30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقال الامام العارف الشعرانی الشافعی فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالٰی یقول لیس لنادلیل علی نجاسۃ عین الکلب الامانھی عنہ الشارع من بیعہ اواکل ثمنہ [1] اھ۔
اقول : ای ولایتم ایضا فان الشارع صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدنھی عن بیع اشیاء واثمانھا وھی طاھرۃ العین وفاقا اخرج الائمۃ احمد والستۃ عن جابر رضی الله تعالٰی علیہ وسلم ان الله ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام[2]۔ ولاحمد ومسلم والاربعۃ والطحاوی والحاکم عنہ رضی الله تعالٰی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب والسنور [3] علی ان علماء نا قدبینوا ان ذلك کان حین کان الامر بقتل الکلاب ولم یکن یحل لاحد امساك شیئ منھا فنسخ بنسخہ [4] کماحققہ الامام
میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ کمزور دلائل سے اعراض کروں گا اھ۔ امام عارف شعرانی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے سُنا آپ فرماتے تھے ہمارے پاس کتّے کے نجسِ عین ہونے پر اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کو شارع علیہ السلام نے اس کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اھ۔ (ت)
اقول : یہ دلیل بھی تام نہیں کیونکہ شارع صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بعض چیزوں کی خریدوفروخت اور ان کی قیمت لینے سے منع فرمایا حالانکہ ان کا عین بالاتفاق پاك ہے۔ امام احمد اور اصحاب صحاح ستّہ نے بواسطہ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔ احمد ، مسلم ، اصحابِ اربعہ ، طحاوی اور حاکم رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی انہی حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کتّے اور بلّی کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت تھا جب کتّے کو قتل کرنے کا حکم تھا اور کسی کیلئے اس میں سے
ابوجعفر الطحاوی وفی شرح معانی الاٰثار۔
کچھ روك رکھنا جائز نہ تھا پس اس (قتل) کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا جیسا کہ امام ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
خامسًا : اگر دلائل میں تعارض بھی ہو تو مرجع اصل ہے ،
کمانصوا علیہ فی الاصول وتشبثوا بہ فی مسائل الاسرار بال تائین وترك رفع الیدین وغیرھما۔
جیسا کہ انہوں نے اسے اصول میں بیان کیا اور آہستہ آمین کہنے اور ترك رفع یدین جیسے مسائل میں اس کو اختیار کیا۔ (ت)
اور اصل تمام اشیا میں طہارت ہے۔
حتی الخنزیر فانہ من المنی والمنی من الدم والدم من الغذاء والغذاء من العناصر والعناصر طاھرۃ حتی لولم یرد الشرع بتنجیس عینہ بقی علی اصلہ فی المیزان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ وانما النجاسۃ عارضۃ فانھا صادرۃ عن تکوین الله تعالٰی القدوس الطاھر [5] الخ۔ وفی الطریقۃ والحدیقۃ ص ان الطھارۃ فی الاشیاء اصل ش لان الله تعالٰی لم یخلق شیأ نجسا من اصل خلقتہ ص وش انما ص النجاسۃ عارضۃ ش فاصل البول ماء طاھر وکذلك الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ [6] اھ ملخصا۔ ولذا قال فی الغنیۃ ھٰھنا والاصل عدمھا [7] ای عدم النجاسۃ کمامر۔
حتی کہ خنزیر بھی ، کیونکہ وہ منی سے ہے ، منی خون سے ، خون غذا سے اور غذا عناصر سے اور عناصر پاك ہیں حتی کہ اگر شریعت اسے نجسِ عین قرار نہ دیتی تو وہ اپنی اصل پر باقی رہتا۔ میزان میں ہے اشیاء میں اصل طہارت ہے اور نجاست لاحق ہوتی ہے یعنی اللہ تعالٰی پاك وطاہر کے حکم سے صادر ہوتی ہے الخ۔
الطریقۃ الحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے (متن) اشیاء میں اصل طہارت ہے (شرح) کیونکہ اللہ تعالٰی نے اصلِ تخلیق میں کسی چیز کو نجس پیدا نہیں کیا (متن) نجاست عارضی ہے (شرح) پس پیشاب کا اصل پاك پانی ہے ، اسی طرح خون ، منی اور شراب پاك رس ہے پھر نجاست لاحق ہوئی اھ ملخصا۔ اسی لئے غنیہ میں اس مقام پر فرمایا اور اصل عدمِ نجاست ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
سادسًا : اسی میں تیسیر ہے :
لاسیما علی من ابتلی باقتنائہ لصید اوزرع اوماشیۃ والتیسیر محبوب فی نظر الشارع
یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘- [8]
وقال صلی الله علیہ وسلم ان الدین یسر الحدیث [9]رواہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ وقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یسروا ولاتعسروا[10] رواہ احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ۔
خصوصًا جو شخص شکار ، کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت کے لئے اس کے رکھنے پر مجبور ہو اور شارع کی نظر میں آسانی محبوب ہے (ارشادِ خداوندی ہے) الله تعالٰی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔ اور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ بے شك دین آسان ہے “ (الحدیث) اسے امام بخاری اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ اور سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو “ ۔ اس حدیث کو امام احمد ، بخاری ومسلم اور نسائی نے حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ (ت)
سابعًا : بہت قائلان تنجیس کے اقوال خود مضطرب ہیں کہیں نجاست عین پر حکم فرماتے کہیں طہارت عین کا پتادیتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں جس مبسوط شمس الائمہ سرخسی کے مسائل الآسار میں ہے :
الصحیح من المذھب عندنا ان عین الکلب نجس [11]۔
ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتے کا عین نجس ہے۔ (ت)
[1] المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۱۴
[2] صحیح البخاری باب بیع المیتۃ والاصنام مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۸
[3] شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۱
[4] شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۴۸
[5] المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۴
[6] الحدیقۃ الندیۃ النوع الرابع تمام انواع الاربعۃ فی بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع