30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پنجم : جو کچھ انہوں نے منح کی طرف منسوب کیا ہے وہ خانیہ میں بھی مذکور ہے انہوں نے اس پر اعتماد کیا اور تفصیل کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “ کتا جب پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور وہ کسی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاك کردے گا کہا گیا کہ اگر یہ بارش کے پانی سے ہو تو اسے ناپاك نہیں کریگا مگر جب بارش اس کے چمڑے تك پہنچ جائے اور ظاہر روایت میں اطلاق ہے تفصیل نہیں ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں “ ق “ کے ساتھ قاضی خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے
اذابنیتم حکایۃ الوفاق علی الروایۃ المختارۃ للسراج فلاوجہ للردعلیہ بروایۃ اخری نعم لوذکر ماذکرنا عن الخانیۃ وبین ان الترجیح قداختلف وان التنجیس ظاھر الروایۃ فوجب اختیارہ وسقط الحکم بالوفاق معتمدا علی اختیار السراج لکان وجیھا وبعد اللتیا واللتی فحکایۃ الوفاق مدخولۃ لاشك لاجرم ان صرح فی متن الغرر بالتثلیث فقال والکلب نجس العین وقیل ل اوقیل جلدہ نجس وشعرہ طاھر[1]اھ۔
واما الترجیح فاقول بوجوہ :
نقل کیا کہ خنزیر یا کُتّے کے بال پانی میں گر جائیں تو اُسے خراب کردیتے ہیں کیونکہ وہ نجس عین ہے۔
لیکن کوئی قائل کہہ سکتا ہے کہ جب تم نے سراج کی مختار روایت پر حکایتِ اتفاق کی بنیاد رکھی ہے تو دوسری روایت کے ساتھ اسے رَد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ہاں اگر وہ اس بات کا ذکر کرتے جو ہم نے خانیہ سے (نقل کرتے ہوئے) ذکر کی ہے اور بیان کرتے کہ ترجیح مختلف ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اسے ناپاك قرار دیا ہے لہذا اسے اختیار کرنا واجب ہے اور سراج کے اختیار کے مطابق جس اتفاق کا حکم دیا گیا ہے وہ ساقط ہے تو اس بات کا کوئی وقار ہوتا ، مختصر اور طویل گفتگو کے بعد اتفاق کی بات محلِ نظر ہوگئی۔ بلاشك وشبہہ غرر کے متن میں تثلیث کی تصریح کرتے ہوئے کہا “ اور کتا نجس عین ہے کہا گیا کہ نہیں ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا چمڑا ناپاك ہے بال پاك ہیں۔ (ت)
ترجیح : میں اس سلسلے میں کئی طرح سے گفتگو کروں گا :
اولًا : یہی قول امام ہے
کماقدمہ السائل عن الدر المختار وقدمناہ عن القھستانی والطحطاوی۔
اول : یہی قول امام ہے جیسا کہ سائل نے اس سے پہلے درمختار سے نقل کیا ہے ، اور ہم نے قہستانی اور طحطاوی سے (نقل کرتے ہوئے) اس سے پہلے بیان کیا ہے (ت)
نظم الفرائد میں ہے : ؎
وعندھما عین الکلاب نجاسۃ وطاھرۃ قال الامام المطھر [2]
اور ان دونوں (صاحبین) کے نزدیك کتے کا عین ناپاك ہے ، اور امام پاك (ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) نے فرمایا پاك ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
مشی علیہ فی الحاوی القدسی [3]۔
حاوی قدسی میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی النھایۃ وغیرھا عن المحیط الکلب اذاوقع فی الماء فاخرج حیا ان اصاب فمہ یجب نزح جمیع الماء وان لم یصب فمہ الماء فعلی قولھما یجب نزح جمیع الماء وعلی قول ابی حنیفۃ لاباس وقال ھذا اشارۃ الی ان عین الکلب لیس بنجس [4]۔
نہایہ وغیرہ میں محیط سے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں گِر جائے اور زند نکال لیا جائے اگر اس کا منہ پانی تك پہنچا ہے تو تمام پانی نکالا جائے ، اور اگر منہ پانی تك نہیں پہنچا تو صاحبین کے قول پر تمام پانی نکالا جائے اور امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اسی طرح تجرید القدوری میں [5]ہے کمانقلہ عنہ ایضا فی الحلیۃ (جیسے کہ انہوں نے اسے حلیہ میں بھی ان سے نقل کیا۔ ت) بحرالرائق میں ہے :
قال فی القنیۃ رامز المجد الائمۃ وقداختلف فی نجاسۃ الکلب والذی صح عندی من الروایات فی النوادر والامالی انہ نجس العین عندھما وعند ابی حنیفۃ لیس بنجس العین [6]۔
قنیہ میں مجد الائمہ کے حوالے سے بتایا کہ کتے کے نجس ہونے میں اختلاف ہے اور نوادر وامالی کی روایات میں سے جو کچھ میرے نزدیك صحیح ہے وہ یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیك نجس عین ہے اور امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اور کچھ روایتیں امام محمد سے بھی اس کے موافق آئیں :
فی الحلیۃ عن الخانیۃ عن الناطفی انہ اذاصلی
حلیہ میں بحوالہ خانیہ ناطفی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی نے
علی جلد کلب اوذئب قدذبح جازت صلاتہ[7]۔
مذبوح کتّے یا بھیڑیے کی کھال پر نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں عقد الفوائد سے ہے :
لایخفی ان ھذہ الروایۃ تفید طھارۃ عینہ عند محمد [8] الخ۔
[1] درر شرح غرر قبیل فصل بئردون عشر الخ مطبعۃ احمد الکامل الکائنہ فی دار سعادۃ ۱ / ۲۴
[2] نظم الفرائد
[3] حلیہ شرح منیۃ المصلی
[4] حلیہ شرح منیۃ المصلی
[5] تجریدی القدوری
[6] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
[7] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[8] البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع