخیص۔ (ت)

اس مسلك پر یہ فرع صرف طہارت عین پر مبنی نہیں بلکہ اس کے ساتھ صحت صلاۃ کے لئے طہارت لعاب بھی درکار اور وہ کلب وغیرہ سباع بہائم میں مفقود ، لہذا صحتِ نماز بھی مفقود اگرچہ طاہر العین ہی ہو ایسی جگہ المبنی علی صحیح صحیح نہیں یہ تو اختلافِ علماء تھا ترجیح دیکھیے تو وہ مسلك اول ہی کی طرف ہے محیط رضوی وبحرالرائق ودُرمختار وغیرہا میں صراحۃً اس کی تصحیح بلفظ اصح اور حلیہ میں بلفظ اشبہ مذکور۔

کمامروقدصرح العلامۃ الفقیہ خیر الدین الرملی فی فتاواہ الخیریۃ لنفع البریۃ من کتاب الطلاق بما نصہ وانت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ[3]  اھ  وفیھا من کتاب الصلح حیث

جیسا کہ گزرا علامہ فقیہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوٰی الخیریہ لنفع البریہ کی کتاب الطلاق میں اسے صراحۃً بیان کیا اور تم جانتے ہو کہ اس کے اصح ہونے پر تنصیص کے بعد غیر کی طرف عدول نہیں کیا جاتا انتہی اور اس کی کتاب الصلح میں ہے کہ جب اصح ثابت

ثبت الاصح لایعدل عنہ[4]۔

ہوجائے تو اس سے عدول نہیں کیا جاتا۔ (ت)

معہذا اکثر وہ کتابیں جن میں مسلك اول اختیار فرمایا شروح ہیں اور مسلك دوم پر اکثر مشی کرنے والے فتاوی اور شروح فتاوے پر مرجح ہیں۔ کمانصوا علیہ فی مواضع لاتحصی کثرۃ (جیسا کہ انہوں نے بیشمار مقامات پر اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) تو ثابت ہوا کہ مذہب ارجح پر اس فرع کو بھی مثل فروع سابقہ صرف طہارت عین ہی پر ابتنا ہے او ر ایسی جگہ بلاشبہہ المبنی علی صحیح صحیح صحیح (جو چیز صحیح پر مبنی ہوتی ہے وہ صحیح ہوتی ہے۔ ت)

اما تدقیق الغنیۃ فاقول :  وبالله  التوفیق سلمنا ان الریق لایتولد فی الفم لکن لاشك ان معدنہ ھو الفم حتی انہ لایسمی ریقا مالم یطلع فی الفم وبہ فارق الدم ولایجب لکون شےیئ معدن شےیئ تولدہ فیہ الا تری ان العروق معادن الدم لاشك مع انہ لایتولد فیھا بل فی الکبد ثم یسری الیھا ویجری فیھا وقدرأیناکم فی مسئلۃ ان السخلۃ اذا وقعت من امھا رطبۃ فی الماء لا تفسدہ عللتموھا بقولکم وھذا لان الرطوبۃ التی علیھا لیست بنجسۃ لکونھا فی محلھا [5] اھ امافاذاکانت رطوبۃ رحم امھا علی جلدھا فی محلھا فماظنکم بالریق فی الفم بل التحقیق عندی ان نفی الکون فی المحل عن ھذا واثباتہ لرطوبۃ السخلۃ کلاھما سھواما      

میں غنیہ کی تدقیق کے بارے میں ، اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ، ہم نے مان لیا کہ لعاب منہ میں پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس میں شك نہیں کہ اس کا معدن منہ ہی حتی کہ جب تك وہ منہ میں ظاہر نہ ہو اس کو لعاب نہیں کہا جاتا اور اس سے خون (کا حکم) الگ ہوگیا ، اور کسی چیز کے کسی کیلئے معدن ہونے سے لازم نہیں آتا کہ وہ اس میں پیدا بھی ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ خون کا معدن رگیں ہیں اس میں کوئی شك نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ جگر میں پیدا ہوتا ہے پھر ان کی طرف چلتا اور رگوں میں جاری ہوتا ہے۔ ہم نے تمہیں دکھایا کہ بکری کا تَربچّہ جو اپنی ماں سے پیدا ہوکر پانی میں گرا پانی خراب نہیں ہوا تم نے اس کی علّت یوں بیان کی کہ اس پر جو رطوبت ہے وہ ناپاك نہیں کیونکہ وہ اپنے محل میں ہے اھ۔ پس جب بچّے کی جلد پر اس کی ماں کے رحم کی رطوبت اپنے محل میں ہے تو منہ میں پائے جانےوالے

الاول فلما سمعت واما الاٰخر فلان المحل الذی لایحکم فیہ بنجاسۃ النجاسۃ انماھو معدنھا لا ما اصابتہ ومعدن تلك الرطوبات ھی الرحم دون جلد السخلۃ کمالایخفی والفرع ماش علی قول الامام بطھارۃ رطوبۃ الرحم فقدحققنا فیما علقنا علی ردالمحتار ان الفرج فی قولھم رطوبۃ الفرج طاھرۃ عندہ لاعندھما بالمعنی الشامل للفرج الخارج والفرج الداخل والرحم جمیعا وما یری من التعارض فی الفروع فللتفریع علی القولین۔

لعاب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ بلکہ میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ اس کا اپنے محل میں نہ ہونا اور بکری کے بچّے کی رطوبت کا اپنے محل میں ثابت ہونا دونوں باتیں سہو ہیں۔ پہلی بات اس بنیاد پر جو تم نے سُن لیا۔ اور دوسری بات اس لئے کہ وہ محل اس کا معدن ہے جس میں (پائی جانے والی) نجاست پر نجاست کا حکم نہیں لگے گا ، نہ وہ جو اس کو پہنچے۔ اور ان رطوبات کا معدن رحم ہے ، نہ بچّے کی جلد۔ جیسا کہ مخفی نہیں اور فرع ، امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول کہ رحم کی رطوبت پاك ہے ، پر جاری ہوتی ہے ہم نے ردالمحتار کی تعلیق میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے کہ فرج انکے قول “ فرج کی رطوبت ، امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك پاك ہے صاحبین کے نزدیك نہیں “ میں عام معنی کے اعتبار سے فرج خارج ، فرج داخل اور رحم سب کو شامل ہے۔ اوروہ جو فروع میں تعارض دکھائی دیتا ہے تو یہ دو قولوں پر تفریع کی بنیاد پر ہے۔ (ت)

پس ثابت ہوا کہ ان دونوں مسئلہ اصل وفرع میں کلام زید عین اصابت سے ناشی اور قول صحیح ورجیح وصح وارجح پر ماشی ہے ھکذا ینبغی التحقیق والله  تعالٰی ولی التوفیق (تحقیق اسی طرح چاہے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے۔ ت)

تنبیہ نبیہ : ہر عاقل ذی علم جانتا ہے کہ جواز بمعنی صحت وبمعنی اباحت خصوصًا اباحت بالمعنی الاخص الغیر الشامل لکراہۃ التنزیہ اعنی تساوی الطرفین (خصوصًا اباحت اخص معنٰی کے اعتبار سے جو کراہۃ تنزیہی کو شامل نہیں یعنی دونوں طرفوں کے برابر ہونے میں۔ ت) میں زمین آسمان کا فرق ہے اول ہرگز مستلزم ثانی نہیں بہت افعال کہ مکروہِ تنزیہی بلکہ تحریمی بلکہ حرام ہیں منافی صحت نماز نہیں ہوتے تو نماز اُن افعال کے ساتھ جائز ہوگی یعنی صحیح ومسقط فرض مکروہ فعل جائز ومباح بالمعنے المذکور نہ ہوگا بلکہ حرام یا گناہ یا ناپسند علمائے کرام اہل مسلك اول کہ حمل کلب وغیرہ سباع سوائے خنزیر کے ساتھ نماز جائز بتاتے ہیں جواز بمعنی صحت میں کلام فرمارہے ہیں یعنی ان جانوروں کا پاس ہونا نہ طہارت وغیرہ کسی شرط نماز کا ناکافی نہ کسی رُکن وفرض نماز کا منافی تو نماز فاسد نہ ہوگی فرض اُترجائے گا معاذاللہ یہ نہیں فرماتے کہ بے ضرورت شرعیہ ایسا فعل مکروہ وناپسند نہیں حاشا کلب تو کلب

 



[1]   منیۃ المصلی ، فصل الاسآر مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ لاہور ص۱۵۸

[2]   غنیۃ المستملی فصل الاسآر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۹۱

[3]   فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹

[4]   فتاوی خیریۃ کتاب الصلح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۴

[5]   غنیۃ المستملی فصل فی الانجاس مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن