30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے گلے میں ایسا ہار ہو جس میں کُتّے یا بھیڑیے کے دانت ہوں ، تو اس کی نماز جائز ہے(ت)
اور فرمایا :
ان کان فی کمہ ثعلب اوجروکلب لاتجوز صلاتہ لان سؤرہ نجس لایجوزبہ التوضأ [1]۔
اگر اس کی آستین میں لومڑی یا کُتّے کا بچّہ ہو تو اس کی نماز جائز نہیں کیونکہ اس کا جھُوٹا ناپاك ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ (ت)
بلکہ صاف واضح فرمادیا کہ اُس کی نجاست عین کے یہ معنے ہیں کہ اس کا مادٰی نجاسات ہیں لہذا اس کا بدن غالبًا ناپاك ہوتا ہے۔
حیث قال ینزح کل الماء اذاوقع فیھا کلب اوخنزیر مات اولم یمت اصاب الماء فم الواقع اولم یصب اما الخنزیر فلان عینہ نجس والکلب کذلك ولھذا لوابتل الکلب وانتقض فاصاب ثوبا اکثر من قدر الدرھم افسدہ لان مأواہ النجاسات وسائر السباع بمنزلۃ الکلب [2] اھ ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ جب اس میں کتّا یا خنزیر گر جائیں تو تمام پانی نکالا جائے چاہے وہ مریں یا نہ ، اور گرنے والے کا منہ پانی کو پہنچے یا نہ۔ خنزیر اسی لئے کہ وہ نجسِ عین ہے اور کتّا بھی اسی طرح ہے ، اس لئے اگر کتّا تر ہوجائے اور اپنے آپ کو جھاڑے اور یہ (پانی) درہم سے زیادہ کپڑے کو پہنچے تو اسے ناپاك کردے گا کیونکہ اس کا ٹھکانہ نجاستیں ہیں اور تمام درندے کتے کی طرح ہیں اھ تلخیص (ت)
اور اسی باب سے ہے عامہ کتب مذہب کا اتفاق کہ کلیہ کل اھاب دبغ طاھر (ہر وہ چمڑا جسے دباغت دی جائے پاك ہو جاتا ہے۔ ت) سے سوا خنزیر کے کسی جانور کا استشناء نہیں فرماتے ، فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ کسی کتاب میں یہاں والکلب بھی فرمایا ہو اگرچہ دوسری جگہ طہارت جلد کلب میں خلاف نقل کریں وبالله التوفیق۔
واما التزیيف فاقول اولا : (رہا اس کا کھوٹاپن! تو میں کہتا ہوں ، اوّلا۔ ت) امر بالقتل سے تحریم پر استدلال تو ایك طریق ہے مگر نجاست عین پر اُس سے احتجاج محض باطل وسحیق احادیث میں سانپ بچھّو چیل کوّے چوہے چھپکلی گرگٹ وغیرہا اشیائے کثیرہ کے قتل کا حکم ہے یہاں تك کہ احرام میں حتی کہ حرم میں پھر کیا یہ سب اشیا نجس العین ہوں گی۔
ھذا لم یقل بہ احد اخرج الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عمرو البخاری ومسلم والنسائی والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابوداؤد بسند
اس کا کوئی بھی قائل نہیں امام مالک ، احمد ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ (رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیتعالٰی) نے حضرت عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بخاری ، مسلم ، نسائی ، ترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ، ابوداؤد
حسن عن ابی ھریرۃ واحمد باسناد حسن عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خمس من الدواب لیس علی المحرم فی قتلھن جناح الغراب والحدأۃ والعقرب والفارۃ والکلب العقور [3]۔ وفی حدیث ابن عباس خمس کلھن فاسقۃ یقتلھن المحرم ویقتلن فی الحرم وعد الحیۃ بدل الحدأۃ [4] وفی احدی روایات الصدیقۃ الحیۃ مکان العقرب [5] ۔ احمد والشیخان وابوداود والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عمرعن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الحیات اقتلوا ذاالطفیتین والابتر [6] الحدیث۔ ابوداؤد و النسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن جریر بن عبدالله البجلی وعن عثمان بن ابی العاص بسند صحیح عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الحیات کلھن فمن خاف ثأرھن فلیس منا [7]۔ ابوداود والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الکبیر
نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور احمد نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ان سب نے سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا کہ مُحرِم پر پانچ جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ، کوّا ، چیل ، بچھّو ، چُوہا اور کاٹ کھانے والا کتّا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے پانچ جانور تمام کے تمام فاسق ہیں مُحرم ان کو قتل کرے ، اور انہیں حرم میں بھی قتل کیا جائے ، انہوں نے چیل کی جگہ سانپ کو شمار کیا ہے۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایك روایت میں بچھّو کی جگہ سانپ کا ذکر ہے۔ امام احمد ، شیخان (بخاری ومسلم) ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی، حضرت عبداللہ ابن عمر کے واسطے سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : سانپوں کو قتل کرو گر گل کے پتّوں جیسے نشانات والے سانپ اور دُم کٹے سانپ کو قتل کرو (الحدیث)۔ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت عثمان ابن ابی العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا آپ نے فرمایا تمام
عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اقتلو السودین فی الصلوۃ الحیۃ والعقرب [8] وایضا ھذا عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الوزغ ولوفی جوف الکعبۃ [9]۔
احمد عن ابن مسعود بسند صحیح عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من قتل حیۃ فکانما قتل رجلا مشرکا قد حل دمہ [10] احمد وابن حبان بسند صحیح عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من قتل حیۃ فلہ سبع حسنات ومن قتل وزغۃ فلہ حسنۃ [11]۔
سانپوں کو مارو ، جو شخص ان کی طرف سے حملے کا خوف رکھے وہ ہم میں سے نہیں۔ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا وہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ (آپ نے فرمایا) نماز میں دو سیاہ جانوروں سانپ اور بچھّو کو ہلاك کرو ، نیز انہوں نے ہی نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا گرگٹ کو قتل کرو اگرچہ کعبہ شریف کے اندر ہو۔ امام احمد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا وہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : “ جو شخص سانپ کو مارے گویا اس نے ایسے مشرك مرد کو قتل کیا “ جس کا خون (بہانا) حلال ہوچکا تھا۔ امام احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ انہی کی روایت سے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا آپ نے فرمایا : “ جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے سات۷ نیکیاں پائیں جس نے گرگٹ کو ہلاك کیا اس کیلئے ایك نیکی ہے “ ۔ (ت)
ثانیًا : رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاتقربھم الملٰئکۃ الجنب والسکران والمتضمخ بالخلوق[12] رواہ البزار باسناد صحیح عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع