دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اقول : لیکن فتح القدیر سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جو ازبیع ، طہارت عین پر موقوف نہیں ب

خنزیر نجس عین ہے تو کسی طرح اس سے انتفاع جائز نہیں۔ عام کتب میں اس کی یہی علّت بیان کی ہے ہاں نجس عین کو ہلاك کرکے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ یہی بات گوبر میں بھی ثابت ہے ، جیسا کہ نہایہ میں اس بات کا فائدہ دیا اور اسے البحرالرائق نے نقل کیا۔ میں کہتا ہوں ہاں یہ اصل مدعٰی یعنی طہارت کی دلیل بن سکتی ہے لیکن اسے طہارت کے قول پر جوازِ بیع کی تخصیص کیلئے سبب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ کتّے سے شکار کے طریقے پر نفع حاصل کرنا جائز ہے اور یہ قطعی طور پر متفق علیہامسئلہ ہے کیونکہ اس کو قرآنِ کریم نے بیان کیا ہے پس جوازِ بیع کی بنیاد سب کے نزدیك ثابت ہے اگرچہ صاحبین اس بنیاد کی بنیاد یعنی طہارت کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس بنیاد کی فرع یعنی جواز بیع کا انکار کیا ہے۔ پس اسے سمجھو۔ (ت)

اور معلوم ومقرر ہے کہ کلام الامام امام الکلام علما فرماتے ہیں قول امام پر افتا لازم ہے اگرچہ صاحبین خلاف پر ہوں نہ کہ جب صاحبین سے بھی روایات اُن کے موافق آئی ہوں۔

اللھم الالضرورۃ اوضعف دلیل وقدعلم انتفاؤھما ھھنا۔

اے اللہ ! مگر ضرورت یا ضعفِ دلیل کی وجہ سے ، اور یقینا یہاں ان دونوں کا نہ ہونا معلوم ہے (ت)

بحرالرائق وفتاوٰی خیریہ وحاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار وردالمحتار میں ہے :

واللفظ للعلامۃ الرملی المقرر ایضا عندنا انہ لا یفتی ولا یعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الا لضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کمسألۃ المزارعۃ                                                                                                                                                                                                          

اور الفاظ علّامہ رملی کے ہیں ہمارے نزدیك بھی ثابت ہے کہ صرف امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول پر فتوٰی دیا جائے گا اور عمل کیا جائیگا اس سے صاحبین یا ان میں سے ایك یا کسی دوسرے کے قول کی طرف بغیر ضرورت متوجہ نہیں ہوں گے ضرورت جیسے کمزور دلیل یا اس کے خلاف

وان صرح المشایخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم        ؎

اذاقالت حذام فصدقوھا

فان القول ماقالت حذام [1]

تعامل کا پایا جانا جیسا کہ مسئلہ زراعت میں ہے اگرچہ مشائخ تصریح کریں کہ فتوٰی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ آپ (امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) صاحبِ مذہب اور امام متقدم ہیں   ؎
جب حذام کوئی بات کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات تو وہی ہے جو خدام نے کہی۔

امام برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ تجنیس میں فرماتے ہیں :

الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال [2]۔

میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول پر فتوٰی دیا جائے۔ (ت)

اسی طرح اور کتب سے ثابت وقدذکرناہ فی کتا النکاح من فتاوٰنا (ہم نے اسے اپنے فتاوٰی کی کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ ت) تو واجب ہوا کہ طہارت عین ہی پر فتوے دیں اور اسی کو معمول ومقبول رکھیں۔

ثانیًا : یہی قول اکثر ہے۔

کمایظھر لمن یطالع نقولنا فی التطھیر مع ما ترکنا من الکثیر البشیر ویراجع نقول التنجس یجدھا لاتبلغ نصف ذلك ولاثلثہ وان شرط مع ذلك عدم الاضطراب فلا یبقی فی یدہ الا اقل قلیل کماستقف علیہ ان شاء الله  تعالی وقدقال فی الحلیۃ الکثیر علی انہ لیس بنجس العین [3]۔

 جیسا کہ اس شخص کے لئے ظاہر ہے جو تطہیر کے بارے میں ہمارے نقول کا مطالعہ کرے باوجود کہ ہم نے بہت کچھ چھوڑ دیا ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں نقول کی طرف رجوع کرے تو انہیں ان (نقولِ تطہیر) کا نصف بلکہ تہائی بھی نہیں پائے گا۔ اور اس کے ساتھ عدمِ اضطراب کی شرط رکھی جائے تو اس کے ہاتھ میں بہت کم رہ جائیگی جیسا کہ تو عنقریب اس پر مطلع ہوگا ان شاء الله  تعالٰی۔ اور حلیہ میں فرمایا کہ زیادہ روایات اس کے نجسِ عین نہ ہونے پر ہیں۔ (ت)

اور ثابت ومشہور ہے کہ معمول بہ وہی قول اکثر وجمہور ہے۔

فی ردالمحتار قدصرحوا بان العمل بماعلیہ الاکثر[4] اھ۔ وفی العقود الدریۃ عن شرح الاشباہ للبیری لایجوز لاحد الاخذ بہ لان المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بماقالہ الاکثر [5]۔

ردالمحتار میں ہے فقہاءِ کرام نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثر کے اقوال پر ہوگا اھ۔ بیری کی شرح اشباہ کے حوالے سے العقود الدریہ میں ہے کہ اسے اختیار کرنا کسی کیلئے جائز نہیں کیونکہ مشائخ کے نزدیك یہ بات ثابت ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثر کے قول کا اعتبار ہوگا۔ (ت)

ثالثا : يہی موافق احکام قرآن وحدیث ہے۔

کماعلمت وتعلم وقدقال فی الغنیۃ قبیل واجبات الصلاۃ لاینبغی ان یعدل عن الداریۃ اذاوافقتھا روایۃ [6]  اھ و مثلہ فی ردالمحتار۔

جیسا کہ تُونے جانا اور تجھے معلوم ہوجائیگا۔ اور غنیہ میں واجباتِ نماز سے کچھ پہلے فرمایا کہ جب روایت ، درایت کے موافق ہوجائے تو اس سے رُوگردانی کرنا مناسب نہیں اھ ردالمحتار میں بھی اسی کی مثل ہے (ت)

رابعًا : یہی من حیث الدلیل اقوے بلکہ قول تنجیس پر دلیل اصلًا ظاہر نہیں۔

وقدسمعت قول الغنیۃ لعدم الدلیل علی نجاسۃ العین [7] اھ وقداعترف بذلك الائمۃ الشافعیۃ قال فی البحر ولقد انصف النووی حیث قال فی شرح المھذب واحتج اصحابنا باحادیث لادلالۃ فیھا فترکتھا لانی التزمت فی خطبۃ الکتاب الاعراض عن الدلائل

تو نے غنیہ کا قول سنا ہے کہ نجاستِ عین پر کوئی دلیل نہیں۔ اھ شافعی ائمہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے شرح مہذب میں یہ کہہ کر انصاف سے کام لیا کہ ہمارے اصحاب نے ایسی احادیث کو دلیل بنایا جن میں کوئی دلالت نہیں پس میں نے ان کو چھوڑ دیا کیونکہ میں نے خطبہ کتاب

الواھیۃ [8] اھ۔

 



[1]   فتاوٰی خیریۃ مطلب لایفتی بغیر قول ابی حنیفہ وان صححہ المشایخ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳

[2]   التجنیس والمزید

[3]   التعلیق المجلی حاشیہ منیۃ المصلی فصل فی البئر مکتبہ قادیہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۵

[4]   ردالمحتار ، فصل فی البئر ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۶۶

[5]   العقود الدریۃ قدائد تتعلق باداب المفتی (حاجی عبدالغفار وسپراں ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ / ۳

[6]   غنیۃ المستملی قبیل واجبات الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵

[7]   غنیۃ المستملی فصل فی البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹

[8]   البحرالرائق ، کتاب الطہارت ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن