30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : حاصل التعلیل ان الضرورۃ اوجبت اباحۃ استعمالہ ثم اذا ثبت الاباحۃ ثبت الطھارۃ لان الشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ وجواب ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی ان ما ثبت بضرورۃ تقدر بقدرھا وانت تعلم انہ بین البرھان فلا جرم ان صححہ فی البدائع ورجحہ فی الاختیار وجعلہ فی الدر ھو المذھب وبما قررنا کلام الدر بان الجواب عما اوردعلیہ السید العلامۃ ابوالسعود الازھری فی حاشیۃ الکنز حیث زعم ان محمدا اباح الانتفاء بہ مطلقا ولومن دون ضرورۃ وجعلہ مقتضی قول النھر طھرہ محمد وعلیہ ابتنی رد قول من قال انہ فی زماننا استغنی عنہ فینبغی ان لا یجوز استعمالہ عند الکل لانعدام الضرورۃ قائلا فیہ نظر لان محمدا لم یقصر جواز استعمالہ علی الضرورۃ ورد علی الدر تعلیلہ بالضرورۃ بان لوکان کذلك لقال ان الماء القلیل ینجس بوقوعہ فیہ لعدم الضرورۃ ولیس کذلك ولان صریح قولہ فی النھر واثر الخلاف یظھر فیما لوصلی ومعہ من شعر الخنزیر ما یزید علی الدرھم او وقع فی الماء القلیل یاباہ وبماقررناہ
گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوگا۔ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك وہ نجس ہے پس پانی بھی ناپاك ہوجائیگا۔ اھ (ت)
اقول : اس علت کا ماحصل یہ ہے کہ ضرورت نے اس کے استعمال کی اباحت ثابت کردی پھر جب اباحت ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی کیوں کہ جو چیز بھی ثابت ہوتی ہے وہ اپنے تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا جواب یہ ہے کہ جو چیز ضرورت کے تحت ثابت ہوتی ہے اس کا اندازہ ضرورت کے حساب سے لگایا جاتا ہے اور تم جانتے ہو کہ اس کی دلیل واضح ہے لہذا بدائع میں اسے صحیح قرار دیا ، الاختیار میں اسے ترجیح دی اور درمختار میں اسی کو مذہب قرار دیا اور جس طرح ہم نے درمختار کا کلام بیان کیا اس سے اس اعتراض کا جواب واضح ہوگیا جو ان پر سید علامہ ابو السعود الازہری نے حاشیہ کنز میں نقل کیا جب یہ خیال کیا کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس سے مطلق انتفاع جائز قرار دیا ہے اگرچہ بغیر ضرورت ہو اور نہر الفائق کے قول (امام محمد نے اسے پاك قرار دیا) کو ابوالسعود الازہری نے اسی کا مقتضی قرار دیا اور اسی پر ان کے قول کے رَد کی بنا ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس کی ضرورت نہیں لہذا چاہے کہ سب کے نزدیك اس کا استعمال جائز نہ ہو کیونکہ ضرورت ہی نہیں رہتی ابو السعود نے “ فیہ نظر “ کہہ کر اس پر اعتراض کیا کیونکہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
یظھر مافی الدرمن المنافاۃ حیث علل طھارتہ عند محمد بضرورۃ الاستعمال ثم فرع علیہ ان الماء لاینجس بوقوعہ فیہ [1] اھ۔
اقول : ولعلك اذاتأملت فیما القینا علیك علمت ان ھذا کلہ فی غیر محلہ وحاشا محمدا ان یبیح الانتفاع بہ بلاضرورۃ مع قول الله تعالٰی فانہ رجس وانما الامر مابینا انہ اباح للضرورۃ ومن ضرورۃ الاباحۃ سقوط النجاسۃ واذا سقطت جازت الصلاۃ ولم یفسد الماء فمحمد اعتبر زمان الضرورۃ ولم یعتبر خصوص محلھا وابویوسف اعتبر الامرین جمیعا وھو الصحیح لاجرم نص فی البرھان شرح مواھب الرحمٰن ان رخص محمد الانتفاع بشعرہ لثبوت الضرورۃ عندہ فی ذلك ومنعاہ لعدم تحققھا لقیام غیرہ مقامہ [2] اھ
نے اس کے استعمال کا جواز ضرورت پر منحصر نہیں کیا اور الدرر نے جو ضرورت کو اس کی تعلیل قرار دیا ہے ابوالسعود نے اس کو بھی رد کردیا کہ اگر ایسا ہو تا تو وہ کہتے اس کے گرنے سے تھوڑا پانی ناپاك ہوجاتا ہے کیونکہ ضرورت معدوم ہے حالانکہ ایسا نہیں نیز نہر میں ان کا صریح قول کہ اختلاف کا اثر اس صورت میں ہی ظاہر ہوگا جب وہ نماز پڑھے اور اس کے پاس ایك درہم سے زیادہ خنزیر کے بال ہوں یا وہ تھوڑے پانی میں گریں اس طرح کی تعلیل کا انکار کرتا ہے اور جو کچھ ہم نے ثابت کیا وہ الدرر میں پائی جانے والی منافات کو ظاہر کرتا ہے جب انہوں نے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك ضرورتِ استعمال کو اس کی طہارت قرار دیا پھر اس پر تفریعًا کہا کہ اس کے گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا اھ (ت)
اقول : شاید جب تو اس پر غور کرے جو ہم نے تمہارے سامنے پیش کیا تو جان لے کہ یہ سب کچھ اپنے محل پر نہیں ہے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبلا ضرورت اس سے انتفاع جائز قرار دیں حالانکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے “ پس بیشك یہ ناپاك ہے “ بات وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ آپ نے ضرورت کے تحت جائز قرار دیا اور اباحت سے نجاست کا ساقط ہوجانا لازم ہے جب نجاست ساقط ہوگئی تو نماز جائز ہوگی اور پانی خراب نہ ہوا ، پس امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے وقتِ ضرورت کا اعتبار کیا ہے محلِ مخصوص کا نہیں کیا ، اور امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے دونوں باتوں کے مجموعہ کا اعتبار کیا ہے ، اور یہی صحیح ہے۔ یقینا برہان شرح
نقلہ ط فی حاشیۃ المراقی وقال فی الغنیۃ شعر الخنزیر لما ابیح الانتفاع بہ للخرز ضرورۃ قال محمد انہ لو وقع فی الماء لاینجسہ [3] اھ۔
وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ اطلاق الشعر یدل علی ان شعر الخنزیر ایضا طاھر لایفسد الماء ولایضر حملہ فی الصلاۃ وھوقول محمد وذلك لضرورۃ حاجۃ الناس الی استعمالہ فی الخرز وعند ابی یوسف نجس لان الخنزیر نجس العین کذا فی الحصر واما عظم الخنزیر فنجس اتفاقا لانہ لاضرورۃ فی استعمالہ کمافی الشعر [4] اھ۔
فانظر کیف نصوا جمیعا ان تطہیر محمد مبتن علی الضرورۃ فظھر سقوط کل ماذکر ھذا السید العلامۃ رحمہ الله تعالی واستبان ان لاحجۃ لہ فی قول النھر ولامنافاۃ بین قولی الدرر وان عند زوال الضرورۃ یجب وفاق
مواہب الرحمن میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا اس کے بالوں سے انتفاع کی اجازت دینا اس ضرورت کی بنیاد پر ہے جو اس سلسلے میں ان کے ہاں ثابت ہوئی اور شیخین نے منع کیا کیونکہ ان کے نزدیك ضرورت ثابت نہیں کیونکہ دوسری چیز اس کے قائم مقام ہے اھ (ت)اسے امام طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کیا اور غنیہ میں فرمایا کہ جب ضرورت کے تحت خنزیر کے بالوں سے سلائی کیلئے نفع حاصل کرنا جائز قرار دیا گیا تو امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا اگر وہ پانی میں گر جائیں تو اسے ناپاك نہیں کرے گے اھ۔ علامہ عبدالعلی برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا : “ مطلق بالوں کا ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خنزیر کا بال بھی پاك ہے نہ وہ پانی کو خراب کرتا ہے اور نہ ہی نماز میں اس کا اٹھانا نقصان دہ ہے۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہی قول ہے اور یہ اس لئے کہ لوگوں کو سلائی کیلئے اس کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے۔ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك ناپاك ہے کیونکہ خنزیر نجس عین ہے ، جیسا کہ حصر میں ہے لیکن خنزیر کی ہڈی بالاتفاق ناپاك ہے کیونکہ بالوں کی طرح ہڈی کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آتی اھ (ت)
پس دیکھو کس طرح تمام (فقہاء) نے بیان فرمایا کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا اسے پاك قرار دینا ضرورت کی بنیاد پر ہے پس جو کچھ اس سید علامہ (ابوالسعود) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر کیا اس کا ساقط ہونا ظاہر ہوا۔ اور واضح ہوا کہ نہر کے قول میں ان کے لئے کوئی حجت نہیں اور نہ ہی
الکل علی التحریم والمتنجیس کماافادہ العلامۃ المقدسی وتبعہ العلاّمۃ نوح افندی ومن بعدہ وھو الذی نعتقد فی دین الله سبحٰنہ وتعالٰی وبہ ظھر الجواب عن ھذا البحث بان لاضرورۃ فی شعر الکلب فعلی قائل النجاسۃ العمل بقضیتھا ثم رأیت البرجندی صرح بہ حیث قال انا قد ذکرنا ان الکلب نجس العین عند بعضھم فینبغی ان یکون شعرہ نجسا عندھم اذلاضرورۃ فی استعمالہ[5]اھ
الخامس : ماعزاہ للمنح مذکور ایضا فی الخانیۃ واعتمدہ واشار الی ضعف التفصیل حیث قال مانصہ الکلب اذا خرج من الماء وانتفض فاصاب ثوب انسان افسدہ قیل ان کان ذلك من ماء المطر لایفسدہ الا اذا اصاب المطر جلدہ وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفصل[6] اھ وقدصرح فی خزانۃ المفتین برمزق لقاضی خان ان شعر الخنزیر او الکلب اذاوقع فی الماء یفسدہ لانہ نجس العین [7]۔ لکن لقائل ان یقول
الدرر کے دو قولوں کے درمیان منافات ہے نیز ضرورت کے زائل ہونے کی صورت میں اس کی حرمت اور نجاست پر سب کا اتفاق ہے جیسا کہ علامہ مقدسی (کے کلام) سے اس بات کا فائدہ حاصل ہُوا اور علامہ نوح آفندی اور ان کے بعد والوں نے ان کی اتباع کی اور دین خداوندی میں ہم بھی اسی بات کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس بحث کا جواب بھی ظاہر ہوا کہ کتے کے بالوں کی ضرورت نہیں پڑتی پس نجاست کے قائل کو اس کے فیصلہ پر عمل کرنا ہوگا ، پھر میں نے برجندی میں اس کی تصریح دیکھی جب انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بعض کے نزدیك کتّے کے نجسِ عین ہونے کا ذکر کیا ہے پس مناسب یہ ہے کہ ان کے نزدیك اس کے بال بھی ناپاك ہوں کیونکہ اس کے استعمال کی ضرورت نہیں اھ (ت)
[1] فتح المعین ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۷۳
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ کارخانہ تجارت کراچی ص۹۰
[3] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۶
[4] شرح النقایۃ للبرجندی ، کتاب الطھارۃ نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳
[5] شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطھارت نولکشور (لکھنؤ) ۱ / ۳۸
[6] فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
[7] فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع