30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار میں ہے کہ نجس عین نہیں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے پس اسے بیچا جاسکتا ہے ، اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور (ہلاکت کی صورت میں) اس کا تاوان لازم ہوگا اور اس کے کاٹنے سے کپڑا ناپاك نہیں ہوگا جب تك لعاب دکھائی نہ دے اسے اٹھاکر نماز پڑھنے والے کی نماز نہیں ٹوٹے گی اگرچہ بڑا ہو۔ حلوانی کے نزدیك اس کا منہ بندھا ہونا شرط ہے اھ تلخیص (ت)
اقول : اما البیع فقد تقدم الکلام علیہ وھو الکلام فی الاجارۃ فانھا ایضا انما تعتمد حل الانتفاع واماعدم فساد الثوب مالم یبتل بلعابہ فقد اقرہ علی ھذا التفریع محشیہ العلامۃ الشامی والعبد الضعیف لا یحصلہ فانہ ماش علی قول التجنیس ایضا قطعا لان الرجس لایعدی النجاسۃ الابلل ونجاسۃ ریقہ لاخلف فیھا فی المذھب فعدم النجاسۃ بسن یابس والتنجس بشفۃ رطبۃ کلاھما متفق علیہ لاجرم ان قال البحر فی البحر لایخفی ان ھذہ المسألۃ علی القولین [1] الخ ثم رأیت العلامۃ الطحطاوی نبہ علیہ معترفا ایضا من البحر والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اقول : جہاں تك خریدوفروخت کا تعلق ہے تو اس پر کلام گزرچکا ہے اور اجارہ کے بارے میں بھی وہی حکم ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی تو انتفاع کا حلال ہونا ہے ، لیکن کپڑے کا خراب نہ ہونا جب تك لعاب سے تر نہ ہو ، اس پر اس کے محشی علامہ شامی نے اس تفریع کو برقرار رکھا ہے۔ یہ بندہ ضعیف اسے نہیں مانتا کیونکہ وہ اس کے قطعی نجس ہونے کا بھی قائل ہے اور نجاست ، رطوبت کے بغیر آگے متجاوز نہیں ہوتی اور تھُوك کے نجس ہونے میں مذہب میں کوئی اختلاف نہیں پس خشك دانت کے ساتھ ناپاك نہ ہونا اور تر ہونٹ کے ساتھ ناپاك ہوجانا دونوں باتوں پر اتفاق ہے صاحبِ بحر نے بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ دو۲ قولوں کی بنیاد پر ہے الخ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے بحر سے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر تنبیہ کی ہے والله سبحٰنہ وتعالٰی (ت)
باقی رہی وہ فرع کہ اس کے حامل کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر کتّا خود آکر مصلّی پر بیٹھ جائے جب تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں صحت نماز خاص اسی مذہب صحیح یعنی طہارت عین ہی پر مبتنی ہے قول نجاست پر نماز نہ ہوگی کہ اگرچہ کتّا خود آکر بیٹھا مگر وہ عین نجاست ہے تو مصلّٰی حاملِ نجاست ہوا اور قول طہارت پر ہوجائے گی کہ اب نجس ہے تو لعاب اور لعاب محمول کلب ہے نہ محمول مصلی اور حمل بالواسطہ یہاں معتبر نہیں جیسے ہوشیار بچّہ جس کے جسم وثوب یقینا ناپاك ہوں خود آکر مصلّی پر بیٹھ جائے نماز جائز ہے اگرچہ ختم نماز تك بیٹھا رہے کہ اس صورت میں مصلی خود حاملِ نجاست نہیں اور جبکہ مذہب مفتی بہ طہارت عین ہے تو اس صورت میں جوازِ نماز بھی قطعًا مفتی بہ۔
فان مالایبتنی الا علی الصحیح لایکون
جس چیز کی بنیاد صحیح ہو وہ بھی صحیح ہوتی ہے اور یہ
الاصحیحا وھذا کما تری من اجلی البدیھات۔
جیسا کہ تم دیکھتے ہو نہایت واضح باتوں میں سے ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
(ان صلی ومعہ سنورتجوز) صلاتہ مطلقا ان جلس بنفسہ واذا لم یکن علی ظاھرہ نجاسۃ مانعۃ ان حملہ اما ان کان علیہ نجاسۃ مانعۃ اذ ذاك فلا تجوز صلاتہ کما لوحمل صبیا لایستمسك بنفسہ وفی ثیابہ اوبدنہ نجاسۃ مانعۃ لانہ حینئذ ھو الحاصل للنجاسۃ بخلاف المستمسك فان المصلی لیس حاملا للنجاسۃ التی علیہ (بخلاف الکلب) اذا حملہ المصلی حیث لا تجوز صلاتہ لانہ حامل للنجاسۃ التی ھی لعابہ اما اذا جلس علیہ بنفسہ فعلی روایۃ انہ نجس العین کذلك لانہ حاملہ وھو نجاسۃ واما علی الروایۃ الصحیحۃ فینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حامل للنجاسۃ کما فی الھرۃ ونحوھا علی ماسبق [2] اھ ملخصا۔
اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلّی تھی اس کی نماز مطلقًا جائز ہے اگر وہ خودبخود بیٹھی ہو ، اور اگر اس نے اسے اٹھایا ہو تو اس صورت میں اس کے ظاہر پر اتنی نجاست نہ ہو جو مانع ہو (نماز جائز ہوگی) لیکن جب اس پر مانع کی حد تك نجاست ہو اس وقت نماز جائز نہیں جیسا کہ اگر اس نے بچہ اٹھایا ہو جو خود بخود ٹھہر نہیں سکتا اور اس کے کپڑوں یا بدن پر اتنی نجاست ہے جو نماز سے مانع ہے کیونکہ اس وقت وہ خود نجاست اٹھانے والا ہوگا بخلاف اس کے جو خود بخود ٹھہر سکتا ہے اس صورت میں نماز ہی اپنے اور پائی جانے والی نجاست کو اٹھانے والا شمار نہیں ہوگا (بخلاف کتے کے) جب اسے اٹھایا ہو تو نماز جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ اس کی نجاست یعنی لعاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ لیکن جب وہ خودبخود بیٹھ جائے تو اس روایت کی بنیاد پر کہ وہ نجس عین ہے اسی طرح ہے کہ کیونکہ وہ اسے اٹھائے ہوئے ہے اور وہ نجاست ہے لیکن صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز صحیح ہو کیونکہ وہ نجاست کو اٹھائے ہوئے نہیں ، جیسا کہ بلّی وغیرہ کے بارے میں گزرچکا ہے۔ (ت)
اور اگر خود مصلی ہی نے اسے لے کر نماز پڑھی یا نماز میں اٹھالیا تو قول طہارت عین ہی پر اس صورت میں دو۲ قول ہیں۔
اقول : والسرفیہ ان الابتناء علی شےیئ لہ وجھان احدھما ان لایبتنی الا علیہ والاٰخر ان یکون ھو احد ما یبتنی علیہ والمبنی علی الصحیح بالمعنی الاول صحیح قطعا وبالمعنی الاٰخر لایجب ان یکون صحیحا فجواز ان یکون البعض الاٰخر مما یبتنی علیہ غیر صحیح فلا یکون المبتنی صحیحا بسبہ وعن ھذا نقول ان صحۃ الفرع تستلزم صحۃ الاصل ولاعکس لان الاصل لازم اعم فثبوتہ غیرقاض بثبوت ملزومہ۔
اقول : اس میں راز یہ ہے کہ کسی چیز پر بنیاد رکھنے کی دو۲ صورتیں ہیں ایک۱ یہ کہ اس کے علاوہ دوسری چیز پر بنیاد نہ ہو ، اور دوسرا۲ یہ کہ جن باتوں پر بنیاد رکھی گئی ہے ، یہ ان میں سے ایك ہے پہلے معنٰی کے اعتبار سے جو چیز صحیح پر مبنی ہوگی وہ قطعی طور پر صحیح ہوگی ، اور دوسرے معنٰی کے اعتبار سے اس کا صحیح ہونا واجب نہیں کیونکہ جائز ہے کہ دوسرا بعض جس پر اس کی بنیاد ہے وہ غیر صحیح ہو لہذا اس کے سبب (فرع کی صحت) سے بنیاد کا صحیح ہونا لازم نہ ہوگا اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ فرع کی صحت اصل کے صحیح ہونے کو مستلزم ہے لیکن اس کا عکس نہیں کیونکہ اصل لازم اعم ہے پس اس کے ثبوت سے ملزوم کا ثبوت ضروری نہیں۔ (ت)
اس قول پر اگرچہ عین کلب نجس نہیں مگر لعاب تو بالاتفاق نجس ہے اور اصل کلی یہ ہے کہ کوئی نجاست اپنے معدن میں حکم نجاست نہیں پاتی ورنہ نماز محال ہوکہ خود بدن مصلی خون وغیرہ سے کبھی خالی نہیں اب نظر علماء دو۲ مسلك پر مختلف ہوئی :
مسلك اوّل : جن کی نظر میں لعاب جب تك منہ سے باہر نہ نکلے اپنے معدن میں ہے انہوں نے حکم صحت دیا یا تو مطلقًا جیسا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں اختیار فرمایا اور اپنے مشائخ کرام سے نقل کیا اور اسی پر حلیہ میں اور بحرالرائق ودرمختار کے کتاب الطہارت میں اور حلبی وشامی نے حواشی در اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں جزم فرمایا ، یا اس شرط کے ساتھ کہ اُس کا منہ بندھا ہو ورنہ نماز نہ ہوگی یہ امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کا ارشاد ہے۔ محیط رضوی ونصاب وابوالسعود وغیرہا اور بحر ودُر کی شروط الصلاۃ میں اسی پر اعتماد اور اسی طرف علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں میل کیا اور نظر فقہی میں تحقیق وہی ہے کہ بندش شرط نہیں قبل از فراغ نماز لعاب بقدر مانع جواز کے سیلان پر بنا ہے نہ بہے تو نماز ہوجائے گی اگرچہ منہ کھُلا رہے ، ورنہ نہیں ، اگرچہ بندھا ہو۔
اقول : ب لکہ حق یہ کہ شرط بندش کا مقصود بھی یہی ہے کمایفیدہ مانذکر عن المحیط وغیرہ من تعلیل التقیيد (جیسا کہ وہ بات یعنی تقیےد کی علت اس کا فائدہ دے گی جسے ہم محیط وغیرہ سے ذکر کریں گے۔ ت) غالبًا لعاب کلاب کا منہ کھُلا ہونے کی حالت میں میلان کرتا اور بندش سے رکنا مظنون ہے لہذا شدوفتح سے تعبیر کی گئی ومثلہ کثیرالوقوع من الفقھاء کمالایخفی علی من تتبع (اور اس کی مثل فقہاء سے کثیر الوقوع ہے جیسا کہ تلاش کرنے والے پر مخفی نہیں۔ ت) غرض اختلاف لفظ میں ہے نہ معنٰی میں وبھذا یندفع التھافت المظنون فی کلمات البحر والدر والطحطاوی وبالله التوفیق (بحرالرائق ، درمختار اور طحطاوی کے کلمات میں جس تکرار کا گمان تھا اس سے وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع