دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

دُور ہوگیا۔ اور اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ت) بہرحال ان سب ائمہ وعلماء نے نجاستِ لعاب کا اعتبار نہ فرمایا جب تك منہ سے باہر سیلان نہ کرے اس مسلك پر بلاشبہہ یہ فرع بھی صرف اسی طہارت میں کلب پر مبتنی اور جب وہ مفتی بہ تو یہ بھی اس طریقہ پر یقینا مفتی بہ۔

فی البحر عن البدائع انہ (ای طھارۃ عین الکلب) اقرب القولین الی الصواب ولذالك قال مشایخنا فیمن صلی وفی کمہ جرو انہ تجوز صلاتہ وقید الفقیہ ابوجعفر الھندوانی الجواز بکونہ مشدود الفم [1] اھ۔ وفی البحر ایضا اذاصلی وھوحامل جروا صغیرا لا تصح صلاتہ علی القول بنجاسۃ مطلقا وتصح علی القول بطھارتہ اما مطلقا او بکونہ مشدود الفم کما قدمناہ عن البدائع [2] اھ۔ وفی حاشیۃ المراقی انہ لیس بنجس العین وعلیہ الفتوٰی واثر الخلاف یظھر فیما لوصلی وفی کمہ جروصغیر جازت علی الاول لا الثانی وشرط الھندوانی کونہ مشدود                                                                     

بحرالرائق میں بدائع سے منقول ہے کہ یہ (کتے کا طاہر عین ہونا) دو۲ قولوں میں سے صحت کے زیادہ قریب قول ہے۔ اس لئے ہمارے مشایخ نے فرمایا کہ جس آدمی کی آستین میں کتّے کا بچّہ ہو اس کی نماز جائز ہے اور فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے نزدیك جواز کے لئے اس کے منہ کا باندھا ہونا شرط ہے اھ۔ بحرالرائق میں ہی ہے کہ جب کسی آدمی نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس نے کتے کا چھوٹا سا بچّہ اٹھارکھا تھا تو اس قول پر کہ وہ نجس ہے نماز مطلقًا صحیح نہیں ہوگی اور طہارت کے قول کی بنیاد پر یا تو مطلقًا صحیح ہوگی یا اس صورت میں کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو ، جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بدائع سے نقل کیا اھ۔ مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے کہ وہ نجس عین نہیں اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اور اختلاف کا اثر اس

الفم[3] اھ ملخصا ، وفی البزازیۃ عن النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز [4]  اھ وفی شروط الصلاۃ للدر والبحر وفتح الله  المعین واللفظ للدر ما یتحرك بحرکۃ او یعد حامل لہ کصبی علیہ نجس ان لم یستمسك بنفسہ منع والالا کجنب وکلب ان شد فمہ فی الاصح [5] اھ۔  وفی حاشیتہ للعلامۃ ط قولہ ان شد فمہ لوقال وکلب ان لم یسل منہ ما یمنع الصلاۃ لکان اولی لانہ لوعلم عدم السیلان اوسال منہ دون المانع لایبطل الصلاۃ وان لم یشد فمہ حلبی وفیہ تأمل[6]  اھ ونقل العلامۃ الشامی ما افادہ الحلبی فاقرہ وایدہ وفی الحلیۃ فی محیط رضی الدین رجل صلی ومعہ جروکلب ومالا یجوز ان یتوضأ بسؤرہ قیل لم یجز والاصح یسیل فی کمہ فیصیر مبتلا بلعابہ فیتنجس کمہ فیمنع جواز الصلاۃ ان کان اکثر من قدر الدرھم فان فمہ مشدودا بحیث لایصل لعابہ

صورت میں ظاہر ہوگا جب وہ اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کی آستین میں کتّے کا چھوٹا بچّہ ہو ، پہلے قول کے مطابق نماز جائز ہوگی دوسرے کے مطابق نہیں۔ اور ہندوانی نے منہ بندھا ہونا شرط رکھی ہے اھ تلخیص۔

بزازیہ میں نصاب سے نقل کیا ہے کہ اگر کتّے کے بچّے کا مُنہ باندھا ہوا ہو تو نماز جائز ہے اھ۔ نماز کی شرائط میں درمختار ، بحرالرائق اور فتح اللہ المعین میں ہے الفاظ درمختار کے ہیں کہ جو اس کی حرکت سے حرکت کرے یا اسے اٹھانے والا شمار ہو جیسے بچہ کہ اس پر نجاست ہو اگر وہ خودبخود نہ ٹھہر سکے تو منع کیا جائے گا ورنہ نہیں جیسے جنبی اور کتا ، اگر اس کا منہ باندھا ہو۔ یہ اصح قول کے مطابق ہے اھ۔ اور اس کے حاشیہ میں علامہ (طحطاوی) نے فرمایا “ یہ کہنے کی بجائے کہ اگر اس کا منہ باندھا ہوا ہو ، وہ فرماتے ، اور کتّے کے منہ سے اگر وہ چیز نہ نکلے جو نماز کو روکتی ہے “ تو یہ بات زیادہ بہتر ہوتی کیونکہ جاری نہ ہونا معلوم ہو یا اس سے اتنا جاری ہو جو مانع نہیں ہے تو نماز باطل نہ ہوگی اگرچہ منہ باندھا ہوا نہ ہو۔ (حلبی) اور کہا اس میں غور کرو اھ۔ علامہ شامی نے وہ بات نقل کی جس کا فائدہ حلبی سے حاصل ہُوا

الی ثوبہ جازلان ظاھر کل حیوان طاھر ولایتنجس الا بالموت ونجاسۃ باطنہ فی معدنھا فلا یظھر حکمھا کنجاسۃ باطن المصلی انتھی[7]۔  والاشبہ ان ھذا التفصیل فی کلب من شانہ غلبۃ سیلان لعابہ بحیث یبلغ مایسیل منہ قبل فراغ حاملہ ما یمنع صحۃ الصلاۃ وانشد فوہ یمنع ذلك منہ وما لیس کذلك فالاشبہ فیہ اطلاق الجواز کماھوظاھر مافی البدائع عن مشایخنا [8] اھ۔

پھر اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی۔ اور حلیہ میں رضی الدین کی محیط سے منقول ہے کہ ایك شخص نے نماز پڑھی اور اس کے ساتھ کتّے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو کرنا جائز نہیں ، کہاگیا ہے کہ نماز جائز نہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا مُنہ کُھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہتا رہے گا اور وہ لعاب سے ترہوکر ناپاك ہوجائے گی لہذا ایك درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز کے جواز کو روکے گی اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہوا ہو کہ اس کا لعاب کپڑے تك نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاك ہے اور وہ موت کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا جبکہ اندر کی نجاست اپنے مرکز میں ہے۔ پس نمازی کے اندر کی نجاست کی مثل اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا انتہی۔ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ یہ تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جس کا لعاب اکثر جاری رہتا ہے کیونکہ اس کا لعاب جب اس صورت میں ہو کہ جو کچھ جاری ہوا وہ اُٹھانے والے کے فارغ ہونے سے پہلے اس حد تك پہنچ جائے جو نماز کے صحیح ہونے سے مانع ہے اگرچہ اس کا منہ بند کیا جائے تو یہ نماز سے مانع ہوگا اور جو ایسا نہ ہو اس میں مطلقًا جواز (کا قول) زیادہ مناسب ہے جیسا کہ ہمارے مشایخ کے اُس قول سے ظاہر ہے جو بدائع میں ہے۔ (ت)

مسلك دوم : جن کی نظر اس طرف گئی کہ لعاب سطح دہن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ باطن گوشت سے متولد ہوکر دہن میں آتا ہے تو منہ سے باہر نکلنے نہ نکلنے کو کچھ دخل نہ رہا کہ اپنے اصل موضع سے منتقل ہوچکا تو اگرچہ بیرونِ دہن آئے حکمِ نجاست پالیا جیسے خُون کہ اندر سے نکل کر دہن وزبان کی سطوح پر آجائے پس صورت مذکور میں دہنِ کلب وغیرہ سباع بہائم کے اندر ہی لعاب کا ہونا حمل نجاست کا موجب ہے ، انہوں نے مطلقًا فساد نماز کا حکم دیا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ منتقی ومنیہ وغنیہ میں اسی پر جزم فرمایا۔

ففی الاربع الاول اللفظ متقارب والمعنی واحد والسیاق للوجیز صلی ومعہ حیوان حی یجوز التوضئ بسؤرہ کالفارۃ یجوز واساء وان کان سؤرہ نجسا کجروکلب لایجوز وفی النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز [9] اھ۔ وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن المنتقی عن محمد صلی ومعہ حیۃ اوسنورا وفارۃ اجزأہ وقد اساء وان کان ثعلب اوجر وکلب لم تجز صلاتہ وذکر فی جنس ھذہ المسائل اصلا فقال کل مایجوز التوضئ بسؤرہ تجوز الصلاۃ معہ ومالایجوز الوضوء بسؤرہ لا تجوز الصلاۃ معہ [10] انتھی۔  قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ولکن لایعری عن تأمل وسنوضحہ الخ والموعود بہ ھو ما قدمنا عنھا من ان الاشبہ التفصیل بالشد والفتح فی کلب شانہ کذا واطلاق الجواز فی غیرہ قال بعد تحقیقہ وحینئذ فیظھر ان فی کلیۃ الاصل المذکور نظرا فتنبہ لہ[11] اھ۔ وفی المنیۃ ان صلی ومعہ سنورا وحیۃ یجوز      

 



[1]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱

[2]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲

[3]   حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۸

[4]   فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱

[5]   الدرالمختار باب شروط الصلاۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵

[6]   حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۰

[7]   التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸

[8]              التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی ، مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ،$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن