دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

اول : سراج کی عبارت میں “ ھوالمختار کی “ ھو “ ضمیر جیسے “ نجاسۃ الجلد “ اور “ طہارۃ الشعر “ میں سے ہر ایك کی طرف رجوع کا احتمال رکھتی ہے اسی طرح وہ کل یعنی مجموعے کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ دونوں کا مجموعہ ہے لَوٹنے کا احتمال بھی رکھتی ہے۔ پس معنٰی یہ ہوگا کہ قائل کا قول “ اس کا چمڑا ناپاك اور بال پاك ہیں “ یہی مختار ہے نہ اس کا قول جو دونوں کی طہارت کا قائل ہے اور اس وقت تصحیح اس تیسرے قول کی طرف

فی طہارۃ الشعر۔

الثانی :  ظاھر کلامی البحر والدر لا یدخل ولاخلاف لکونھما نکرۃ او فی معناھا داخلین تحت النفی ناطق بنفی الخلاف اصلا وآب عن

البناء علی روایۃ دون اخری ولاحاجۃ الیہ علی ما قررنا عبارۃ السراج کما تری۔

الثالث :  لاغرو فی حمل الکلب علی المیت الغیر المذکی والجلد علی غیر المدبوغ فلر بما تترك امثال القیود اعتمادا علی معرفتہا فی مواضعہا ولذا لما قال فی المنیۃ وفی البقال قطعۃ جلد کلب التزق بجراحۃ فی الرأس یعید ماصلی بہ [1] اھ

فسرہ العلامۃ الشارح ابرھیم الحلبی ھکذا جلد کلب ای غیر مدبوغ ولامذکی یعید ما صلی بہ ای بذلك الجلد اذاکان اکثر من قدر الدرھم وحدہ اوبانضمام نجاسۃ اخری وھذا ظاھر [2]  اھ۔ وح لاملمح لکلام السراج الی قول نجاسۃ العین کما افاد     

متوجہ ہوگی اور نجاست (کتے کے نجس عین ہونے) کے قائلین کے درمیان بالوں کی طہارت میں اختلاف نہیں سمجھا جائے گا۔

دوم : البحرالرائق اور درمختار کا ظاہر کلام “ لایدخل “ اور “ لا خلاف “ نکرہ یا اس کے حکم میں ہیں جو نفی کے تحت داخل ہوکر اختلاف کی بالکل نفی کرتا ہے اور اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ ایك روایت پر مبنی ہو دوسرے پر نہ ہو اور اس کی حاجت بھی نہیں جیسا کہ ہم نے سراج کی عبارت سے ثابت کیا جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔

سوم : کتّے سے مراد غیر مذبوح اور چمڑے سے بغیر دباغت چمڑا مراد لینا تعجب خیز بات نہیں کیونکہ بعض اوقات امثال قیود کو ان کے مقام میں حصول معرفۃ پر اعتماد کرتے ہوئے چھوڑ دیا جاتا ہے اسی لئے جب منیہ نے کہا کہ بقالی میں ہے کتّے کے چمڑے کا ٹکڑا سر میں زخم کے ساتھ چمٹ گیا تو پڑھی گئی نماز لوٹائے اھ۔

علامہ شارح ابراہیم حلبی نے اس کی وضاحت یوں کی کہ اسی طرح کہ کتّے کا چمڑا یعنی جسے دباغت نہ دی گئی ہو اور نہ اس (کتّے) کو ذبح کیا گیا اس چمڑے کے ساتھ جو نماز پڑھی ہے اسے لوٹائے جبکہ وہ تنہا (چمڑا) ایك درہم سے زائد ہو یا اس کے ساتھ دوسری نجاست ملی ہوئی ہو اور یہ ظاہر ہے اھ۔ اس وقت سراج کے کلام میں نجاست عین

ھو رحمہ الله  تعالٰی ولایعکر علیہ بمنافاتہ لما ذکر الولوالجی کما لا یخفی فانہ وان نافاہ فقد وافق لاصح الارجح ولیس السراج ھھنا فی بیان کلام الولوالجی حتی یجب التوافق بینھما۔

الرابع :  ھب ان نجاسۃ العین تقتضی نجاسۃ جمیع الاجزاء لکن لقائل ان یقول لا بدع فی استشناء الشعر الا تری ان الخنزیر نجس العین باتفاق مذھب اصحابنا الثلثۃ رضی الله  تعالٰی عنہم ومع ذلك محمد یقول بطھارۃ شعرہ ففی الخلاصۃ من الفصل السابع من کتاب الطہارۃ شعر الخنزیر اذا وقع فی البئر علی الخلاف عند محمد لاینجس لان حل الانتفاع یدل علی طھارتہ وعند ابی یوسف ینجس لانہ نجس العین ویجوز الخرز بہ للضرورۃ [3] اھ۔

وفی الغرر لمولی خسرو شعر المیتۃ طاھر وکذا شعر الخنزیر عند محمد قال فی الدرر لضرورۃ استعمالہ فلا ینجس الماء بوقوعہ فیہ وعند ابی یوسف نجس فینجس الماء [4] اھ۔

کے قول کی طرف اشارہ نہیں ہوگا جیسا کہ انہوں (صاحب بحر) نے بتایا اور نہ ہی ان پر یہ الزام ہوگا کہ یہ ولوالجی کے کلام کے منافی ہے جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ وہ اگر اس کے منافی ہو تب بھی یہ اس کے موافق ہے جسے ترجیح دے کر اصح قرار دیا گیا ہے اور سراج یہاں ولوالجی کے کلام کے درپے نہیں کہ ان دونوں کے درمیان موافقت واجب ہو۔

چہارم : عین نجاست کا تمام اجزاء کی نجاست کا مقتضٰی ہونا مسلم ہے لیکن قائل کہہ سکتا ہے کہ بالوں کا استشناء کوئی نئی بات نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے تینوں اصحاب (احناف) رضی اللہ عنہم خنزیر کے نجس عین ہونے پر متفق ہیں لیکن اس کے باوجود امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں ، خلاصہ میں طہارت کی ساتویں فصل میں ہے کہ خنزیر کے بال کنویں میں گر جائیں تو اس میں اختلاف ہے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك پانی ناپاك نہیں ہوگا کیونکہ انتفاع کا جائز ہونا اس کی طہارت پر دلالت کرتا ہے امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك ناپاك ہوجائے گا کیونکہ وہ نجس عین ہے اور اس کے ساتھ سلائی کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے اھ۔ مولٰی خسرو کی غرر میں ہے کہ مردار کے بال پاك ہیں۔ اسی طرح امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك خنزیر کے بال بھی پاك ہیں الدرر میں “ ضرورتِ استعمال کے لئے “ فرمایا پس اس کے

 



[1]   منیہ المصلی فصل الآسار مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۵۸

[2]                 غنیۃ المستملی فصل فی الآسار مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۱۹۱

[3]   خلاصۃ الفتاوٰی فصل سابع من کتاب الطہارۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴

[4]   درر شرح غرر ، قبیل فصل بئر ، مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ ، ۱ / ۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن